Archive for the ‘Current Situation’ Category

مجھے اس شام واپسی پر معلوم ہوا کہ ایمسٹرڈیم کے “منطقہ لال روشنی” میں اس کثیر منزلہ عمارت کی دہلیز پر بیٹھی ہوئی برگنڈی رنگ کے بالوں والی لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کے کندھے پر سر رکھنا چاہ رہی تھی مگر کیوں نہیں رکھ پا رہی تھی اور اسکا بوائے فرینڈ نہر کے پار، چرچ کے بلند ایستادہ مینار سے اوپر دور خلا میں کیا گھورے جا رہا تھا۔
میں آتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ یہاں ترک بچہ جو فرینچ فرائز کی دکان کھولے بیٹھا ہے کیسے اپنے پیسے پورے کرتا ہوگا اور کون اس کی دکان سے شراب و شباب اور بھنگ کے درمیان، اس سے تلے ہوئے آلو خریدتا ہو گا لیکن اب واپسی پر میں اس کی عقل اور کاروباری دماغ کی داد دے رہا تھا کہ آلو کے نمکین قتلے بیچنے کی اس سے بہتر جگہ تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی تھی!
مجھے اب یہ احساس ہو رہا تھا کہ ڈی والن کے بیچوں بیچ گزرنے والی نہر میں بجروں پر بیٹھے ہوئے وہ بظاہر سست ا لوجود سیاح،  پانی کے شور،  غروب ہوتے سورج کی مدھم کرنوں، بطخوں کی قطاروں اور خنک ہوا کا لطف اٹھا رہے تھے، جن کا وہاں فارغ بیٹھنا مجھے پہلے مجھے وقت کا ضیاع لگ رہا تھا۔ وہ ابھی نیم اندھیر کافی شاپس میں لاوڈ میوزک میں سارا دن گزار کر نکلے تھے اور اب یہ دیکھ رہے تھے کہ سورج کس تیزی سے اس چرچ کے بڑے سے مینار کی اوٹ میں غروب ہو رہا تھا جس میں سے ہر گھنٹے بعد گھنٹیاں بجنے لگتی تھیں۔ کوئی کنفیشن کرے یا نہ کرے، کوئی عبادت کرنے آئے یا نا آئے، صلائے عام ضرور تھی۔ پرندے قطاروں میں واپس جا رہے تھے، سیاحوں کا رش کم ہو رہا تھا-  سارا دن سیاحوں کو دعوت گناہ اور جسموں کی فروخت کے بعد جدید دور کی غلام مخلوق لال روشنی والے کمروں کے شیشوں کے آگے پردے گرا کر کل دوبارہ آنے کے لیئے جا چکی تھی اور سایکلوں کی گھنٹیاں، کاروں کے ہارن، ٹرام کی آواز، پیدل سڑک پار کرنے والوں کے لیئے بزر، بطخوں کا شور اور دور کسی شراب خانے کے ٹی وی سے آتی ہوئی چیمینز لیگ کی کمنٹری کی ہلکی آواز ایک اس قسم کا شور ثابت ہو رہی تھی کہ جس میں انسان اپنی سوچوں اور خیالات کو پڑھنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔
ایمسٹرڈیم کی وہ سڑکیں اور گلیاں تھیں جو دو گھنٹے پہلے تک انجان سی لگ رہی تھیں اب گوالمنڈی جیسی لگ رہی تھیں۔ مجھے وہ سینٹرل اسٹیشن جو پہلی نظر میں کوئی بہت ہی پر شکوہ عمارت لگ رہی تھی اب راولپنڈی اور لاہور کے ریلوے سٹیشن کی دوسرے درجے کی کاپی لگ رہی تھی۔ وہاں پر برہنہ مجسمے اور لاہور کے ریلوے سٹیشن پر پاک کلمات! ادھر مرسیڈیز ٹیکسیاں اور یہاں کالی پیلی مہران، آس پاس گزرتے لوگوں میں جاکھم والز بشیر اور ایلیسے شبانہ۔ بشیر چوہدری صاحب کا قرض دار اور جاکھم کریڈٹ کارڈ کا۔ ایلیسے کی خفیہ طورپر ڈی والن کے کسی دلال سے ڈیل اور پاکپتن کی شبانہ بھی جوہر ٹاون لاہور کے گیسٹ ہاوس میں کسی ایسے ہی مقصد کے لیئے رہے! وہاں کے میوزیم آف سیکس، میوزیم آف پراسٹیٹوشن، میوزیم آف ٹارچر اور مادام تساو میوزیم میں اگر غلاموں، جنگ و جدل اور جاہلیت کے دور کی انسانیت کی تذلیل کی ایک تاریک تاریخ قید تو یہاں پر شیش محل، شاہی قلعے، اور بارہ دریوں میں بھی انسانیت کی چیخیں مقید جہاں پر غلاموں اور لونڈیوں کی حالت زار کے ساتھ ساتھ بیٹوں کے ہاتھوں باپ کو زندان میں ڈالنے کی کہانیاں قید۔ یہاں پر “ایکپیٹس” بہتر مستقبل کی تلاش میں غم جاناں سے بیزار، غم روزگار کا روگ لیئے پھریں اور میرے “ٹرانسپورٹر فلم کے ہم شکل و ہم لباس  ڈرائیور جیسے ولندیزی جوان باہر جانے کے   تگو دو میں۔

