لایف سٹائل۔۔

Posted: October 24, 2017 in Uncategorized

 

جب لیگوآنگ، لائن نمبر 13 کے بیجنگ میٹرو سٹیشن “شی آرچی” کے قریب واقع میک ڈونلڈ سے چکن بگ میک لے کر کھاتا اور پیپسی پیتا ہے اور اوریا مقبول جان سودی نظام کے خلاف ایک جذباتی تقریر کرنے کے بعد یہ کہتا ہے کہ “اب وقت ہوا ہے ایک بریک کا اور ہم یہ سلسلہ وہیں سے جوڑیں گے جہان سے ٹوٹا تھا” تو اشتراکیت اور مزہبی معاشی نظام یہ کے علم بردار اور سرمایہ دارانہ نظام کے بدترین مخالف نیو یارک اور کیلیفورنیا میں موجود کسی سرمایہ دار کو اس قابل بنا رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی ایک اور فیکٹری لگانے کے لیئے کسی بنک سے قرضہ لے سکے۔ جہاں امریکہ کا ٹوٹل قرضہ 20۔4 کھرب ڈالر سے زیادہ ہو اور وہ دنیا کی غربت ختم کرنے پر آمادہ ہو،اور سچ سننے کے لیئے تھوڑا بہت برداشت کا مادہ ہو، 1694 میں بننے والے بنک آف انگلینڈ سے لیکر آئی ایم ایف تک اور ورلڈ بنک سے انٹرنیشنل کورٹ آف سیٹلمنٹ تک کا قرضے دینے کا صرف ایک مقصد اور ارادہ ہو۔ جب 100 ڈالر قرض دے کر 105 ڈالر کا تقاضا ہو جس میں سے 5 ڈالر وہ جو کبھی مارکیٹ میں آئے ہی نہیں۔۔۔تو اس 5 ڈالر کے سود کو ادا کرنے کے لیئے بنکوں میں فریکشنل ریزرو بنکنگ کا ڈیپارٹمنٹ وجود میں آتا ہے کہ بنک کے پیسے نہ بھی ہوں تو بھی سیٹھ وہاں سے قرضے کی بوریاں بھر بھر کے لے جاتا ہے۔ پھر یہ سمجھنے کے لیئے کہ یہ پیسے جو موجود ہی نہیں، کہاں سے  پیدا ہو گئے، اگر میرے جمع کرائے گئے پیسوں سے سیٹھ نے قرض لیا ہے تو میرے پیسے کم کیوں نہیں ہوئے اور سیٹھ نے وہ پیسے واپس کیسے کرنے ہیں، چارٹرڈ اکاونٹینسی اور رسک مینیجمنٹ کا سبجیکٹ ایجاد ہوتا ہے، یونیورسٹیوں میں کامرس پڑھایا جاتا ہے، فنانس کی موٹی موٹی کتابیں لایبریرییوں مین نمودار ہوتی ہیں، اکنامکس میں سپیشلایزیسن کی جاتی ہے، نادہندگی جیسی اصطلاحات وجود میں آتی ہیں،ایکویٹی، کریڈٹ، ڈیبٹ، ایسسٹ اور لایبیلیٹی کی مساوات کے دایئں اور بایئں کو برابر رکھنے کے گر سکھائے جاتے ہیں۔ شارٹ ٹرم ڈیبٹ اور لانگ ٹرم ڈیبٹ جیسی اصطلاحات پر کتابیں لکھی جاتی ہیں، فنانس ڈکشنریوں میں لایبلیٹی کی تعریف وضع کی جاتی ہے، کمپنیوں میں کریڈٹ اور ڈیبٹ ڈیپارٹمنٹ بنایا جاتا ہے، مارکیٹ ویلیو اور بک ویلیو پر تنازعات ہوتے ہیں تو اسکے تصفیے کے لیئے فنانشل کورٹس مہیا کی جاتی ہیں۔ اینٹنیشنل اکاونٹنگ سٹینڈرڈ وضع ہوتے اور سٹیٹ بنک وجود میں آتے ہیں، پرائیویٹ بنک بنتے ہیں جو میرا ہی پیسہ مجھے کبھی کریڈٹ کارڈ اور کبھی سود پر قرضہ دے کر اپنے گلشن کا کاروبار چلاتے ہیں ۔ لیٹر آف کریڈٹ کے بغیر کچھ برامد، درامد نہیں ہوسکتا، آڑھتی پورے پیسے نہین دے سکتا، خادم اعلٰی ٹس سے مس نہں ہوسکتا اور غریب کسان جس کے گھر میں بیٹی کنواری ہے اور کپاس کو امریکن سنڈی کی بیماری ہے؛ سکون سے سو نہیں سکتا۔

