پرچہ پولیٹیکل سایئنس
(کل نمبر 100 – وقت 3 گھنٹے)
بہار – 2017
شعبہ قانون – جامعہ اتفاق، شاہراہ عدلیہ، اسلام آباد
نوٹ:
1۔ تمام سوالات حل کریں۔
2- سوالات کے نمبر مساوی ہیں 


سوال نمبر 1
(الف) اگر ایک حکمران 70 سال میں سے (آخری) تیس سال ایک ملک پر حکومت کرے اور پھر بیان دے کہ “پاکستان کے حالات کی وجہ ستر سالہ کرپشن ہے”۔ اس بیان کے تناظر میں، نا اہل حکمران کی تعریف اور خصوصیات واضح کریں۔
(ب) اگر مندرجہ بالا حکمران کا اپنا چینی، پولٹری اور صنعتی کاروبار ان تیس سالوں میں ترقی کی انتہا کو پہنچ گیا ہو تو کیا یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس کے کاروبار کی ترقی کی وجہ بد عنوانی ہی ہے اور اسی وجہ سے اس نا اہل حکمران نے بد عنوانی کی بیخ کنی نہیں کی؟ بحث کیجیئے۔
سوال نمبر 2
(الف) ILLIBRAL DEMOCRACY کی تعریف اور انیس سو تہتر کے آیئن کی شق 8 تا 28 کو سامنے رکھتے ہوئے ثابت کیجئے کہ پاکستان ایک REGIME HYBRID ہے۔
(ب) پاکستان کو REGIME HYBRID
کے درجے پر پہنچانے والے ان جمہوری حکمرانوں پر جامع مگر مختصر تجزیہ پیش کیجئے جنہوں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بعد پنجاب پر سب سے زیادہ حکومت کی۔
سوال نمبر 3
(الف) اگر قوم کے ٹیکس پر پلنے والا ایک وزیر اپنے کرپٹ قائد کے دفاع کے لیئے صبح چار گھنٹے کمرہ عدالت میں موجود ہوتا ہے، پھر تین گھنٹے میڈیا ٹاک کرتا ہے اور شام کو چھے بجے سے بارہ بجے تک ٹی وی چینلز پر اسی مقصد کے لیئے موجود ہوتا ہے تو آیئن سٹایئن کے نظریہ اضافت کی روشنی میں یہ سمجھایئے کہ اسکے لیئے وقت کی رفتار سپریم کورٹ میں آہستہ ہو گی، میڈیا ٹاک کے دوران یا ٹی وی پر؟
(ب) اسحاق ڈار کے اس بیان کہ “روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سیاسی صورتحال ہے” اور “THEORY OF PROBABILITY” کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی کتنی LIKELIHOOD ہے کہ مندرجہ بالا وزیر کبھی بھی اپنی ناکامی کی ذمہ داری اپنے دفتر میں موجود نہ ہونے پر نہیں لے گا؟
سوال نمبر 4
(الف) اگر ایک صوبے پرتین دہایئاں حکومت کرنے والا حکمران اس حکومت سے جس نے ایک دوسرے پر 4 سال حکومت کی ہو سے مقابلہ کرے، اس صورت میں نااہلی کی ایک نئی تعریف وضع کیجئے۔
(ب) اگر ایک حکمران جس کے پاس سیاست کا تیس سال کا تجربہ ہو، اپنے منشور میں کیے گئے وعدوں کو یہ کہ کر کر پورا کرنے سے انکار کر دے کہ وہ تو “جوش خطابت” تھا تو اس صورت میں “نا تجربہ کاری” کی تعریف وضع کیجیے۔
سوال نمبر 5
(الف) اگر کسی کی ذاتی زندگی میں پارسائی جاننے کا کوئی متفقہ پیمانہ نہ ہو، اس صورت میں کیا 1973 کے آیئن کی شق 62، 63 غیر ضروری ہو جاتی ہیں؟ دلائل دیجیئے۔
(ب) کیا سوال نمبر3 والا وزیر کبھی یہ تمنا کر سکتا ہے کہ اس کے لیڈر کے بچوں کی جگہ وہ وزارت عظمیٰ کا امیدوار بن جائے۔ چوہدری اور میراثی والی کہانی کے تناظر میں وضاحت کریں۔

 

 

پاکستان اور بھارت کے درمیان چیمینز ٹرافی کا فایئنل دیکھتے ہوئے، ساتھ میں دوستوں کے ساتھ ٹویٹر اور واٹس ایپ پر رواں تبصرے کرتے ہوئے یہ کس کافر کو یاد رہنا تھا کہ وہ سارا دن آفس میں روزے میں کام کے ساتھ ساتھ وہاں موجود کولیگز کے بھیس میں موجود بڑے بڑے جغا دری سیاستدانوں، جن کے آگے زرداری بھی پانی بھرے، کو برداشت کر کے آیا ہے۔ لاری اڈوں کے غسل خانوں میں لکھے اس فقرے کے مصداق کہ “دنیا چن تے پوہنچ گئی، توں اتھے بیٹھا ایں”، جی یہ کاوچ اور یہ ٹی وی اور  یہ میچ اور بس۔ سکور بورڈ پر پاکستان کے بڑھتے رنز کے بعد انڈیا کی ہر گرتی وکٹ کے ساتھ “کچھ برا ہونے والا ہے” والی او سی ڈی اور اینزایٹی کے ساتھ جنگ کے دوران میچ جیتنے کا حد سے زیادہ یقین اور وہی بات کے “لوٹ جاتی ادھر بھی نظر کیا کیجے”۔ میچ جیت بھی جایئں تو کیا پاکستان کی عزت دنیا میں بڑھ جائے گی؟ کیا پاکستان چایئنہ کی کالونی بننے سے بچ جائے گا؟ کیا پاکستان کی یونیورسٹیوں کی رینکنگ اوپر چلی جائے گی؟ کیا اس سے پاکستان کو سلامتی کونسل میں مستقل نشست مل جائے گی؟ کیا اس جیت سے سپارکو نئی دنیاوں کی تلاش میں اپنی ہی سر زمین سے سیٹیلایئٹ لانچ کرنا شروع کر دے گا؟ کیا اس سے نوز شریف جے آئی ٹی میں رسیدیں پیش کر پائے گا؟ کیا پاکستان میں غربت کا خاتمہ ہو جائے گا؟ کیا اس سے شرح خواندگی 100٪ ہو جائے گی؟ کیا بھاشا ڈیم بن جائے گا؟ کیا یہ جیت ان لوگوں کو جنہوں جنت کی طرح گوادر اور ڈی ایچ اے اسلام آباد اوورسیز بلاک میں میں دیکھے بنا پلاٹ بک کراوئے ہیں، اپنی زندگی میں وہاں پر ایک شہر بے مثال بنتا ہوا دیکھ سکیں گے اور وہاں رہ سکیں گے؟ کیا اس سے وہ دن آ جائے گا جس کے بارے میں قدرت اللہ شہاب یہ کہ گئے کہ ایک دن دنیا کے فیصلے پاکستان کی مرضی سے ہوں گے جب کہ حالت یہ ہو کہ ہمارا وزیر اعظم تقریر تو تیار کرتا رہے لیکن عالمی فورم پر اس کو تقریر کرنے نہ دی جائے۔