ہالینڈ میں الیکشن کا دن تھا اور سیاسی پنڈتوں کو یہ امید تھی کہ گریٹ ویلڈرز جیت جائے گا۔ میرے ٹرانسپورٹر فلم کے ہم شکل و ہم لباس  ڈرائیور کا بھی یہی خیال تھا جو ابھی ووٹ ڈال کر آیا تھا اور  اب کام پر تھا۔ اس چناو کے دن بھی وہاں پر کوئی چھٹی نہیں،کوئی بینر نہیں، کوئی ریلی نہیں کوئی پلے کارڈ نہیں کوئی حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ نہیں کوئی غداری کی مہر نہیں کوئی پولنگ سٹیشن پہ لائین نہیں، کوئی موبائیل سروس بند اور نہ ہی کوئی سکول! ٹرام ویسے ہی چل رہی تھی سیاح اسی طرح بیئر اور  بھنگ میریجوانا والے سگریٹ پی رہے تھے۔ یہ بھی بھلا کوئی الیکشن ہوا؟ میرا ٹرانسپورٹر فلم کے ہم شکل و ہم لباس  ڈرائیور کا یہ رونا کے ہماری جابز ایکسپیٹس لے گئے اور ہم بے روزگار بالکل اسی گرایجویٹ “ٹویٹراتی” کی طرح تھا جو پاکستان کے ہر مسئلے کی جڑ میں افغانی تلاش کریں۔

