Archive for April, 2016

پچھلے دنوں حامد میر صاحب کا کالم بھٹو اور بلاول کی سمجھداری سے متعلق پڑھا جس میں قابل احترام کالم نگار نے اپنا مقدمہ  کہ “بلاول زیادہ سمجھدار ہیں یا بھٹو”، بلاول کی اس حالیہ تقریر پر رکھا جس میں انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ ‘پاکستان کا صدر صرف ایک مسلمان شخص ہی کیوں ہو سکتا ہے’ اور اس کے رد میں یہ دلیل دی کہ چونکہ انیس سو تہتر کے آئین میں صدر کے لئیے مسلمان ہونے کی شرط رکھی گئی ہے اس لئیے اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

دوسرا انہوں نے کچھ ممالک کی مثال دی جس میں صدر اور وزیراعظم کے کے لئے کیسے خاص مذہب سے وابستگی ضروری رکھی گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ معلومات  پیو ریسرچ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔   اس طرح کی امثال کے بعد انہوں اپنا رخ اپنے خاص اسلوب کی طرف کر لیا اور جس طرح کے ان کے مستقل قاری جانتے ہیں کہ وہ اپنے ہر دوسرے کالم میں کسی نامعلوم سفارتکار یا سیاستدان سے اپنا مکالمہ بیان کرتے ہیں (انکو شائد معلوم ہے کہ کوئی اس مکالمے کا ثبوت نہیں مانگے گا) اور اس مکالمے کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نامعلوم سیاستدان یا سفارتکار حامد میر کے خیالات سے یا تو متفق ہوتا ہے یا وہ میر صاحب کے خیالات سے اتفاق رکھتا ہوتا ہے یا  آخر میں حامد صاحب اسکو قائل کر لیتے ہیں۔

اس مکالمے میں میں  بھی پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی اور سینٹر صاحب بلاول پر پھبتی کستے رہے اور کف افسوس ملتے رہے کہ وہ اپنے والد کے بنائے ہوئے آئین سے غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں اور یہ کہ پیپلز پارٹی کا ووٹر جو آج بھی بھٹو کے نام پر ووٹ دیتا ہے ان سے یہ پوچھ رہا ہے کہ بھٹو زیادہ سمجھدار یا بلاول اور مسلسل حامد میر کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔

یہاں  پر کچھ سوالات جنم لیتے ہیں۔

ایک تو یہ کہ کیا حامد میر صاحب نے یہ فرض کر لیا ہے کہ 1973 میں آیئن منظور ہو جانے کے موقع پر پاکستان کے عوم کا اجتماعی شعور اپنے اوج کمال پر تھا اور اس کے بعد اس آیئن میں کسی قسم کا بدل نہیں ہو سکتا؟ جب جدید دور کی ہر ریاست اپنا ایک آیئن بناتی ہے جس میں ملک کے شہریوں کے حقوق اور ریاست کے جملہ فراٰیض متعین کر دیے جاتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کے بعد مقننہ کو تالا نہیں لگا دیا جاتا بلکہ ریاست اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مقننہ کے اجلاس لازمی ہوں’ جمہوری عمل کے لیئے چناؤ بھی ضرور ہو تو ایسے میں ریاست اس بات کا اعادہ کر رہی ہوتی ہے کہ آج منظور شدہ آیئن میں بہتری کی گنجایش موجود ہے اور اس میں حالات کے مطابق تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی آیئن کی کسی شق میں تبدیلی کی بات کرے تو اس کو نا سمجھ ہونے کا طعنہ دینا دانش مندی نہیں ہے۔ میر صاحب کی نظر میں سمجھداری کی تعریف کیا ہے؟ اگر انکی نظر میں سمجھداری کسی ایک نظریے پر جامد ہو جانے کا نام ہے تو میں نہایت ادب کے ساتھ اس سے اختلاف کروں گا۔ نظریہ کسی قوم کے اجتماعی شعور کے تابع ہوتا نہ کہ اجتماعی شعور کسی نظریے کے۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ اقوام کا اجتماعی شعور کبھی بھی جامد نہیں ہوتا اور نہ اس کو ہونا چاہیے ورنہ ایسی اقوام کا وہی حال ہوتا ہے جو آج پاکستان کا ہو رہا ہے۔ یہی جامد نظریہ آج ہمارا آدھا ملک کھا چکا ہے اور باقی کا ملک ایک طرح سے نظریاتی کونسلوں اور ان کے دفاع کے لیئے موجود ڈندہ بردار ہجوم کے ہاتھ میں آ چکا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ آج ستر سال ہونے کو آئے ہیں پاکستان کو بنے ہوئے، ہم نے قرارداد مقاصد منظور کر لی؛ ہم نے آیئن میں ملک کا نام مذہنی کر دیا، ریاست نے ایک گروہ کو غیر مسلم قرار دے دیا، آیئن میں اسلامی شقیں ڈال دیں، پھر بھی ہمیں کوئی ایسا خوف دامن گیر جو ہمیں ہر وقت ستاتا ریتا ہے اور راتوں کی نیندیں حرام کیئے رکھتا ہے۔ یہ خوف کبھی ہم سے نظام مصطفیٰ کی تحریک چلواتا ہے تو کبھی افغان جہاد میں ہم سے ایک سیکولر اور سرمایہ دار ملک امریکہ کے پیسوں سے جہاد کرواتا ہے؟ ہمارا یہ خوف کبھی ہم سے عیسایئوں کی بستیاں جلواتا ہے اور کبھی ڈی چوک پر دھرنا دلواتا ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا حامد صاحب اس بات کو اچھا سمجھتے ہیں کہ وہ ووٹر جو آج تیس چالیس سال بعد بھی پیپلز پارٹی کو بھٹو کے نام پر ووٹ دیتا ہے، کیا  اس کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کی دانشمندی یا سمجھ بوجھ پر سوال اٹھایے؟ کیا اس ووٹر کی سوچ آج کے جدید صنعتی معاشرے کی عکاسی کرتی ہے؟ کیا ایسا شخص جو آج بھی 1970 میں رہ رہا ہے، اس سے یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ آج کے دور کے جدید تقاضوں کو سمجھتا ہے؟ ایسا ووٹر جو آج صرف شخصیت پرستی کی وجہ سے کسی پارٹی کو ووٹ دیتا ہے کیا وہ کسی قسم کی نظریاتی کفتگو یا کسی نظریے پر اپنی رائے دینے کا حق رکھتا ہے ؟ جب کہ بلاول کا اٹھایا گیا نکتہ خالصتاَ نظریاتی نکتہ ہے جس کا جواب بھی دلیل کے ساتھ اور نظریاتی بنیادیوں پر دینا چایئے بجائے اس کے کہ اس نظریے کو صرف اس بنیاد پر رد کر دیا جائے کہ وہ ووٹر جو بھٹو کے نام پر پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتا ہے وہ ناراض ہو جائے گا۔ حامد میر صاحب آپ اس سے بہت بہتر ہیں، دلیل کہاں ہے؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ میر صاحب ان اراکین اسمبلی کو سمجھاتے کہ وہ لوگ لیڈران ہیں اور انکو عوام کو آگے بڑھ کر کمان کرنے کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ انکا کام یہ نہیں ہے کہ وہ ہر پانچ سال بعد شخصیت پرستی کے نام پر ووٹ بٹور کر مقننہ میں آ جایئں۔ ان کو چاہیے کہ اپنے کام اور نظریاتی بنیادوں پر ووٹ لے کر آیئں- وہ کب تک عوام کے مذہنی اور سیاسی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہیں گے۔ بہرحال میر صاحب نے یہ کہنا تھا اور نہ کہا بلکہ ان معزز اراکین اسمبلی اور سینٹر صاحب کے اس ‘گلے’ کو ایک پراپیگنڈہ اور دلیل کی طرح استعمال کر کے آگے بڑھ گیئے۔

جہاں تک حامد صاحب کی اس دلیل کا تعلق ہے کہ کچھ دوسرے ممالک میں بھی سربراہ مملکت  کے لیئے کسی خاص مذہب سے تعلق ضروری اور پاکستان اس میں اکیلا نہیں ہے تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ہر ملک کا ایک اپنا نظام اور اپنے معروضی حالات اور اپنی تاریخ ہوتی ہے جس کی بنیاد پر اقوام اپنے فیصلے کرتی ہیں۔ آج کسی غیر جمہوری معاشرے کے قوانین کو پاکستان کے اس معاشرے پر، جہاں جمہوریت کی ایک تاریخ ہے، مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان خالصتاَ ایک سیکولر جمہوری عمل کی پیداوار تھا، تو حامد میر صاحب غیر جمہوری معاشرے اور ایسے معاشرے جہاں پر جمہوریت ابھی نئی نئی آئی ہے، کی مثالیں دے کر کیا باور کروانا چاہ رہے ہیں جب کہ ایسے ممالک بھی اب سیکولر روایات کو اپناتے نظر آرہے ہیں؟ کیا حامد میر صاحب اس بات سے انکار کریں گے کہ پاکستان کے جملہ ادروں نے، سپریم کورٹ سے لیکر ہر ادارے میں غیر مسلم سربراہان دیکھے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے کچھ شہریوں کو درجہ دوم میں ڈال دینے سے اور پاکستان کو کی ریاست کو زیادہ سے زیادہ مذہبی بنانے سے عام آدمی کی صحت پر کیا اثر پڑا ہےاور کیا پاکستان کی عالمی سظح پر اہمیت بڑھ گیئی ہے؟ حالت یہ ہے کہ آج پاکستان اقوام متحدہ کا ایک الیکشن بھی ہار چکا ہے۔ کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ اگر آیئن میں غیر مسلم صدر کی گنجائش ہوتی تو کونسا پاکستان کے عوام کا معیار زندگی بلند ہو جانا تھا یا پاکستان نے اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کی کمیٹی کے سربراہ کے لیئے ہونے والا الیکشن جیت جانا تھا؟ سوال پھر بھی وہیں پر ہے جب اس سےعام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو پھر آیئن میں ایسی شقوں کا کیا فائدہ ہے؟