پھر جمہورہت کے تحفے ملتے ہیں جس کے آگے آزاد میڈیا اپنی مرضی کا لیڈر چنوانے کے لیئے طواٰئف کی طرح ناچ کر گھنگرو توڑتا ہے۔ میاں منشا سرمایہ کاری کا رخ اپنی طرف موڑتا ہے اور احسن اقبال سی پیک کے بارے میں لمبی لمبی چھوڑتا ہے کہ آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں اس تحفہ نما قرضے سے بننے والی سڑک اس ملک میں وہ سبز انقلاب لائے گی جس کو ہمارے ان داتا پیرو مرشد ضیا الحق نے سرخ انقلاب سے بچایا تھا۔ سی پیک بیچنے کے لیئے وہی وعدے پھر دہرائے جاتے ہیں جو ایم ٹو موٹر وے کے دوران کیئے گئے تھے کہ اس کے بننے سے سینکڑوں صنعتی زون وجود میں آیئں گے۔ اب پنڈی بھٹیاں کا وہ چھوٹا کسان اپنی زرعی زمین کے بیچوں بیچ آئی ایم ایف کو بھاری سود پر رہن رکھی گئی چمکتی دمکتی موٹر وے، اورنج ٹرینوں اور سی پیک سے منسلک زرعی انقلاب کے وعدوں کا اچار ڈالے جب اسکو ایک طرف امریکن سنڈی اور دوسری طرف ٹیکسوں کی بھرمار مار ڈالے۔  زرعی زمینوں پر ہاوزنگ سوسایٹیوں کے نام پر ملک ریاض اور ڈی ایچ اے کے قبضے ہیں اور چین سے تحفے کے نام پر بھاری سود پر قرضے ہیں۔ پھر اسی سود کو واپس کے لیئے ریاست 2017 میں لینڈ ایکویزیشن ایکٹ مجوزہ 1894 کی چھری چلا کر غریب دکانداروں کی زمین ہتھیاتی ہے اور وہ موبایئل کے کریڈٹ سے لیکر پانی اور بجلی تک پہ ٹیکس بھرتا پھر بھی ٹیکس فائل نہ کرنے کے طعنے سنتا، ایل ڈی اے کے دفتروں میں جوتیاں گھساتا پھرتا اور کہتا پھرتا ہے کہ ووٹ شیر دا پر میاں صاحب کیتی بڑی زیادتی اے،!

جاوید چوہدری صاحب! آپ کو اپنی جیب میں موجود کریڈٹ کارڈز کی قسم، یہ لایف سٹائل صرف پاکستانیوں کا نہیں ہے۔ یہ لایف سٹائل قرضوں میں جکڑی، کراہتی اور بلکتی انسانیت سے بے نیاز، سڈنی سے لیکر ٹوکیو، نیروبی سے لیکر بیونس آئیرس، نیو یارک سے لیکر کراچی تک اور اشتراکیت کے علمبردار بیجنگ، شنگھائی اور ماسکو  کی ترقی کا ضامن ہے۔ فری ٹریڈ جیسے معاہدے مجبوری ہے۔ نوید ہو پرسنل لون، کار لون، ہاوس لون، بزنس لون، ایزی پیمنٹ پلان، کریڈٹ کارڈ، اور ڈیبٹ کارڈ بیچنے والوں کو کہ آج یہ سب ضروری ہے۔ ہم پر یہ لایف سٹایل مسلط کر کے ہم پر ہی اسکا الزام لگا دیا گیا ہے کہ ہم اسکو اپنی مرضی سے اپنا رہے ہیں۔ آج تم نے کریڈت کارڈ پر میرا نام کھدایا ہے کل کو میرے ماتھے پر میرا بار کوڈ کھود دو گے تو وہ بھی میں اپنی “مرضی” سے ہی کرواوں گا۔

جہاں ملٹی نیشنل کمپنیاں انسانوں سے زیادہ حقوق ہیں۔ کوئی کینسر سے مرتا ہے تو فایزر کا کیا جاتا ہے؟ پیسے دو دوائی لو۔ سیرالیون سے خونی ہیرے نکلتے ہیں جو ڈی بیرز کے شوروم میں جا کے چمکتے ہیں لیکن سیرالیون قحط اور خانہ جنگی میں لوگ روز جیتے اور روز مرتے ہیں۔ قرضہ، بنیا سود اور سود در سود تو بہت پہلے ہی ایک ادارہ بن چکا تھا لیکن آجکل کا تو یہی لایف سٹایئل ہے۔ مولانا تقی عثمانی کا حلال بنک ہو یا میاں منشا کا حرام بنک، ایک سرکاری ملا ہو یا رشوت خور سرکاری ملازم، پراییویٹ کمپنی کا ان پڑھ مالک ہو یا اس کمپنی کا پڑھا لکھا جی ایم، اس لایف سٹائل کی سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے۔ ااس دوران ایک فیصد پاقی ننانوے فیصد لوگوں سے زیادہ دولت رکھیں تو مجھے اس سے کیا۔ مجھے تو یہ سوچنا ہے کہ 100 ڈالر کے قرض پر 105 ڈالر کیسے واپس کرنا ہے اس میں 5 دالر وہ جو کبھی مارکیٹ میں آئے ہی نہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s