مماثلتیں اپنی جگہ تو اندیشہ ہائے دور دراز کہ ائے پاکستانیو! تم 11 اگست کی تقریر میں پاکستان کے آیئن کے خدوخال  کو تو سیکولر بناتے ہو، پھر بھارتی قرارداد مقاصد کو لے کے اس میں مزہب کا تڑکا لگاتے ہو۔ کبھی بناتے ہو جناح کو لبرل تو کبھی اسکے نام کے ساتھ “رح” سجا دیتے ہو۔ ایک احمدی سے اس قرارداد کا دفاع کرواتے ہو، بعد میں اس کی پوری قوم کا بھی مقاطعہ کرا دیتے ہو۔ شری چندرا چڈوپادے اور جوگندر ناتھ منڈل کو دیس نکالا دیتے ہو، پھر آپریشن سرچ لائٹ بھی اٹھا دیتے ہو! مزہب کے نام ملک بنایا تھا اس کو پھر قومیت کے نام پر دولخت کرا دیتے ہو! ایک سیکولر اور جمہوری طرز حکومت کا آیئن بناتے ہو پھر اس میں مزہبی شقوں کا تڑکا بھی لگا دیتے ہو۔ اقلیتوں پر کبھی زمین تنگ کرتے ہو تو انکو وزارتوں سے بھی ہمیشہ نواز دیتے ہو۔ لگا بیٹھتے ہو جو امریکہ سے جوت۔ افغانستان کی سنگلاخ چٹانوں میں اپنے خون سے اس کا سرمایہ دارانہ نظام بچا لیتے ہو۔ کسی کی لگائی گئی آگ کو بجھاتے بجھاتے اپنے اپ کو ہی جلا لیتے ہو۔ سٹاک ہوم سنڈروم میں ایسے مبتلا ہوتے ہو کہ یہاں آگ لگانے والوں کو بار بار اپنا بھائی بنا لیتے ہو۔ کشمیر کے نام پر چار جنگیں بھی لڑتے ہو، بھارت کے ساتھ ساتھ باقی ہمسایوں کو بھی دشمن بنا لیتے ہو۔ پھر ایمبیسی کے سکولوں میں اشوک لی لینڈ اور ٹاٹا بسوں پر آنے والے بچوں کو انہی دشمن ملکوں کی فہرست بھی پڑھاتے ہو۔ حرام مشروبوں پہ پابندی لگا دیتے ہو لیکن مری بروری کا منافع بھی ہر سال بڑھاتے ہو! اپنے ملک میں تفرقہ بازی عروج پر لیکن اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کروا دیتے ہو۔ جو کہتے تھے کہ پاکستان پانچ سال نہین نکال سکتا ان کے سامنے گرتے پڑتے کھڑے رہتے ہو! پاکستان، تم ایک گورکھ دھندہ ہو!  پہلے امریکہ اور اب چین، پہلے جہاد اور اب ضرب عضب، پہلے مارشل لاء اب ڈان لیکس، پہلے جعلی کلیم اور اب پانامے، پہلے سعادت حسن منٹو، اب عطالحق قاسمی، پہلے فوجی ڈکٹیٹر اب جمہوری آمریت، پہلے امریکہ کے لیئے جنگیں، اب چین کے لیئے سڑکیں، پہلے دوسرے ملکوں کی ایرلاینز کو بنانے کے لیئے حدمات اب دوسرے ملکوں سے بسیں تک خریدنے کے لیئے قرضے، پہلے سپارکو، اب پانی سے چلنے والی گاڑی، پہلے چین کو دنیا میں متعارف کروایا، اب وہی چین سلامتی کاونسل میں ہمیں دہشت گرد ریاست قرار دلوانے سے بچائے! پہلے بھی کچھ ٹوٹی پھوٹی خود مختاری اب خودمختاری کی تہمت!

انہی منضاد مماثلتوں میں نیند آگئی اور صبح اٹھ کر یہ احساس شدت سے ہو رہا تھا کہ شائد بل ڈاگ کافی شاپ کے اس ہندوستانی نژاد اٹینڈینٹ نے مجھے بھنگ پلا دی تھی!

Advertisements

میں میاں محمد نواز شریف ولد  میاں محمد شریف سکنہ جاتی امراء رایئونڈ، ضلع لاہور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ مجھے آج پہلی دفعہ پتہ چلا کہ غالب یعنی ہم سے پہلے کوئی میر یعنی ویٹو کورلیونی بھی تھا اور اسکو گاڈ فادر کہتے تھے۔ اس نے بھی جرائم کر کر کے ایک ایمپایر بنا لی تھی۔ وہ جو بھی تھا آج میں اس کو چیلنج کرتا ہوں کہ میں جو جاتی امراء، ماڈل ٹاون اور ڈونگہ گلی سے لیکر پانامہ اور لندن تک  اس سے بھی زیادہ اپنی الحمدللہ پراپرٹی بنا چکا ہوں، آج جو میری لوہے کی فیکٹریاں سب سے زیادہ منافع کما رہی ہیں، آج جو پورے پنجاب یعنی 60 فیصد پاکستان کی بیوروکریسی میری جیب میں ہے۔ بیٹ دیٹ۔ ایک فرق یہ بھی ہے کہ وہ افسانوی کردار تھا اور میں زندہ جاوید جیتا جاگتا کردار ہوں۔ کیسے اس عدلیہ میں اتنی جرات پیدا ہو گئی کہ وہ میرے سے میرے پیسے کا حساب مانگے۔ ججز نے تو گاڈ فادر کے ناول سے اپنی ججمنٹ کا آغاز کر کے ایک غیر انسانی، غیر اخلاقی اور اگر میں یہ کہوں کہ غیر مذہبی کام بھی کیا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ باقی باتیں اپنی جگہ پر لیکن ججز کے اس فعل میں سے مذہب سے دوری کا جو شایبہ پیدا ہو رہا ہے اسکو انصار عباسی اور اوریا مقبول جان دیکھ لیں گے۔ میں اس پر کیا کہوں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کسی آیت یا حدیثؐ سے ججمنٹ کا آغاز کیا جاتا۔