میر صاحب نے کھینچ تان کے برطانیہ کی ملکہ کے لیئے عیسائی ہونا ثابت کیا ہے۔ میر صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ برطانیہ میں ملکہ یا بادشاہ کا عہدہ صرف نمایشی ہے اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایک غیر عیسائی منتخب وزیر اعظم جب ملکہ کے پاس اپنے وزارت کے کاغذات کے ساتھ حاضر ہو گا تو ملکہ اسکو اس بنیاد پر مسترد کر دے گی کہ وہ عیسانی نہیں ہے؟ کیا ملکہ کے پاس یہ اختیار ہے؟ ہمارے آیئن میں تو ایسا لکھ دیا گیا ہے اور اکثریت کے مذہب سے تعلق نہ رکھنے والوں کو دوسرے درجے کا شہری تسلیم کیا گیا ہے۔  کیا آپ یہ ثابت کر سکتے ہیں؟ آج لندن کی میر شپ کے لیئے ایک اہم امیدوار مسلمان ہے تو کیا برطانیہ کا صدیوں پر محیط عیسایئت پر مبنی نظریہ خطرے میں ہے یا ملکہ نے صادق صاحب کے الیکشن لڑنے پر پاندی لگا دی ہے؟

بات ہو جمہوریت اور سیکولر اقدار کی اور بھارت کی مثال دیے بغیر بن جائے، یہ کیسے ہوسکتا ہے، جبکہ قلم پاکستانی کالم نگاروں کے ہاتھ میں ہو۔ میر صاحب نے بھی ہندوستان کی مثال دی ہے  اور یہ باور کروانے کو کوشش کی ہے کہ چونکہ پاکستان میں اقلیتوں کے لیئے مخصوص نششتیں ہیں، آیئن میں انکے حقوق کی ضمانت دی گیئ ہے اور انکو بھارت کی طرح عام انتخابات میں الیکشن نہیں لڑنا پڑتے اس لیئے پاکستان بھارت سے بہتر ہے۔ اور ساتھ میں یہ بھی فرما دیا کہ پاکستان میں اقلیتیں ہندوستان کے مقابلے میں کم ہیں۔ معافی کے ساتھ میں یہ کہنے جسارت کروں گا کہ یہ دونوں دلائل انتہائی بودے ہیں۔ میر صاحب! حقوق کوئی خیرات نہیں ہوتے کہ انکو بانٹا جایے۔ ایک ریاست میں رہنے والے سب لوگوں کے حقوق برابر ہوتے ہیں۔ اصل جھگڑا ہی یہی ہے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آیئن میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے  تو ہم ایک گروہ کو برتر اور دوسرے کو کم تر سمجھ رہے ہوتے ہیں اور یہ کہ برتر گروہ اپنے سے کمتر گروہ کو حقوق دان کر رہا ہے۔ جب ایک ریاست وجوود میں آگئی تو اس ریاست کے سب شیریوں کے حقوق برابر ہو گیئے۔ اس میں آیئن کو کسی خاص مذہب، رنگ یا نسل سے تعلق رکھنے والوں کو حقوق کی ضمانت دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اب بھارت میں اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں تو پاکستان کا بھی انسانی حقوق کے حوالے سے ٹریک ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے پھر بھی کیا وجہ ہے کہ بھارتی مسلمان سیکولرازم کے دفاع کے لیئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے پر آمادہ نظر آتے ہیں؟ یاد رہے کہ جئے ہند کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنا سیکولرازم نہیں مودی ازم کا شاخسانہ ہے۔ ویسے بھی “تجھے پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو”!!! پاکستان کی غیر مسلموں کو وزارتیں دینے کی روایت اگر پرانی ہے تو ایسے وزراء کی پاکستان چھوڑ کر جانے کی روائت بھی اتنی ہی پرانی ہے۔

1973 کے آیئن میں اگر کوئی ایسی بات لکھ دی گئی ہے جو جدید نظریات سے میل نہیں کھاتی تو خاطر جمع رکھیے کہ عوام کا اجتماعی ذہنی شعور اسکو بدل دے گا، کہ قانون سازی کے لیئے ہر پانچ سال بعد چناؤ کروانے کا یہی مطلب ہے کہ “ثبات ہے بس ایک تغیر کو زمانے میں”! جب ہم جمہوریت جو کہ اور سیکولر سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے کو قبول کر چکے ہیں تو اسی نظام کے اندر رہتے ہویے قانون سازی ہورہی ہے۔ آپ کہاں تک اور کب تک ایک سیکولر نطام میں رہتے ہوئے اس نظام کی روح سے رو گردانی کر سکتے ہیں؟ بلاول کی تقریر، اکیسویں ترمیم، غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون سازی، حقوق نسواں کا قانون وغیرہ اسی کا شاخسانہ ہے۔

 

 

 

Advertisements