تو بات گھوم پھر کے وہی کہ ایسا کچھ بھی نہ ہونا تھا اور نہ ہو گا لیکن اس جیت کا حسن اتنا دلکش ہے کہ نظر لاکھ “ادھر” لوٹ جائے جہاں پر خس و خاشاک میں لتھڑی اور  خاک و خون میں نہلائی ہوئی انسانیت کراہ رہی ہو یہ جیت کی خوشی کو کم نہیں کر سکتی ۔  کہ یہ جیت ایسی ہی ہے جیسے کوئی کھوئی ہوئی یاد آئے اور صحراوں میں ہولے سے باد نسیم چلا دے، کسی بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے اور کسی ویرانے میں چپکے سے بہار لے آئے۔ یہ جیت وہ مارفین ہے کہ جس کے نشے میں پچھلے دو دن سے کراچی سے کشمیر اور میلبورن سے ٹورانٹو اور لندن سے جوہانسبرگ تک پاکستانی اپنے مسئلے مسائل بھول کر، جشن منا رہے ہیں۔ یہ جیت ایمسٹرڈیم کے ضلع ڈی والن سے ملنے والا کنابس سے بھرا ہوا سگریٹ ہے کہ جس کو پی کر انسان کچھ لمحات کے دنیا و مافیہا سے بے خبر اور احساس تفاخر سے بھر جاتا ہے۔ یہ جیت فارمولہ روزا پہ 240 کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار پر اوپر جانے اور پھر بلندی سے نیچے آتے ہوئے پیٹ میں ہونے والا  وہ عجیب سا احساس ہے کہ جس کا کوئی نام نہیں۔ یہ  جیت شطرنج کے کھیل میں اپنے مخالف کو شہ دینے سے پہلے ہونے والا ایڈرینالین رش، شہ اور شہ مات کے درمیان ولا ڈوپامین رش اور شہ مات کے بعد والا اینڈورفینز رش ہے۔ یہ جیت داستان امیر حمزہ میں اس اندھیرا چھٹنے  والے پیرا گراف کی لایئن پڑھتے ہوئے ہونے والا احساس ہے جس میں ایک دیو کی عالم بدارواح سے آواز آئے کہ “میں ایک بہت ظالم کالا دیو تھا او مجھے عمرو عیار نے خالی ہاتھوں مارا” اور قاری اپنے آپ کو طلسم ہوشربا میں کوہ قاف کی پریوں کے درمیان محسوس کرے۔ یہ جیت وہ لطیف احساس ہے جو گاوں میں کسی اماوس کی رات چارپائی پر لیٹے ہوئے ملکی وے کہکشاں اور ستاروں کو ٹوٹتے بکھرتے ہوئے دیکھنے میں ہے جو انسان کو یہ احساس دلائے تم اپنا پر شکوہ ماضی دیکھ رہے ہو اور تم حال میں نہیں بلکہ مستقبل میں ہو۔ یہ جیت وہ احساس ہے جو اس آٹھ بچوں  کے والد، غریب کسان کو ہوتا ہے جب چھے مہینے بعد اسکی گندم، کماد، کپاس یا تربوز کی فصل برداشت کے قابل ہو جاتی ہے اور وہ ایک لمحے کے لیئے یہ بھول جاتا ہے کہ اسکا بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے۔  یہ جیت عمران سیریز کے ناولوں والی مظہر کلیم ایم اے کی کی گئی جولیانا فٹر واٹر کی تصویر کشی اور پاکیشیا کا کافرستان اور ایکریمیا کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔ اگر کوئی معجزات پر یقین نہیں رکھتا تو یہ جیت اس کے لیئے عین الیقین ہے کہ تھسارا پریرا سرفراز کا ہاتھوں میں آیا ہوا کیچ چھوڑ دے اور بمراہ نو بال پہ وکٹ لے یا اس کی گیند وکٹ کو ہٹ کرے اور بیلز نہ گریں، یا جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں بارش ہو جائے؟ رین رین گو اوے، کم اگین این ادر ڈے۔ لٹل پروٹیاز وانٹس ٹو پلے۔ رین رین گو اوے- یہ جیت اس بچے کے زہن میں ابھرنے والے اس سوال کا جواب ہے جو “کچھوا اور خرگوش” والی کہانی پڑھ کر پیدا ہوا کہ خرگوش اتنے اہم مقابلے میں سو کیسے گیا؟

سارا دن اس میچ کی ہائی لایٹس دیکھنے، محمد عامر کا سپیل رپیٹ پر دیکھنے، کوہلی اور روہت شرما کا بنا ہوا منہ، انکی می میز ٹویٹر پر پوسٹ کرنے اور واٹس ایپ پر براڈکاسٹ کرنے، اپنے ہندوستانی کولیگز سے میچ کے بارے میں پوچھنے، پھر کرک انفو پر اس میچ کے بارے میں سارے ارٹیکل پڑھنے اور فیس بک پر ہر اس پوسٹ جو میچ کے بارے میں ہو، کو لایئک کرنے کے بعد اب رات کے تین بجے جب میں ٹی وی کے سامنے صرف اس لیئے بیٹھا ہوں کہ سرفراز کا استقبال دیکھ سکوں۔ اس جیت کا نشہ ایک یا دو ہفتوں میں اترنے والا نہیں ہے۔ یہ اب تب تک رہے گا جب تک پاکستان ہندوستان کو دوبارہ شکست نہیں دہتا۔ مجھے ابھی اس سے کوئی غرض نہیں کہ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک تو پاکستان چیمپینز ٹرافی تک کھیلنے کی پوزیشن میں نہیں تھا اور اس تورنامنٹ سے پہلے تک تو ورلڈ کپ میں براہ راست رسائی نظر نہیں آ رہی تھی۔

فی الحال تو جیت کا جشن ہے اور ہم ہیں دوستو! عامر کا سپیل ہے اور ہم ہیں دوستو! اڑ رہی کوہلی کے نام پہ دھول، سرحد پار ٹی وی رہے ہیں ٹوٹ اور سری نگر میں آتش بازی ہے اور۔۔۔ ہم ہیں دوستو!