یہ وہ پہلی چیز تھی جو مجھے پانامہ والے کیس کے فیصلے سے پتہ چلی۔ باقی بیٹی نے موبایئل فون فل چارج کیا ہوا تھا اور اپنے چاچو کو بھی گھر پر دعوت دے رکھی تھی۔ جیسے ہی فیصلہ جیو ٹی وی پر نشر ہوا اس نے فوراَ ملازم کے ہاتھ میں فون دیا، مجھے بھائی سے گلے ملنے کا کہا اور ایک تصویر اور بنائی اور اسی وقت ٹویٹر پر اپلوڈ کر دیا۔ آجکل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، کیا کریں بھائی، ضروری ہوتا ہے۔ میں نے اسی وقت بھائی کو بتایا کہ اتنی ایفیشنسی سے کوئی مستقبل کا وزیراعظم ہی کام کر سکتا ہے۔ بھائی نے میری بات سن کر مجھے برخوردار حمزہ کا سلام پہنچایا۔ ویسے تو جس دن سے میں نے اقتدار سنھالا ہے اس دن سے آج تک کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب میری اور میرے بھائی کی شکل اخباروں میں عوام کے پیسے سے نہ چھپوائی گئی ہو! لوگوں کو پتہ چلنا چاہئے کہ ہم کام کر رہے ہیں چاہے زمین پر کام نہ ہوا ہو۔ لوگ اشتہار دیکھ کر ہی تو ووٹ دیتے ہیں۔ ایک آپس کی بات آپ کو بتاوں کہ جتنی دفعہ میری شکل اخباروں مین چھپی ہے کم و بیش اتنی ہی دفعہ جنگ کراچی کے حیدر آباد کے صفحے پر اس کچرے کی تصویر بھی چھپ چکی ہے جو بلدیہ اٹھا کہ نہیں دے رہی۔ عوام نے پھر بھی پیپلز پارٹی کو ہی جتوانا ہے۔

دو ججوں نے مجھے جھوٹا اور خائن قرار دیا تو تین نے میرے صادق اور امین ہونے پر صرف شک کا اظہار کیا۔ کیا اس سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ پورا پاکستان میرے پر اعتماد کرتا ہے۔ میں ایسی عدالتوں کو ویسے نہیں مانتا لیکن بین الاقوامی  اور اقوام متحدہ کے قوانین کی وجہ سے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں! نہیں تو دل تو میرا بھی کرتا ہے کہ چین اور ترکی جیسا ماڈل پاکستان میں لے آوں اور ایک ہی پارٹی یعنی مسلم لیگ نواز اس ملک میں راج کرے یا ایک ریفرینڈم سا کروا کے صدر بن جاوں اور سارے اختیارات اپنے اور اپنے خاندان میں بانٹ دوں۔ سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے! میں سنجھ رہا ہوں کہ آپم کیا کہنا چاہتے ہیں کہ ڈی فیکٹو تو میرا خاندان ہی یہاں پر راج کر رہا ہے یعنی عابد شیر علی جیسے نامعقول شخص سے لیکر اسحاق ڈار اور میری بیٹی جس کے باس کوئی عہدہ نہیں ہے، لیکن یہ قانون کی تلوار میرے سر پر لٹکتی رہتی ہے کہ ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی اس پر سول اٹھا دیتا ہے۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری! میں ایک سرمایہ دار ہوں اور سرمایہ دار کا بنادی مقصد اقتدار میں آنا ہوتا ہے چاہے وہ پردے کے پیچھے سے ہو جیسا کہ ملک ریاض یا سامنے آکر جیسے شاہد خاقان عباسی اور میر شکیل الرحمان! آپ یہ دیکھیں کہ جیسے ہی فیصلہ آیا سٹاک مارکیٹ میں بلش ٹرینڈ تھا اور لوگوں نے دس منٹ کے اندر اربوں روپوں کا منافع کما لیا۔ جیو ٹی وی اس پر بریکنگ نیوز دے رہا تھا اور میرے کارکنان اس کی سوشل میڈیا پر لایئو سٹریمنگ کر رہے تھے۔ عوام کو کیا پتہ کہ مارکیٹ مینیپولیشن کس چڑیا کا نام ہے۔ مجھے اس قوم نے ووٹ دیا ہے جو مہنگائی میں پس رہی ہے لیکن وہ  پھر بھی صرف  پانامہ کا فیصلہ سننے کے لیئے میٹرو پر جا جا کر ایل سی ڈیز خرید لیتی ہے چاہے بچوں کی سکولوں کی فیس رہ جائے۔ میرا سلام ہے گوالمنڈی کے اس کارکن کو جس نے بڑی سکرین پر یہ فیصلہ سننے کا اہتمام کیا تھا اور فیصلے کے بعد بھنگڑے ڈلوائے تھے۔ محفل ہوئی تھی۔ ٹی وی والوں نے یہ سب لایئو دکھایا تھا۔سیدھی سی بات ہے کہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔

پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ اس سارے پانامہ کیس میں وکلا کا خرچہ، انکی رہایش اور بورڈنگ لاجنگ سب قومی خزانے سے ادا کی گئی ہے۔ اخباروں اور ٹی وی پر اپنی فتح کے اشتہار بھی اسی عوام کے ٹیکسوں سے دیے گئے ہیں۔ وہ میرا لونڈا سعد رفیق جو میرے لیئے اپنا لہو حاضر کرنے کے بینر سڑکوں پر لگاتا پھر رہا تھا وہ بھی عوام کے خرچے سے تھا۔ آپ کو تو شائد پتہ بھی نہ ہو کہ یہ جو پی آئی ڈی ہے جہاں پر سپریم کورٹ میں ہر پیشی کے بعد دانیال، جسے عمران خان موٹو گینگ کا نمایندہ بتاتا ہے، پریس کانفرنس کرتا تھا اس کا بل بھی عوام کے ٹیکسوں سے ادا کیا جاتا تھا۔ یہ عمران خان یہ سراج الحق یہ شیخ رشید جیسے تھالی کے بینگن کیا جانیں کہ حکومتیں کیسے چلتی ہیں ۔ جہاں تک بات ہے زرداری صاحب کی تو وہ اور میں تو ایک ہی ہیں۔ انکا مقصد اپنی زرعی سرمایہ داری کا تحفظ ہے اور میرا اپنی صنعتی سرمایہ داری کا تحفظ۔- یہ جو ہم نے میثاق جمہوریت کا ڈھونگ رچایا تھا آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ جمہوریت کے لیئے تھا؟ جی نہیں! کیونکہ ہم جمہوری ملک ہیں ہی نہیں۔ جی نہیں میں عمران خان جیسے کوتاہ اندیش کے کسی گھٹیا بیان کا حوالہ نہیں دے رہا ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے اس سے پہلے برطانیہ کے اکنامسٹ انٹیلجنس یونٹ کا نام بھی نہیں سنا ہو گا جو پاکستان کو ہایبرئڈ ریجیم میں بریکیٹ کرتا ہے۔ کہان کی جمہوریت اور کہاں کے جمہوری ادارے۔ کیسی عدالتیں اور کیسی جے آئی ٹیز۔  کیا یہ محض اتفاق ہے کہ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ججز میرے خلاف فیصلہ دیں اور باقی تین پنجابی جج مجھے اور موقع دے دیں۔ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے۔ اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے۔

