Archive for February, 2017

Ladies and Gentlemen! On my way to the Stadium, I happened to stop along-with my motorcade at an eatery where I overheard someone that one had just finished two kilos of Rass Gullay and was requesting for Gulab Jaman to do Moon Metha. Oh well forget it, that is normal here.

Anyways, today is the best day of my life. Here I am standing tall in packed Gaddafi Stadium along-with President, Prime Minister, Chief of Army Staff, Chief Ministers from all provinces, Governors from all provinces, CJs from High and Supreme Court, Mayors and Deputy Mayors of all cities, Chairmen of Key Institutions like PEMRA, NADRA, IRSA, WAPDA, OGRA, Commandant of National Defence University and last but not least Chinese Delegation led by Chinese Premier. Give a big hand to all of them.

I can see those cricket lovers who had to cross five layer security, walk for five Kilometers, since their vehicles were not allowed in five Kilometer circle of the Stadium, had to reach the stadium three hours earlier than the start of match since as per security SOP the gates were supposed to be closed before the start of match. Look at you! You are cheering at the full power of your lungs in favor of your team. You are tired, bored and hungry and unconsciously having fear of being trapped in some security related situation but you don’t care. You are here for your team and that’s all what matters. There are scores of other people standing outside of the stadium trying to get in, getting tickets in black from nearby sugarcane juice seller and getting baton-charged by the police. I salute them.

I also salute those small and large business owners of Liberty Market, Main and Mini Market in Gulberg, Main Boulevard, Wahdat Road, Muslim Town Morh, and Ferozepur Road who had to shut down their business a day earlier than match owing to orders from CCPO Lahore. Remember we need to prove to the world that we are a safe country.

I would to like say hi to those students whose schools near the vicinity of the stadium were forced shutdown a couple of days earlier and even then they didn’t give a dime to it. Applause for them for joining PCB in order to defy the uneducated and ignorant terrorists.

I am happy for those Rikshaw drivers who always overcharge the passengers disembarking from Daewoo Bus and need to go to Valencia that they had to park their Rikshaws at their homes since they were not allowed to come near the stadium.

For those who were in need to visit to Hamid Latif or Jinnah Hospital and had to wait for ages to reach the destination due to traffic jam caused by newly introduced zing-zag type barriers and check points, I can offer my sympathies. But this is the price one has to pay while sending a message of being safe country.

Yes I know most of the key star international players who played in leg at neutral venue aren’t available today and we need to rely on the efficacy of some non-famous faces and this is a disappointment for many of the fans. There may be some compromises on the game strategy because the Key Diamond or Gold category players have refused to come. But again, ladies and gentlemen, listen to me carefully! Conducting PSL Final in Lahore is a matter of ego for me and my countrymen and my country and whole region from river Nile till Kashghar in China. That is why we are building CPEC and I am in discussion with Chinese authorities to make PSL a part of CPEC as well. Now a days Cricket has become more of a business. It is creating money. Who cares about game? Who wants to see star international players hitting sixes and fours and taking the game till last over? Who wants to play for country now? Who wants to come to the stadium just for the sake of watching a T 20 game? Some people are here to take selfie so that Q Mobile Selfie Moment can catch you. Many are here to Catch a Pepsi’s Caror. You, yes you sitting in Imran Khan Enclosure, wearing Imran Khan Chappal, are here to chant Go Nawaz Go. We are here to make money. We are here to deprive you off the outside food so that you can eat and drink from inside of the stadium at a three folds higher rate and that our sponsors are benefited. So now when it is established that the PSL mela is not for the sake of game but only for the sake of reaping the benefits of corporate culture, no one should mind if this Final is with International Players or not.

Like it is said that don’t see who is saying, see what is saying similarly here don’t bother about game, focus on what is the message being given to the world that we are safe country. The flood lights, laser lights and tap lights won’t show to the world that we have shut-down the city since all the lights will be on stadium which is safe. Hence, our goals of showing to the world that we are safe and resilient would reach from Mongolia till Papua New Guinea and from there till Tanzania and Argentina and soon teams from all would flock to Pakistan to play cricket, rugby, hockey and Pithoo Garam.

Ladies and Gentlemen, I have taken much of your time but I won’t leave the rostrum till I sincerely offer my apologies, since my heart is breaking just by thinking that for couple of days you people are deprived of Butt Karahi, Fazl-e-Haq Tikka, Butt Sweets, Salt and Pepper, Dera, Hareesa and all eateries like that.

We are resilient and we will bounce back. Let the game begin.