ان حالات میں اس حب الوطنی زدہ شخص سے اسکا، تعصب، نسل پرستی اور حب الوطنی کے نشے سے دور،  پانچ سال کا بچہ، یہ پوچھے کہ یہ انڈیا کیا ہوتا ہے تو کیا جواب دیا جائے؟ خود ہی معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان پڑھے کا تو سمجھ آ جائے گی۔ خواب تو میرا  بھی ورلڈ ریپبلک کا ہے لیکن اس میں ایسے میچوں کی جیت سے حاصل ہونے والی خوشی ہم کہاں سے کشید کریں گے؟

Since ICJ’s decision about Yadav’s case dated 18 May 2017, so much is being written, said and presented on the media. Merits and demerits of this case and objections by opposition are being raised, tables in the TV studios and assembly are being thumped and, mostly, it is being portrayed that Pakistan is (again) going to lose at international forum.

Let us see how ICJ works and what options Pakistan has now.

ICJ’s Modus Operandi

Simply put, when a common citizen hears the word “court” with reference to the implementation of law, there are three main scenarios that appear in mind, viz.,

  • Defence and prosecution lawyers arguing in front of a learned judge, who is appointed based on the qualification and experience. Judge is not supposed to take sides or in other words act as a counsel of one party or other. He listens to the arguments from both sides and issues an impartial verdict, based on the law and constitution of the state.
  • It is understood that every citizen of the state has submitted to the compulsory jurisdiction of the court. A person cannot just leave the courtroom stating that he does not accept the jurisdiction of the magistrate or judge or the court itself.
  • The verdict is binding and whole state machinery stands behind it to enforce its implementation. The very concept of law is diluted if it is not implemented.

Insofar as International Court of Justice (ICJ) is concerned, none of the above stated three conditions is fulfilled.

Briefly, examining, the ICJ on above there bullet points, we see that;

  • The criteria for the judges to be appointed in the ICJ is not only experience, qualification etc. The judges are elected for a period of nine (09) year through voting in General Assembly and Security Council. In order to have their ‘man’ appointed at ICJ, states carry out extensive lobbying in the UN, taking it as a matter of prestige. The very idea of a judge being impartial, unprejudiced and detached, hence, comes under question. That is why an elected judge is considered an abhorrence in civilized jurisprudence.

As the term of a judge nears, he may seek re-election and again, states start lobbying for votes. It must be kept in mind that there is no free lunch nor a free ride.

  • Since states are universally considered sovereign, this leads to the idea of ICJ’s jurisdiction being voluntary and not compulsory. Every state or country makes a declaration to the court, specifying the matters on which it will accept the jurisdiction of the court. This further makes the role of ICJ limited.
  • Although ICJ may pass judgements and give decisions favoring one country or other, there is no such mechanism for ICJ to get its orders implemented. The only option is Security Council and that only if it is moved by any state against other (deemed defying the court orders). Here, again, comes the diplomacy, favoritism and power play. Powerful states lobby in order to get the veto vote in their favor.

From the above points, one can easily draw an inference about the ineffectiveness of the court. ICJ (formed under the charter of United Nations) acts as more of a diplomatic body than a court which only can hear the cases as presented by states and not individuals.

There is also a provision in the ICJ rules that if there is a dispute before the court concerning some state and it does not have his representative as a judge in the bench, it may appoint an ad hoc judge. The ad hoc judge sits with the permanent judges, enjoys same authorities, and perks as those of permanent judges. The basic reason to appoint an ad hoc judge is to have country’s representation in order to place his country’s point of view in front of other judges. In other words, the ad hoc (like permanent ones) judge assumes the duty of the advocate for the country. Which again goes against the very norms of a judicial system.

May be all-of-the-above points contradict the very idea of an impartial justice system, but at international level only this one is prevailing under the aegis of UNO until we do not find a better system.

As we establish a question mark on the credibility, impartiality and authority of the ICJ, let us briefly examine the laws under which ICJ operates. Since there is no international law, which is supreme and sovereign, i.e. acceptable to all of the countries, there exist multilateral and bilateral treaties, international laws and customs, which are supposed to be binding. In fact, when it suits any country bilateral treaties can be scrapped and considered mere piece of paper.

Pakistan’s Options

Let us now examine the case where India has moved ICJ regarding his national, Kalbhushan Yadav, captured by Pakistan and sentenced to death for spying, subversive and state sponsored terrorist activities.

So far, India has; argued on the basis of Optional Protocol to the Vienna Convention on Consular Relations, 1963 (VCCR), Article 36, disregarding the 2008 bilateral agreement and sough the needed relief from the ICJ albeit Pakistan challenged the jurisdiction of the court and simultaneously argued that case to be dismissed because there was no urgency.

To much of Pakistan’s dismay, the court ordered to ‘stay’ the execution till the hearing at ICJ reached its conclusion, scrapping Pakistan’s arguments and favoring India. The judgement implies that Pakistan has flouted the Vienna Convention Agreement.

The court’s observation can be summarized in simple terms that Pakistan argument that VCCR is not applicable to spies, terrorists etc. since in Vienna Convention Spy is not mentioned at all. Pakistan can also not argue on the double passports of the Kalbhushan Yadav, one of which contains the Muslim name since as the accused confessed in the statement that he was from India, his nationality is established that very moment and irrespective of the name on passport, he is entitled to consular access as per the VCCR. It also goes without saying that court has determined that it has jurisdiction in this case, under Article 36 and 1 of the VCCR. Pakistan can also not move UN to ratify the 2008 bilateral agreement, unilaterally.

Pakistan has requested the court for expedited hearing of the case. Considering, how ICJ works, its (non)impartiality, lobbying by the states, diplomatic relations and international pressure Pakistan may not succeed in getting a favorable judgement.

Pakistan would neither like to present all of the evidences against commander Yadav of his subversive activities in the court, nor seem to grant consular access to the “self-confessed spy and terrorist”. It therefore can be forestalled that Pakistan would raise objection on the very jurisdiction of the court, as it seems to be only option.

Once Pakistan admits the jurisdiction, it is highly unlikely that Pakistan would be able to refuse the court’s orders as India can then move Security Council and considering our current diplomatic debacles, we cannot rely on efficacy of china’s veto vote as well.

Everything is being said and written on the media about jurisdiction but very less on the Pakistan’s Declarations Recognizing the Jurisdiction of the Court as Compulsory dated 29 March 2017 in which Pakistan declared 9 such matters where ICJ’s jurisdiction doesn’t apply. Article ‘e’ specifically excludes the jurisdiction of ICJ where the subject is related it Pakistan’s national security. Pakistan may (must) contest this point in the future. I wonder as to why the article ‘e’ was not invoked in first hearing.