ججز نے جس ناول کا حوالہ دے کر اپنی ججمنٹ شروع کی ہے، مجھے ابھی ابھی برادرم عرفان صدیقی نے ایک پرچی پر اسکا ایک اور ڈایلاگ بھی لکھ کر بھیجا ہے جس کا ترجمہ ہے کہ میں اسکو ایسی پیشکش کروں گا جسکو لینے سے وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ خواجہ سعد رفیق سے بات ہوئی تو کہنے لگا کہ پانچ میں سے صرف دو ججز نے مجھے نا اہل کرنے کی سفارش کی ہے باقی کہتے ہیں کہ تھوڑی اور تحقیق کر لیں۔ اور وہ تحقیق ہمارے ادراوں سے کروایئں گے۔ پھر وہ بتانے لگا کہ ایف آئی اے، نیب، سٹیٹ بینک، سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمایندے اس تحقیق نیں شامل ہوں گے جن میں سے زیادہ تر ہمارے ہی بھرتی کیئے ہوئے ہیں تو پریشانی کی کوئی بات نہین۔ مجھے تسلی دیتے ہوئے کہ ریا تھا کہ جس طرح جوا خانے میں جواری ہارتے ہین جوا خانہ نہیں، اسی طرح حکومت بھی کبھی نہیں ہار سکتی اور آپ کے لیئے ہمارا لہو حاضر ہے۔ !!! آپ لوگ جانتے ہیں کہ ان سارے اداروں میں وہ تمام لوگ جو آگ سیکریٹری کے عہدے پر پہنچ چکے ہیں وہ ضیاالحق شہید کے دور سے لیکر اب تک میں نے خود بھرتی کروائے ہیں۔بے بی فنگر بے بی فنگر ویر آر یو!! ہیر آئی ایم ہیر آئی ایم ہاو ڈو یو ڈو۔

مجھے معلوم ہے کہ آج آپ لوگ میرے پاس اس پیسے کا حساب مانگنے آئے ہیں جسکا جواب میں 126 دن کی سپریم کورٹ میں سماعتوں کے دوران بھی نہیں دے سکا۔ اب آپ لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ اس دو مہینے کی جے آئی ٹی میں آپ کو یہ سب معلومات مل جایئں گی؟ ابھی تو ججز بیمار پڑیں گے۔ ابھی تو بینچ ٹوٹیں گے اور نئے بینچ بنیں گے۔ابھی تو جج چھٹی ہر جایئں گے۔ ابھی تو آئی آیس آئی اور ایف آئی آے کے نمایندوں پر عدم اعتماد ہو گا، ابھی تو جی آئی ٹی پر میرے بچوں کو ہراساں کرنے کے الزامات لگیں گے، ابھی تو سٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے نمائندوں پر اپوزیشن اقربا پروری کا الزام لگائے گی۔ ابھی تو جلسے ہوں گے، لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بنے گی، فوج کے سربراہ کے بیان ایئں گے، اخباروں میں اشتہار چھپیں گے، اینکرز لوگوں کو بلا بلا کر لڑوایئں گے اور اپنے مالکوں کو پیسہ بنا کر دیں گے۔ مرے سے استعفی منگا جائے گا تو میرے کارکن جلسوں میں بازو دکھا دکھا کر اور ایڑیاں اٹھا اٹھا کر، منہ سے کف گرا کر یہ چیلنج دیں گے کہ جاہئے استعفی، لے لو گے استعفی؟  صالح ظافر اور طاہر خلیل میرے حق مین خبریں اور عطا اللحق قاسمی کالم لکھیں گے۔ یہ دیکھیں یہ سری پائے اور کڑاہی میں نے ابھی گوالمنڈی سے منگوائی ہے۔ آیئے مل کر کھاتے ہیں کہ میں میاں محمد نواز شریف ولد محمد شریف سکنہ جاتی امراء رایئونڈ، ضلع لاہور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میرے پاس اگر منی ٹریل ہوتی تو پہلے ہی عدالت میں جمع کرا چکا ہوتا!!!