ڈسلڈورف سے ایمسٹرڈیم آئیس ریل پر 260 کلومیٹر فی گھنٹا کے سفر کے دوران کوئی بلانڈ توبہ شکن بیر کے گھونٹ بھرنے کے بعد اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ بوس و کنار میں مصروف نظر آتی ہے اور کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ بالکل اسی طرح جیسے ماہرہ خان لکس کے اشتہار میں جب فواد خان کی بانہوں میں، ایک ادا کے ساتھ  آنکھ دبا کر بولتی ہے “بس ذرا سا لکس” تو سارے گھر کے افراد اس کو ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں اور سنی ان سنی اور دیکھا ان دیکھا کر دیتے ہیں کہ ماہرہ خان بنیادی طور پر کیا پیغام دے رہی ہے؟ تاحد نگاہ پھیلے ہوئے گندم اور مکئی کے کھیتوں پر حرام خنزیر کا گوشت کھانے والے اور انکی فارمنگ کرنے والے جرمن کسان ہوائی جہاز سے کھاد اور کیڑے ماز ادویات کا چھڑکاو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جو  اب فصل کو کھاد لگانے  کے  بعد اپنے چھوٹے سے قصبے کے پب میں بیٹھ کرشراب کی چسکیاں لے کر اپنی سارے دن کی تھکاوٹ اتاریں گے،  اور ویک اینڈ پر اپنی موٹر بوٹ لے کر کسی جھیل میں مچھلیوں کا شکار کریں گے اور مچھلی پکڑنے کے بعد اس کو دوبارہ پانی میں پھینک کر واپس آجایئں گے – ڈسلڈورف سے 7771 کلومیٹر دور جھنگ کا کسان سارا دن دھوپ میں فصلوں پر قرض پر لی گئی کیڑے مار دوا کا سپرے کرنے کے آئے گا اور اپنے نفع نقصان کا حساب کتاب کرنے کے بعد جب یہ اندازہ لگائے گا کہ اس دفعہ بھی چوہدری شوگر مل نے پیسے وقت پر ادا نہیں کرنے تو  اس کی بلا جانے کہ بانو قدسیہ کی راجہ گدھ میں حرام اور حلال کا کیا فلسفہ بیان کیا گیا ہے، یہ گدھ کیا ہوتا ہے اور بانو آپا نے اسے اتنی نفرت انگیز چیز کیوں بنا کے رکھ دیا ہے۔۔ ایسا کیوں ہے کہ جیسے جیسے گدھ کی تعداد میں کمی آ رہی ہے چوہے اور کتے اتنی ہی رفتار سے بڑھ رہے ہیں اور یہ حرام کھانے اور پینے والا ڈاکٹر لنڈسے اوکس کون ہے جو ڈکلوفیناک نامی دوا پر پابندی کا مطالبہ کر رہا ہپے کہ وہ گدھ جو 1980 تک صرف ہندوپاک میں 30 ملین تھے اور اب ہزاروں میں رہ گیے ہیں انکی افزایش کی جاسکے  اور 7771 کلومیٹر دور وہ شراب پینے والا کسان خوشحال کیوں ہے اور وہ جس نے آج تک حرام کا ایک لقمہ نہیں چکھا اس معاشی حالت بہتر کیوں نہیں؟ لیکن اسکو یہ پتہ ہے کہ گدھ حرام پر پلتا ہے اور وہ انسان بھی جو غلط کام کرتا ہے وہ گدھ بلکہ راجہ گدھ ہے اور وہ راجہ گدھ اپنے ساتھ ساتھ اپنی نسلیں بھی ڈبو کر رکھ دیتا ہے اور اسکی نسلیں معذور اور اخلاق باحتہ پیدا ہوتی ہیں! گدھ مردہ باد! خیر، جب ریل کسی اسٹیشن پہ رکتی ہے تو دو باوردی ملازمین ایک برقی پلیٹ فارم لا کر ڈبے کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور باقی مسافرین فطار بنا کر اس کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ابھی آپ ورطہء حیرت میں مبتلا ہوتے ہیں کیا ماجرا ہے تو ایک وہیل چیئر پر بیٹھا شخص نمودار ہوتا ہے، جس کو وہ برقی پلیٹ فارپ سلیقے اٹھا کر بوگی کے اندر پہنچا دیتا ہے اور وہ دروازے کے قریب خصوصی افراد کے لیئے مختص سیٹ پر آرام سے براجمان ہوجاتا ہے۔ لوگ اپنی اپنی نشتوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور ریل چل پڑتی ہے۔ ایک معذور شخص کو اتنی عزت ملتے دیکھ کر آپ حیرت میں گم ہوتے ہیں کہ یہاں پر آئے روز خصوصی افراد کو اپنے حقوق کے لیئے مال روڈ کیوں بلاک کرنا پڑتی ہے؟ گدھ مردہ باد! ریل کب جرمنی سے ہالینڈ میں داخل ہوتی ہے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ نا تو کو ئی امیگریشن کی لائن اور نا ہی کوئی خاردار تاریں یہاں اپنی ٹانگیں اٹھا اٹھا کر زمین پر مارنے اور غیر ملکی فوجیوں کو آنکھیں دکھانے کا ڈرامہ اور امیگریشن کی لمبی لمبی لایئنیں! گدھ مردہ باد! ہوائی چکیاں دکھائی دیتی ہیں جن سے اندازہ ہوتا کہ آپ ہالینڈ میں آگیے ہیں! وہی ہالینڈ جہاں  چرس تقریبا اسی طرح لیگل ہے جیسے شاہ جمال پر۔ لیکن شاہ جمال پر ڈھول کی تھاپ پر چرس صوفی نشہ بن جاتا ہے۔ گدھ مردہ باد! ایمسٹرڈیم میں اسی طرح کی ایک نہر ہے جیسے لاہور میں۔۔ ایمسٹرڈیم میں اسی طرح کا ریڈ لایٹ ایریا ہے جیسے لاہور کی ہیرا منڈی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ادھر کی نہیر میں ہر وقت پانی بہتا ہے اور ٹورسٹ اس میں کشتی رانی کرتے ہیں، بیئر پیتے ہیں اور لاہور کی نہر میں کتے، گدھے، انسان اور بھینسیں ایک ساتھ نہاتے اور رفع حاجت کرتے ہیں اور بچے بڑے سڑک کے کنارے موجود بیلنے والے سے خرید کر گدلے گلاسوں میں گنے کا جوس پیتے ہیں۔ گدھ مردہ باد!  وہاں کے ریڈ لایئٹ ایریا میں کام کرنے والی طوایفوں کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے اور یہاں کی طوایفوں کو غیر قانونی۔ گدھ مردہ باد! وہاں بھی جمہوریت ہے اور یہاں بھی۔ وہاں کی جمہوریت بھی سرمایہ دار کی مرہون منت ہے یہاں بھی – وہاں کی جمہوریت پل بڑھ کے اور جوان ہو کے اب اپنی ٹانگیں قبر میں لٹکائے بیٹھی ہے اور یہاں کی جمہوریت ابھی پالنے سے باہر آنے کا نام نہیں لے رہی۔ گدھ مردہ باد! ۔ بریگزٹ، گریٹ ولڈرز، میرین لی پین، ٹرمپ، اردگان، مودی اسی “سرمائے سے خوف” کی علامت بن گیے جس نے پہلے سرحدوں کو ختم کیا اور اب قومی ریاستوں کے وجود کے درپے ہے اور تاریخ کی دوسری طرف بھاگنے کی کوشش میں ہیں۔  وہاں پر ایپل، گوگل، اوبر، سٹاربکس تارکین وطن کی حمایت میں ساراپا احتجاج کہ ان کے بغیر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا وجود خطرے میں۔ وہی کمپنیاں جن کی وجہ سے جمہوریت کو دوم ملا! اسی سرمایہ دارانہ نظام نے اس قابل کیا کہ آج ووویجر۔1 6 بلین کلومیٹر دور سے مدہم نیلے نقطے کی تصویر بھیج چکا ہے اب اگر وہی گدھ  جمہوریت اپنی وجہ پیدایش یعنی  گدھ سودی نظام اور سودی سرمائے کے مقابلے میں “ٹرمپ” وغیرہ کی شکل میں آئے گی تو جیت کس گدھ کی ہونی ہے  یہ جاننے کے لیئے گدھ میڈیا دیکھنا اور پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ یہاں تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کس گدھ کا ساتھ دیا جائے؟ کس کے لیے یہ نعرہ لاگایا جائے کہ گدھ مردہ باد۔ کل کو گدھ سرمایہ داری اور گدھ جمہوریت کو بچانے کے لیئے گدھ سوشلزم مردہ باد کا نعرہ لگایا تھا آج کیا کریں؟ یہاں پر سرحدیں محفوظ کرنے کے لیئے جوہری میزایئل اور باڑیں اور یہ نعرہ کہ دشمن گدھ مردہ باد ۔ وہاں اگر مہاجرین کو دیس نکالا دیں ہم بھی تین تین دہایوں سے مقیم افغانوں پر زمین تنگ کریں، کہ اپنے حوف اور فکر معاش میں گھر بار چھوڑ کر آنے والے گدھ مردہ باد!! اور جب تک ادھر یہ سمجھ آنی ہے کہ جمہوریت گدھ ہے یا کوئی اور نظام! وہ نظام جس کو بچاتے بچاتے پاک سر زمین پچھلی تین دہایئوں سے لہو لہو ہے یا وہ نظام جس نے جمہوریت کو جنم دیا تب تک قومی ریاستیں اورسرحدیں قصہ پارینہ بن چکی ہوں گی، سرحدوں پردشمن فوجیوں کو آنکھیں دکھانے والے فوجی واپس بیرک میں آ گئے ہوں گے اور رانی توپوں میں زنگ لگنے کے بعد شائد کیڑے بھی پڑ چکے ہوں اور ماہرہ خان والے اشتہار کا “بس ذرا سا لکس” اپنی حکومت بنا چکا ہوگا، جمہوریت مارشل لاء کی طرح گالی بن گئی ہوگی-نجانے کونسا گدھ مردہ باد۔  جب تک ‘لکس’ کی حکومت نہیں آتی ڈسلدورف سے ایمسٹرڈیم کا سفر کرتے ہوئے بلانڈ توبہ شکن اسی طرح بیئر پیتی رہے گی اورکوئی مسافر اس کو دیکھنے کے بعد دیکھا ان دیکھا کر دے کا اور زیر لب بڑبڑائے گا  گدھ مردہ باد!