I am sure that Pakistan’s best diplomatic minds and authority on international relations and laws must be evaluating the options or would already have framed the Pakistan’s point of view in this regard, which may be opposite to my assertion. However, currently, to me it seems that if Pakistan goes on to accept the jurisdiction of the ICJ and tries to contest the case on its merit, it will be a lengthy, cumbersome and tiring process (from 1947 till 2017 ICJ has given judgement on 160 cases i.e., 2.28 cases per year) and Pakistan would definitely wouldn’t want that.

In my opinion, if Pakistan wants to take this case to a logical end as per its domestic laws, its focus must be on the jurisdiction of the court and invoking Article ‘e’ of the Declarations Recognizing the Jurisdiction of the Court as Compulsory dated 29 March 2017.

(Reference taken from ‘Roses in December’ by ‘MC Chagla’)

مجھے اس شام واپسی پر معلوم ہوا کہ ایمسٹرڈیم کے “منطقہ لال روشنی” میں اس کثیر منزلہ عمارت کی دہلیز پر بیٹھی ہوئی برگنڈی رنگ کے بالوں والی لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کے کندھے پر سر رکھنا چاہ رہی تھی مگر کیوں نہیں رکھ پا رہی تھی اور اسکا بوائے فرینڈ نہر کے پار، چرچ کے بلند ایستادہ مینار سے اوپر دور خلا میں کیا گھورے جا رہا تھا۔
میں آتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ یہاں ترک بچہ جو فرینچ فرائز کی دکان کھولے بیٹھا ہے کیسے اپنے پیسے پورے کرتا ہوگا اور کون اس کی دکان سے شراب و شباب اور بھنگ کے درمیان، اس سے تلے ہوئے آلو خریدتا ہو گا لیکن اب واپسی پر میں اس کی عقل اور کاروباری دماغ کی داد دے رہا تھا کہ آلو کے نمکین قتلے بیچنے کی اس سے بہتر جگہ تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی تھی!
مجھے اب یہ احساس ہو رہا تھا کہ ڈی والن کے بیچوں بیچ گزرنے والی نہر میں بجروں پر بیٹھے ہوئے وہ بظاہر سست ا لوجود سیاح،  پانی کے شور،  غروب ہوتے سورج کی مدھم کرنوں، بطخوں کی قطاروں اور خنک ہوا کا لطف اٹھا رہے تھے، جن کا وہاں فارغ بیٹھنا مجھے پہلے مجھے وقت کا ضیاع لگ رہا تھا۔ وہ ابھی نیم اندھیر کافی شاپس میں لاوڈ میوزک میں سارا دن گزار کر نکلے تھے اور اب یہ دیکھ رہے تھے کہ سورج کس تیزی سے اس چرچ کے بڑے سے مینار کی اوٹ میں غروب ہو رہا تھا جس میں سے ہر گھنٹے بعد گھنٹیاں بجنے لگتی تھیں۔ کوئی کنفیشن کرے یا نہ کرے، کوئی عبادت کرنے آئے یا نا آئے، صلائے عام ضرور تھی۔ پرندے قطاروں میں واپس جا رہے تھے، سیاحوں کا رش کم ہو رہا تھا-  سارا دن سیاحوں کو دعوت گناہ اور جسموں کی فروخت کے بعد جدید دور کی غلام مخلوق لال روشنی والے کمروں کے شیشوں کے آگے پردے گرا کر کل دوبارہ آنے کے لیئے جا چکی تھی اور سایکلوں کی گھنٹیاں، کاروں کے ہارن، ٹرام کی آواز، پیدل سڑک پار کرنے والوں کے لیئے بزر، بطخوں کا شور اور دور کسی شراب خانے کے ٹی وی سے آتی ہوئی چیمینز لیگ کی کمنٹری کی ہلکی آواز ایک اس قسم کا شور ثابت ہو رہی تھی کہ جس میں انسان اپنی سوچوں اور خیالات کو پڑھنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔
ایمسٹرڈیم کی وہ سڑکیں اور گلیاں تھیں جو دو گھنٹے پہلے تک انجان سی لگ رہی تھیں اب گوالمنڈی جیسی لگ رہی تھیں۔ مجھے وہ سینٹرل اسٹیشن جو پہلی نظر میں کوئی بہت ہی پر شکوہ عمارت لگ رہی تھی اب راولپنڈی اور لاہور کے ریلوے سٹیشن کی دوسرے درجے کی کاپی لگ رہی تھی۔ وہاں پر برہنہ مجسمے اور لاہور کے ریلوے سٹیشن پر پاک کلمات! ادھر مرسیڈیز ٹیکسیاں اور یہاں کالی پیلی مہران، آس پاس گزرتے لوگوں میں جاکھم والز بشیر اور ایلیسے شبانہ۔ بشیر چوہدری صاحب کا قرض دار اور جاکھم کریڈٹ کارڈ کا۔ ایلیسے کی خفیہ طورپر ڈی والن کے کسی دلال سے ڈیل اور پاکپتن کی شبانہ بھی جوہر ٹاون لاہور کے گیسٹ ہاوس میں کسی ایسے ہی مقصد کے لیئے رہے! وہاں کے میوزیم آف سیکس، میوزیم آف پراسٹیٹوشن، میوزیم آف ٹارچر اور مادام تساو میوزیم میں اگر غلاموں، جنگ و جدل اور جاہلیت کے دور کی انسانیت کی تذلیل کی ایک تاریک تاریخ قید تو یہاں پر شیش محل، شاہی قلعے، اور بارہ دریوں میں بھی انسانیت کی چیخیں مقید جہاں پر غلاموں اور لونڈیوں کی حالت زار کے ساتھ ساتھ بیٹوں کے ہاتھوں باپ کو زندان میں ڈالنے کی کہانیاں قید۔ یہاں پر “ایکپیٹس” بہتر مستقبل کی تلاش میں غم جاناں سے بیزار، غم روزگار کا روگ لیئے پھریں اور میرے “ٹرانسپورٹر فلم کے ہم شکل و ہم لباس  ڈرائیور جیسے ولندیزی جوان باہر جانے کے   تگو دو میں۔