It was night of the not-so-cold 4th December when I landed in Karachi from Abu Dhabi via flight number EY200. I was there to conduct a site visit on 5th and 6th December for a PSO Project, which my company was bidding for. As per the instructions from my company’s Administration, the protocol officer from Regent Plaza was supposed to be available at arrival to pick me up and take me to the hotel but no one was there. After my several calls to hotel and a wait of almost 45 minutes, someone from hotel approached me and asked me to wait since some more guests were also coming on some domestic flight. I had to wait for some 15 minutes more when we were asked to sit in a car to escort us to the hotel.
Inside hotel there was another chaos. There were some 15 people standing in the queue ready for check-in while only two persons were attending them. I had to wait for almost half an hour more when finally I got the room key but the concierge forgot to ask for my ID card. I was shocked at such a non-professional behavior and when I reminded her about this requirement, her supervisor argued that she was a trainee and that issue was laughed away. Some bell boy was supposed to accompany me to the room but he wasn’t available.
As I reached my room, I was left astonished when the lights of the room weren’t working which were supposed to turn on after inserting the door key inside the designated slot. I called the reception and requested to fix this issue. After a while an electrician came and instead of fixing the electrical system he inserted the corner of the do-not-disturb card inside the slot and lights were on. I asked him to fix it properly but, again, he laughed it away and said, sir it works like that.
I was really disgusted at it, but I had to prepare notes for next day’s site visit and official work so I got myself busy and planned to switch the hotel the other day since my sixth sense was reminding myself of something worst to come.
It was around 2:15, 2:30 AM when I woke up with strange noise and smell. I ran towards the door to see what was happening outside. But I couldn’t open the door fully as the whole corridor was full of smoke. I immediately closed the door in order to prevent the smoke enter the room. As I saw it from the window which opened toward the pool side, the conflagration was spreading rapidly, people were running here and there like headless chickens. I could hear the people screaming for help. I also screamed at full power of my lungs. Fire brigade was not yet arrived and the smoke in the corridor was getting intense. People were breaking the windows so that they could either escape from there or get fresh air or both. I also broke the window of my room and tried to call fire brigade and reception but no one picked the call.
Now the situation was that I couldn’t go out of the building, from corridor, due to thick smoke and on the other hand, the only way out from the room was window where I could jump from. Please keep in mind that my room was on the eighth floor.
Meanwhile fire brigade was arrived and someone was announcing from ground to keep a wet towel on your mouth and nose. Now the situation was that my room was gradually being filled in with smoke both from corridor and outside and I couldn’t breathe. HVAC and Electricity which were working till now (like almost two hours after the fire broke) just gone off and I was getting almost fainted.
In panic, I called my home and told my dad that I was about to jump from the window and that might be my last call. He asked me to wait and don’t do that mistake as it was a pure suicide. After that call my whole family was informed and almost everyone called me to forbid me from jumping out of the window. I kept on sitting on the window with my one leg inside room and the other one hanging outside.
I tried to scream but couldn’t. I tried to think of my past but my mind had stopped working. The only thing which kept on striking my mind amidst screams of people jumping out of their windows and people shouting their room numbers, those shouting for ropes, ladders and help, someone shouting about the dead bodies lying in their rooms, was that in order to survive, I had to jump.
It was smoke all over. I was coughing and couldn’t walk a step. Last thing I remember falling down on the chair nearby when I heard the announcement that fire was put off. I again stood up, held my nerves and gathered my all power in my lungs to shout for help. Rangers were there on the seventh floor who heard my voice and rushed towards eighth floor. They opened the door and dragged me out. The intensity of smoke was reduced significantly when I was rescued and shown the way of emergency exit.
How did I came down, sat in an ambulance, reached Jinnah Hospital, got nebulized, got my mobile phone stolen, got discharged from the hospital, reached hotel again to collect my luggage and struggle to get my luggage where people were crying and shouting and fighting with management since they had lost they luggage and loved ones. Whole hotel seemed to be burnt into ashes but the management of hotel was acting like nothing serious had happened.
In the morning hotel was being washed, police had gathered, civil defense and firefighting teams were arguing with hotel management to collect the evidences and to find the root cause of fire, whereas hotel management was non cooperative with the authorities, and I was sitting outside with my luggage thinking about vulnerability of the life and threats posed by such heartless Saiths who open the hotels, give bribes to authorities and get the approvals. Hopeless, I am, that ever the responsibility will be fixed! Soon this hotel will be opened and blame will be on either late coming of the fire brigade or human error of the poor chef! No one will ever prosecute the real responsible person who, Approved the hotel to function when,
– fire alarm was malfunctioning
– Smoke detector were not working
– There wasn’t fire water system available in the hotel
– Fire retardant cables were not used
– HVAC kept of working for almost two hours after the incident and smoke spread via ducts and there was no automatic procedure turn the HVAC off upon detection of smoke
Since I am engineer and have hands on experience of the F&G system, as per standard, Fire retardant cables are used in fail safe manner as to activate the alarm when loop is broken. So if hotel management says that alarm didn’t work due to electrical cables or alarm system burnt, this is criminal on their part.
Moreover, where is the tax payer’s money going when there is no proper rescue system available in the metropolitan of the 20 million residents? It is 2016 and we don’t have rescue helicopters, proper ambulances with fitted oxygen and rescue equipment e.g., masks etc.
After residing abroad for almost a decade now and witnessing how the building laws are followed and rescue operations undertaken, I can safely say if such incident had happened in some other, even, semi developed country, no casualty would have happened!

