Archive for June, 2016

نوید ہو اوریا مقبول جان کو اور عامر خاکوانی جیسے دانشوروں کو کہ ایک اور احمدی تاریک راہوں کا مسافر ہو گیا۔۔ جو آگ انہوں نے اپنی پوسٹس، کالمز اور ٹی وی پروگرام کے زریعے لگایی تھی وہ آج ایک احمدی کا گھر چاٹ گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ معاملہ چالیس سال پہلے سیٹل ہو چکا اسکو اب کیوں چھیڑتے ہو۔۔ سوشل میڈیا پر سوال کیوں اٹھاتے ہو۔۔ اوریا اور خاکوانی صاحب، کیا پاکستانیوں کو شعور چالیس سال پہلے اپنے اعلی وارفع مقام پر پہنچ چکا تھا اور اس میں اب بہتری کی گنجایش ہی نہیں ہے یا ریاست کے خدوخال اور اسکی ذمہ داریوں کا جو تعین چالیس سال پہلے کر دیا گیا تھا وہ اب بدل نہیں سکتا۔۔ یہ سوال تو حق بجانب ہے کہ ایک ریاست کا مذہب سے کیا کام اور کیا ایک ریست کسی گروہ کو غیر مسلم یا کافر قرار دے سکتی ہے یا نہیں ۔۔ آج آپ نے ایک آواز بند کی ہے۔۔ کل ایسی دس آوایں اٹھیں گی۔۔ کس کس پہ قدغن لگایئں گے۔۔ اور یہ کہنا کہ سوال ہی نہ کرو اس بات کا ثبوت ہے کہ اوریا صاحب اور عامر خاکوانی کے پاس جوابات نہیں ہیں۔۔ وہ ابھی تک قرون وسطی کی عینک سے اکیسویں صدی کے پاکستان کو دیکھ رہے ہیں ۔۔۔ ان کی نظر میں ظالم وجابر اور وحشی طالبان اسلام کے اصل نمایندہ ہیں ۔۔ وہ ریاست کو نہیں مانتے ۔۔ وہ جمہوریت کو نہیں مانتے۔،۔ وہ جدید معاشیات کو نہیں مانتے۔۔ لیکن دلیل سے بات نہیں کریں گے۔۔ وہ دھونس اور دھمکی سے بات کریں گے۔۔ ان پہ پابندی لگا دو۔۔ ان کو پابند سلاسل کر دو۔۔ ان کو مار دو۔۔ اوریا صاحب اپنے پروگرام (حرف راز نیو ٹی وی ، مورخہ 19 جون 2016) میں یہ کہتے ہویے پایے گئے کہ سوشل میڈیا پہ سیکولرازم کو اگر نہ روکا گیا اور کویئ ‘واقعہ’ ہو گیا تو ذمہ دار وزارت داخلہ ہو گی۔۔ اس سے کھلی دھمکی اور کوئی ہو سکتی ہے۔۔ اور اس میں عامر خاکوانی صاحب اور اینکر ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔۔ اوریا صاحب یہ بھی تو کہ سکتے تھے کہ ہاں کچھ بلاگرز ہیں جو سوال اٹھا رہے ہیں ۔۔ ہمیں ان کا دلیل سے جواب دینا ہے۔۔ یہ وہی اوریا صاحب نے جنہوں نے اپنے پروگرام میں اینکر پہ بلاسفیمی کا الزام لگا دیا تھا کیونکہ اس نے سوال اٹھایا تھا۔۔ اوریا اور عامر خاکوانی صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ سوال اتھیں گے۔ یہ اکیسویں صدی کا پاکستان ہے جو انفارمیشن ایج میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔  اس پاکستان میں ایک بڑی تعداد باشعور ناجوانوں کی ہے۔ آج کا پاکستان یہ سوال پوچھتا ہے کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے باوجود ان کے قتل عام میں کمی کیوں نہیں آئی؟ وہ اپنے بنیادی حقوق سے کیوں محروم ہیں؟ ان کا قتل عام آج بھی کیوں جاری ہے؟۔۔ اگر ان کو غیر مسلم قرار دینا بھی ان کے حقوق کی ضمانت نہیں دیتا تو اسکا مطلب یہ ہے کہ اس آیئنی ترمیم سے احمدیوں کو حقوق مل گیے ہیں ایک ڈھکوسلہ ہے۔  کیا یہ جھوٹ ہے کہ یہ ترمیم صرف ان مولویوں کو خوش کرنے کے لیئے کیا گئی تھی جن کے ووٹ بھٹو کو چاہیے تھے۔ وہ مولوی جن کو اوریا صاحب مظلوم قرار دیتے رہتے ہیں ۔۔ حالانکہ پاکستان میں اگر آرمی کے بعد کوئی مضبوط ترین کمیونٹی ہے تو وہ مولویوں کی ہے۔۔، وہ مولوی جو اپنی مرضی کے دقیانوسی قوانین تک منظور کرا کے نافذ کرا چکے ہیں اور بھر بھی اوریا صاحب مگر مچھ کے آنسو بہاتے رہتے ہیں کہ وہ مظلوم ہیں اور انگریز سے لیکر آج تک مولویوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑے گیے ہیں حالانکہ قرداد مقاصد منظور کروائی مولویوں نے، بنگالیوں کا قتل عال کیا مولویوں نے۔۔۔۔ احمدیوں کو غیر ضروری طور پر کافر قرار دلوایا مولیوں نے، ضیاء دور کے منافقانہ قوانین کے پیچھے (مثال کے طور پر احترام رمضان ارڈیننس جس کا قران و سنت میں کوئی ذکر نہیں ہے) مولوی ہے۔۔ کمیونزم اور سرمایہ داری کے درمیان جنگ کو ‘جہاد’ کا نام دیا مولوی نے اور آج پاکستان کو اس نہج پہ لا کر کھڑا کرا دیا جہاں پر ساری دنیا پاکستان کا نام سنتے ہی دہشت گردی کو ذہن میں لے آتی ہے اور افغانی ہمارا نام سنتے ہی تھو تھو کرتے ہیں۔۔ اب یہ طاقتور مولوی آزادی اظہار رائے کے پیچھے پڑا ہے۔۔ پتہ نہیں اور کتنے لوگوں کا خون اوریا اینڈ کمپنی کو چاہیے۔۔ اوریا اور عامر خاکونی صاحب آپ اپنا مقدمہ اسی وقت ہار گیے تھے جب آپ نے سوال پوچھنے والے کو شٹ اپ کال دی تھی۔۔ جب آپ نے خدا کے بنائے ہوئے قانون (آپ کے مطابق) ثابت کرنے کے لیئے یورپ کے ہالوکاسٹ کے قانون کا سہارا لیا تھا۔۔ جب آپ نے پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کو جسٹیفایئ کرنے کے لیئے امریکہ کی مثالیں دی تھیں۔۔

آپ دلیل ہار چکے ہیں اور بس اپنی عددی برتری کے بل پر کھڑے ہیں۔ خدا کے لیئے پاکستان کو جینے دیجیئے۔ آج ان کی نسلیں جو اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان آئی تھیں، چن چن کر ماری جا رہی ہیں۔ امجد صابری ان میں ایک نیا اضافہ ہیں۔ اللہ ان کی مغفرت کرے اور ہمارے قلم کاروں کو مکالمہ کرنے اور اس کی ترویج کی توفیق دے نہ کہ سوال پر پابندی کا مطالبہ کرتے پھریں۔

 

Advertisements