ہالینڈ میں الیکشن کا دن تھا اور سیاسی پنڈتوں کو یہ امید تھی کہ گریٹ ویلڈرز جیت جائے گا۔ میرے ٹرانسپورٹر فلم کے ہم شکل و ہم لباس  ڈرائیور کا بھی یہی خیال تھا جو ابھی ووٹ ڈال کر آیا تھا اور  اب کام پر تھا۔ اس چناو کے دن بھی وہاں پر کوئی چھٹی نہیں،کوئی بینر نہیں، کوئی ریلی نہیں کوئی پلے کارڈ نہیں کوئی حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ نہیں کوئی غداری کی مہر نہیں کوئی پولنگ سٹیشن پہ لائین نہیں، کوئی موبائیل سروس بند اور نہ ہی کوئی سکول! ٹرام ویسے ہی چل رہی تھی سیاح اسی طرح بیئر اور  بھنگ میریجوانا والے سگریٹ پی رہے تھے۔ یہ بھی بھلا کوئی الیکشن ہوا؟ میرا ٹرانسپورٹر فلم کے ہم شکل و ہم لباس  ڈرائیور کا یہ رونا کے ہماری جابز ایکسپیٹس لے گئے اور ہم بے روزگار بالکل اسی گرایجویٹ “ٹویٹراتی” کی طرح تھا جو پاکستان کے ہر مسئلے کی جڑ میں افغانی تلاش کریں۔

مماثلتیں اپنی جگہ تو اندیشہ ہائے دور دراز کہ ائے پاکستانیو! تم 11 اگست کی تقریر میں پاکستان کے آیئن کے خدوخال  کو تو سیکولر بناتے ہو، پھر بھارتی قرارداد مقاصد کو لے کے اس میں مزہب کا تڑکا لگاتے ہو۔ کبھی بناتے ہو جناح کو لبرل تو کبھی اسکے نام کے ساتھ “رح” سجا دیتے ہو۔ ایک احمدی سے اس قرارداد کا دفاع کرواتے ہو، بعد میں اس کی پوری قوم کا بھی مقاطعہ کرا دیتے ہو۔ شری چندرا چڈوپادے اور جوگندر ناتھ منڈل کو دیس نکالا دیتے ہو، پھر آپریشن سرچ لائٹ بھی اٹھا دیتے ہو! مزہب کے نام ملک بنایا تھا اس کو پھر قومیت کے نام پر دولخت کرا دیتے ہو! ایک سیکولر اور جمہوری طرز حکومت کا آیئن بناتے ہو پھر اس میں مزہبی شقوں کا تڑکا بھی لگا دیتے ہو۔ اقلیتوں پر کبھی زمین تنگ کرتے ہو تو انکو وزارتوں سے بھی ہمیشہ نواز دیتے ہو۔ لگا بیٹھتے ہو جو امریکہ سے جوت۔ افغانستان کی سنگلاخ چٹانوں میں اپنے خون سے اس کا سرمایہ دارانہ نظام بچا لیتے ہو۔ کسی کی لگائی گئی آگ کو بجھاتے بجھاتے اپنے اپ کو ہی جلا لیتے ہو۔ سٹاک ہوم سنڈروم میں ایسے مبتلا ہوتے ہو کہ یہاں آگ لگانے والوں کو بار بار اپنا بھائی بنا لیتے ہو۔ کشمیر کے نام پر چار جنگیں بھی لڑتے ہو، بھارت کے ساتھ ساتھ باقی ہمسایوں کو بھی دشمن بنا لیتے ہو۔ پھر ایمبیسی کے سکولوں میں اشوک لی لینڈ اور ٹاٹا بسوں پر آنے والے بچوں کو انہی دشمن ملکوں کی فہرست بھی پڑھاتے ہو۔ حرام مشروبوں پہ پابندی لگا دیتے ہو لیکن مری بروری کا منافع بھی ہر سال بڑھاتے ہو! اپنے ملک میں تفرقہ بازی عروج پر لیکن اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کروا دیتے ہو۔ جو کہتے تھے کہ پاکستان پانچ سال نہین نکال سکتا ان کے سامنے گرتے پڑتے کھڑے رہتے ہو! پاکستان، تم ایک گورکھ دھندہ ہو!  پہلے امریکہ اور اب چین، پہلے جہاد اور اب ضرب عضب، پہلے مارشل لاء اب ڈان لیکس، پہلے جعلی کلیم اور اب پانامے، پہلے سعادت حسن منٹو، اب عطالحق قاسمی، پہلے فوجی ڈکٹیٹر اب جمہوری آمریت، پہلے امریکہ کے لیئے جنگیں، اب چین کے لیئے سڑکیں، پہلے دوسرے ملکوں کی ایرلاینز کو بنانے کے لیئے حدمات اب دوسرے ملکوں سے بسیں تک خریدنے کے لیئے قرضے، پہلے سپارکو، اب پانی سے چلنے والی گاڑی، پہلے چین کو دنیا میں متعارف کروایا، اب وہی چین سلامتی کاونسل میں ہمیں دہشت گرد ریاست قرار دلوانے سے بچائے! پہلے بھی کچھ ٹوٹی پھوٹی خود مختاری اب خودمختاری کی تہمت!

انہی منضاد مماثلتوں میں نیند آگئی اور صبح اٹھ کر یہ احساس شدت سے ہو رہا تھا کہ شائد بل ڈاگ کافی شاپ کے اس ہندوستانی نژاد اٹینڈینٹ نے مجھے بھنگ پلا دی تھی!

SUPARCO – An Obituary

Posted: April 25, 2017 in Uncategorized

It was the time when state of Pakistan had not yet started to distinguish its citizens based on faith. Apollo 11 was under construction or in the final stages of testing and humans had not yet landed on the moon.  The race to conquer the space, between USA and Soviet Union, was in full swing. Soviet Union was leading by launching the Sputnik 1 (on Friday, October 4, 1957, at exactly 10:28:34 pm Moscow time) and surprising the world by sending first manned mission into the space (on April 12, 1961). Eight years later humans landed on the moon on 20 July 1969. Later, seven Astronauts visited Pakistan from June 17-19, 1973.

How good were those days?

One may sit back, relax with a glass of cold Rooh Afza, turn news channels off which are airing the breaking news that total budget for science and technology is less than 1KM of Metro Bus and ponder upon the vision of those Pakistanis who worked hard to make Pakistan the first country to start a Space Program of its own in the region. Imagine that moment; Nobel Laureate Professor Abdus Salam convincing the then President, Ayub Khan, to commence the Space Program of Pakistan and president issuing an executive order on September 16, 1961 to Pakistan Atomic Energy Commission (PAEC) to form Space Sciences Research Wing. Thus SUPRACO coming into existence (though not named SUPARCO until 16 September 1964, when SUPARCO started working independent of PAEC).

Pakistani scientists were sent to USA for training by NASA engineers. Epoch-making event for this nascent organization arrived on 07 June 1962 at 1953 hours, when Rahbar series rockets were launched from the Pakistani soil. Yes, you read it right. It was launched from the Pakistani soil at Sonmiani making the country member of those privileged countries’ league who had this technology i.e. USA, USSR, UK, France, Sweden, Italy, Canada, Japan and Israel.  SUPARCO launched Badar I and Badar II, on 16 July 1990 and 10 Dec 2001 respectively and that too from foreign soils. Until then everything seemed going in the considerable right direction.  After that, SUPARCO’s website is silent about satellite program.

Other countries in the region started their space program after that of Pakistan’s are showing to the world their might by either making a world record of launching most number of satellites or by Mars Missions. The answer to this question is hidden somewhere in the SUPARCO website, which states that, “SUPARCO remained under the administrative control of the Cabinet Division until September 2000 for almost 20 years. During this period, only one meeting of the SRC (headed by the President of Pakistan) and 13 meetings of ECSRC (headed by the Federal Minister for Finance) were held. The last meeting of ECSRC was held on 09 September 1999. The SRC, in its first-ever meeting held on 24 December 1984, approved the Long-Term Development Programme of Space Science and Technology in Pakistan, submitted by SUPARCO, which contained projects of national importance”.

The forefathers became history and the new caretakers had more important things to do i.e., politics, plundering, wars and scratching the veneer of progressiveness. Although SUPARCO was graduated and trained from ‘foreign’ universities but there were no jobs in Pakistan for this wunderkind.

Now the situation of this long lost glorified institution of the security state of Pakistan is; SUPRACO is unofficially dead. We have lost our space in the space and orbital slots due to bureaucratic delays and mismanagement. What a farce that Pakistan has the technology to launch Shaheen Missiles but the rocket launching and space missions are alien to Pakistan. Despite being one of the oldest Space Programs and having acquired the facilities and solid knowledgebase right from the start it was put on deathbed by our myopic leaders.

The argument regarding lack of funding is as absurd as that of earth being flat. In 2004 USA spent 0.14%, Europe 0.03%, Japan 0.05%, China 0.02%, Russia 0.06% and India 0.03% of their respective GDP.  So it is just a matter of priority.

This entity, which was supposed to; bring the latest knowledge from Solar System and beyond, keep the nation updated about the changes in atmosphere, be looking into the deep horizons and sees, build our own Positioning System making our aerial defence system and navigation applications independent of GPS, be taking the manned missions to the space by now, be having its own scientific magazines and TV channels, be building indigenous satellites and earning considerable revenue for Pakistan is now swinging between PAEC, NDC and other defence organizations ensuring that our Shaheens hit the target with pinpoint accuracy. One can easily relate the sad demise of SUPARCO by the time it was considered a national and security secret and the (deep) state did not want to give it in the hands of civilian scientists.

We are made to believe that CPEC is going to change the fate of Pakistan and in noise of roads, bridges, metro buses and obsolete coal fired power plants even we have started to sell spices in the name of CPEC abut there is not a single announcement of reviving the space program except an initial proclamation which has yet to see the light of the day! Even if such project is materialized, it will not serve the purpose if it doesn’t include launching and production of satellites indigenously i.e. from Pakistan’s soil by Pakistani scientists. This is the only way of SUPARCO’s resuscitation. Till then we will have to rely on others for understanding meteorites, comets, moons, craters, stars, neutron stars, black holes, constellations, realm of nebulae, galaxies, matter, dark matter and time. What a far cry!

The voyager was launched in 1977, roughly 18 years after the SUPARCO was formed which has now left the solar system and we are still there where we were in 1977 and the epitaph on SUPARCO’s grave says, “I was killed, not died my natural death”.

میں میاں محمد نواز شریف ولد  میاں محمد شریف سکنہ جاتی امراء رایئونڈ، ضلع لاہور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ مجھے آج پہلی دفعہ پتہ چلا کہ غالب یعنی ہم سے پہلے کوئی میر یعنی ویٹو کورلیونی بھی تھا اور اسکو گاڈ فادر کہتے تھے۔ اس نے بھی جرائم کر کر کے ایک ایمپایر بنا لی تھی۔ وہ جو بھی تھا آج میں اس کو چیلنج کرتا ہوں کہ میں جو جاتی امراء، ماڈل ٹاون اور ڈونگہ گلی سے لیکر پانامہ اور لندن تک  اس سے بھی زیادہ اپنی الحمدللہ پراپرٹی بنا چکا ہوں، آج جو میری لوہے کی فیکٹریاں سب سے زیادہ منافع کما رہی ہیں، آج جو پورے پنجاب یعنی 60 فیصد پاکستان کی بیوروکریسی میری جیب میں ہے۔ بیٹ دیٹ۔ ایک فرق یہ بھی ہے کہ وہ افسانوی کردار تھا اور میں زندہ جاوید جیتا جاگتا کردار ہوں۔ کیسے اس عدلیہ میں اتنی جرات پیدا ہو گئی کہ وہ میرے سے میرے پیسے کا حساب مانگے۔ ججز نے تو گاڈ فادر کے ناول سے اپنی ججمنٹ کا آغاز کر کے ایک غیر انسانی، غیر اخلاقی اور اگر میں یہ کہوں کہ غیر مذہبی کام بھی کیا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ باقی باتیں اپنی جگہ پر لیکن ججز کے اس فعل میں سے مذہب سے دوری کا جو شایبہ پیدا ہو رہا ہے اسکو انصار عباسی اور اوریا مقبول جان دیکھ لیں گے۔ میں اس پر کیا کہوں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کسی آیت یا حدیثؐ سے ججمنٹ کا آغاز کیا جاتا۔

یہ وہ پہلی چیز تھی جو مجھے پانامہ والے کیس کے فیصلے سے پتہ چلی۔ باقی بیٹی نے موبایئل فون فل چارج کیا ہوا تھا اور اپنے چاچو کو بھی گھر پر دعوت دے رکھی تھی۔ جیسے ہی فیصلہ جیو ٹی وی پر نشر ہوا اس نے فوراَ ملازم کے ہاتھ میں فون دیا، مجھے بھائی سے گلے ملنے کا کہا اور ایک تصویر اور بنائی اور اسی وقت ٹویٹر پر اپلوڈ کر دیا۔ آجکل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، کیا کریں بھائی، ضروری ہوتا ہے۔ میں نے اسی وقت بھائی کو بتایا کہ اتنی ایفیشنسی سے کوئی مستقبل کا وزیراعظم ہی کام کر سکتا ہے۔ بھائی نے میری بات سن کر مجھے برخوردار حمزہ کا سلام پہنچایا۔ ویسے تو جس دن سے میں نے اقتدار سنھالا ہے اس دن سے آج تک کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب میری اور میرے بھائی کی شکل اخباروں میں عوام کے پیسے سے نہ چھپوائی گئی ہو! لوگوں کو پتہ چلنا چاہئے کہ ہم کام کر رہے ہیں چاہے زمین پر کام نہ ہوا ہو۔ لوگ اشتہار دیکھ کر ہی تو ووٹ دیتے ہیں۔ ایک آپس کی بات آپ کو بتاوں کہ جتنی دفعہ میری شکل اخباروں مین چھپی ہے کم و بیش اتنی ہی دفعہ جنگ کراچی کے حیدر آباد کے صفحے پر اس کچرے کی تصویر بھی چھپ چکی ہے جو بلدیہ اٹھا کہ نہیں دے رہی۔ عوام نے پھر بھی پیپلز پارٹی کو ہی جتوانا ہے۔

دو ججوں نے مجھے جھوٹا اور خائن قرار دیا تو تین نے میرے صادق اور امین ہونے پر صرف شک کا اظہار کیا۔ کیا اس سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ پورا پاکستان میرے پر اعتماد کرتا ہے۔ میں ایسی عدالتوں کو ویسے نہیں مانتا لیکن بین الاقوامی  اور اقوام متحدہ کے قوانین کی وجہ سے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں! نہیں تو دل تو میرا بھی کرتا ہے کہ چین اور ترکی جیسا ماڈل پاکستان میں لے آوں اور ایک ہی پارٹی یعنی مسلم لیگ نواز اس ملک میں راج کرے یا ایک ریفرینڈم سا کروا کے صدر بن جاوں اور سارے اختیارات اپنے اور اپنے خاندان میں بانٹ دوں۔ سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے! میں سنجھ رہا ہوں کہ آپم کیا کہنا چاہتے ہیں کہ ڈی فیکٹو تو میرا خاندان ہی یہاں پر راج کر رہا ہے یعنی عابد شیر علی جیسے نامعقول شخص سے لیکر اسحاق ڈار اور میری بیٹی جس کے باس کوئی عہدہ نہیں ہے، لیکن یہ قانون کی تلوار میرے سر پر لٹکتی رہتی ہے کہ ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی اس پر سول اٹھا دیتا ہے۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری! میں ایک سرمایہ دار ہوں اور سرمایہ دار کا بنادی مقصد اقتدار میں آنا ہوتا ہے چاہے وہ پردے کے پیچھے سے ہو جیسا کہ ملک ریاض یا سامنے آکر جیسے شاہد خاقان عباسی اور میر شکیل الرحمان! آپ یہ دیکھیں کہ جیسے ہی فیصلہ آیا سٹاک مارکیٹ میں بلش ٹرینڈ تھا اور لوگوں نے دس منٹ کے اندر اربوں روپوں کا منافع کما لیا۔ جیو ٹی وی اس پر بریکنگ نیوز دے رہا تھا اور میرے کارکنان اس کی سوشل میڈیا پر لایئو سٹریمنگ کر رہے تھے۔ عوام کو کیا پتہ کہ مارکیٹ مینیپولیشن کس چڑیا کا نام ہے۔ مجھے اس قوم نے ووٹ دیا ہے جو مہنگائی میں پس رہی ہے لیکن وہ  پھر بھی صرف  پانامہ کا فیصلہ سننے کے لیئے میٹرو پر جا جا کر ایل سی ڈیز خرید لیتی ہے چاہے بچوں کی سکولوں کی فیس رہ جائے۔ میرا سلام ہے گوالمنڈی کے اس کارکن کو جس نے بڑی سکرین پر یہ فیصلہ سننے کا اہتمام کیا تھا اور فیصلے کے بعد بھنگڑے ڈلوائے تھے۔ محفل ہوئی تھی۔ ٹی وی والوں نے یہ سب لایئو دکھایا تھا۔سیدھی سی بات ہے کہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔

پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ اس سارے پانامہ کیس میں وکلا کا خرچہ، انکی رہایش اور بورڈنگ لاجنگ سب قومی خزانے سے ادا کی گئی ہے۔ اخباروں اور ٹی وی پر اپنی فتح کے اشتہار بھی اسی عوام کے ٹیکسوں سے دیے گئے ہیں۔ وہ میرا لونڈا سعد رفیق جو میرے لیئے اپنا لہو حاضر کرنے کے بینر سڑکوں پر لگاتا پھر رہا تھا وہ بھی عوام کے خرچے سے تھا۔ آپ کو تو شائد پتہ بھی نہ ہو کہ یہ جو پی آئی ڈی ہے جہاں پر سپریم کورٹ میں ہر پیشی کے بعد دانیال، جسے عمران خان موٹو گینگ کا نمایندہ بتاتا ہے، پریس کانفرنس کرتا تھا اس کا بل بھی عوام کے ٹیکسوں سے ادا کیا جاتا تھا۔ یہ عمران خان یہ سراج الحق یہ شیخ رشید جیسے تھالی کے بینگن کیا جانیں کہ حکومتیں کیسے چلتی ہیں ۔ جہاں تک بات ہے زرداری صاحب کی تو وہ اور میں تو ایک ہی ہیں۔ انکا مقصد اپنی زرعی سرمایہ داری کا تحفظ ہے اور میرا اپنی صنعتی سرمایہ داری کا تحفظ۔- یہ جو ہم نے میثاق جمہوریت کا ڈھونگ رچایا تھا آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ جمہوریت کے لیئے تھا؟ جی نہیں! کیونکہ ہم جمہوری ملک ہیں ہی نہیں۔ جی نہیں میں عمران خان جیسے کوتاہ اندیش کے کسی گھٹیا بیان کا حوالہ نہیں دے رہا ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے اس سے پہلے برطانیہ کے اکنامسٹ انٹیلجنس یونٹ کا نام بھی نہیں سنا ہو گا جو پاکستان کو ہایبرئڈ ریجیم میں بریکیٹ کرتا ہے۔ کہان کی جمہوریت اور کہاں کے جمہوری ادارے۔ کیسی عدالتیں اور کیسی جے آئی ٹیز۔  کیا یہ محض اتفاق ہے کہ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ججز میرے خلاف فیصلہ دیں اور باقی تین پنجابی جج مجھے اور موقع دے دیں۔ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے۔ اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے۔

ججز نے جس ناول کا حوالہ دے کر اپنی ججمنٹ شروع کی ہے، مجھے ابھی ابھی برادرم عرفان صدیقی نے ایک پرچی پر اسکا ایک اور ڈایلاگ بھی لکھ کر بھیجا ہے جس کا ترجمہ ہے کہ میں اسکو ایسی پیشکش کروں گا جسکو لینے سے وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ خواجہ سعد رفیق سے بات ہوئی تو کہنے لگا کہ پانچ میں سے صرف دو ججز نے مجھے نا اہل کرنے کی سفارش کی ہے باقی کہتے ہیں کہ تھوڑی اور تحقیق کر لیں۔ اور وہ تحقیق ہمارے ادراوں سے کروایئں گے۔ پھر وہ بتانے لگا کہ ایف آئی اے، نیب، سٹیٹ بینک، سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمایندے اس تحقیق نیں شامل ہوں گے جن میں سے زیادہ تر ہمارے ہی بھرتی کیئے ہوئے ہیں تو پریشانی کی کوئی بات نہین۔ مجھے تسلی دیتے ہوئے کہ ریا تھا کہ جس طرح جوا خانے میں جواری ہارتے ہین جوا خانہ نہیں، اسی طرح حکومت بھی کبھی نہیں ہار سکتی اور آپ کے لیئے ہمارا لہو حاضر ہے۔ !!! آپ لوگ جانتے ہیں کہ ان سارے اداروں میں وہ تمام لوگ جو آگ سیکریٹری کے عہدے پر پہنچ چکے ہیں وہ ضیاالحق شہید کے دور سے لیکر اب تک میں نے خود بھرتی کروائے ہیں۔بے بی فنگر بے بی فنگر ویر آر یو!! ہیر آئی ایم ہیر آئی ایم ہاو ڈو یو ڈو۔

مجھے معلوم ہے کہ آج آپ لوگ میرے پاس اس پیسے کا حساب مانگنے آئے ہیں جسکا جواب میں 126 دن کی سپریم کورٹ میں سماعتوں کے دوران بھی نہیں دے سکا۔ اب آپ لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ اس دو مہینے کی جے آئی ٹی میں آپ کو یہ سب معلومات مل جایئں گی؟ ابھی تو ججز بیمار پڑیں گے۔ ابھی تو بینچ ٹوٹیں گے اور نئے بینچ بنیں گے۔ابھی تو جج چھٹی ہر جایئں گے۔ ابھی تو آئی آیس آئی اور ایف آئی آے کے نمایندوں پر عدم اعتماد ہو گا، ابھی تو جی آئی ٹی پر میرے بچوں کو ہراساں کرنے کے الزامات لگیں گے، ابھی تو سٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے نمائندوں پر اپوزیشن اقربا پروری کا الزام لگائے گی۔ ابھی تو جلسے ہوں گے، لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بنے گی، فوج کے سربراہ کے بیان ایئں گے، اخباروں میں اشتہار چھپیں گے، اینکرز لوگوں کو بلا بلا کر لڑوایئں گے اور اپنے مالکوں کو پیسہ بنا کر دیں گے۔ مرے سے استعفی منگا جائے گا تو میرے کارکن جلسوں میں بازو دکھا دکھا کر اور ایڑیاں اٹھا اٹھا کر، منہ سے کف گرا کر یہ چیلنج دیں گے کہ جاہئے استعفی، لے لو گے استعفی؟  صالح ظافر اور طاہر خلیل میرے حق مین خبریں اور عطا اللحق قاسمی کالم لکھیں گے۔ یہ دیکھیں یہ سری پائے اور کڑاہی میں نے ابھی گوالمنڈی سے منگوائی ہے۔ آیئے مل کر کھاتے ہیں کہ میں میاں محمد نواز شریف ولد محمد شریف سکنہ جاتی امراء رایئونڈ، ضلع لاہور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میرے پاس اگر منی ٹریل ہوتی تو پہلے ہی عدالت میں جمع کرا چکا ہوتا!!!

The Moment of Truth

Posted: April 10, 2017 in Uncategorized

It was that time, when the prerogatives of the institutions were being enhanced, new laws were being enacted and amendments introduced to the constitution in order to bring the accomplices of criminals and criminals themselves to the book. No one was repudiating even if someone had objection was showing sullen acquiescence with tears in the eyes.

It was not so long ago when the nation was swaying their heads on the tunes of the state institutions. Billions of corruption scandals of so-called scoundrels were being unearthed. The state machinery, from a Section Officer of Interior Ministry secretariat till top brass at GHQ, was working overtime to fight a legal battles from session courts to apex ones in order to get the judicial and physical remands of the corrupt, receive and type orders to put their names on Exit Control List.

That was the season when JIT reports were being promulgated and confessional statements were being streamed live on the social and mainstream media. Sturdy partisans were then being arrested from their hospitals, captured from abroad with fake foreign passports, red warrants were being issued and political parties were denouncing their affiliation with respective parties. Tables were being thumped in the Parliament and pressers were being held outside. The art of polemics was being reshaped when everyone seemed in accord at one point of thanking. Establishment, which was once focus of aspersions from political and civil society was then enjoying exalts from them. Every day was Thanksgiving Day.

Now say hello to the acquitting season as our own ‘herrenvolks’ are regaining the lost conceit. The then in power, whom garlands of thankyou were once presented, are now subject to the pelting of the words. Their ulterior motives are now expounded in public meetings. The stories of victimization are now dramatized by demagogues. We are told that it was a sacrilege to the sanctity of democracy when those evidences were being presented and accused were shown in handcuffs on TV screens. It is announced that courts have vindicated their stance of being as innocent as the newly born. The then powerful has condescend now.

Those who portrayed themselves as messiahs are now kneeling in front of the symbols of the so-called status quo. All those irrefutable, untenable and solid evidences once shown to the public in live transmissions prior to be presented in courts have no worth now. The arguments of felicitous counsels in front of judges are proven bosh. The money spent from exchequer to keep the accused in the safe precinct cannot be audited. The public who was expecting the commensurate sentence from the court is now busy waiting for judgement of the mother of all scams a.k.a. Panama Leaks.

No questions are now being asked nor a single eyebrow being raised as to why those piles evidences, which were collected, could not see the light of the day in the courtroom. If the evidences were not sufficient, why was there so much uproar? The multitude is now being fed with the story that those arrests were boondoggle, carried out ostentatiously.

It is the moment of truth for this Judicial System, when even Security Institutions and parliament, show no reliance on the efficacy of the Civilian Judicial System by introducing Military Courts and Jirga System. It seems the pundits have achieved the nirvana and realized that evidences, legal proceedings, counsels and live streaming on media is worthless till there is politicized prosecution. Courts can only pass judgements on the evidences being presented, withdrawn and most often manipulated. What will a judge do when the investigating officer is dishonest and is hiding fact in front of the court or politicized prosecution officer fails to produce witness on the hearing day? Yes! This is how politics and policing go hand in hand in my country. “Scoundrels” come out of the courtroom with the sign of victory and keep on inculcating the poor masses, “see court has acquitted me”!

Meanwhile, HRCP says that after executing in encounter, it is easy to declare all of them terrorists. Dear Innocent HRCP, don’t you think the security agencies know our judicial and prosecution system more than you? Baby Baby? Yes papa! Eating sugar? No papa! Telling Lies? No papa! Open your mouth! Ha ha ha.