At this moment Imran Khan stands at the verge of losing all his gains which he got in the past half a decade (since 30 October 2011). Why do I think that he is going to lose this battle with PMLN, will elaborate in the coming passage.

Currently Imran Khan has called for a Lock-down of Islamabad till Nawaz Sharif doesn’t present himself for accountability or resigns amidst the uproar and upheaval of Panama Paper Leaks. But did it all start only after Panama Papers were leaked? The answer is NO. Imran Khan has been on the roads since 2013 elections. In 2014 when Imran Khan was staging a sit-in in Islamabad he gave the slogan of Go-Nawaz-Go to the nation, implying that he won’t return till he has resignation of the Prime Minister in his hands. Then the sky witnessed that none of the skies fell on PMLN leadership.

Coming to the point, what is/ are the reason of Imran Khan’s failure? We will try to learn point-by-point.

  1. PMLN’s vicious media campaign against Imran Khan and using channels and newspapers constantly rant against him. Media is used, as always, to instill one thing in the minds of a common man that there is no hero or a leader. The other person is just like a common man. He is also corrupt just like other politicians and that is what PMLN has exploited insofar as Imran Khan’s so called charisma was concerned. Such aspersions as his drug taking habits etc. has done the damage.
  2. PMLN’s continuous advertisements in the Urdu and English papers about so called economic revolution despite the fact that Pakistan’s economy has been in perils since PMLN has taken over. But a common man whose biggest worry is to make both ends meet has no time to ponder on it. He sees ads, some concrete and mortar on the roads and takes such ads as truth and moves on.
  3. Extensive Social media bashing and abusing by PMLN’s social media cell which starts and ends at vituperation while maintaining constant stance that PTI people do abuses. In fact this is the culture of Punjab and other parts of the country that no one can comment on the political situation without using an abusive word. Again, the way PMLN social media cell has taken the culture of abuses to the next level while they compare N League’s thirty five years rule on sixty percent of Pakistan with PTI’s Three Years government in KPK is something really substantial. A common man using Twitter and Facebook considers blatant lies and rants of PMLN’s social media cell as a source of enjoyment and even those decisions taken by PTI in good faith are made a joke on such forums.
  4. Corruption is a culture in Pakistan and when PTI talks about ending corruption and starting a campaign against such evils, there starts a comparison by renowned journalists (while they pose to maintain their neutrality) with PTI’s government and it is proved that PTI is as much as corrupt as any other party.
  5. PTI has been emanated as the biggest right wing party in Pakistan. It is such decisions as sending the Women Protection Bill to Council of Islamic Ideology, giving aid to those denominational institutions which are considered as nurseries of Taliban had a backlash from progressive communities of the country. Imran Khan still maintains that Taliban fighting against Afghan Government are freedom fighters and suicide attacks are a reaction to the drone attacks etc. This kind of attitude has made the people of liberal approach keep a safe distance from PTI. Although PMLN is also a right wing party but the PTI is more at receiving end of insinuation since it was considered a party with liberal approach. Furthermore, when people like Orya Maqbool Jan are seen toeing the PTI’s line and inciting the people towards defiance and violence against police, people usually distant themselves from such activities.
  6. Imran Khan is short of vocabulary and thoughts. People are fed-up of his same speech (read: rhetoric).
  7. As claimed before elections, PTI has remained unable to do wonders in terms of development although the foundation stones of police reforms and law making has been setup will have long lasting effect but, I repeat, people want to see some red color busses, concrete and roads.
  8. There is a strong perception built among a common man that behind PTI there is establishment, which is taken as matter of abhorrence by intelligentsia.
  9. It seems that Imran khan has been unable to read through the geopolitical situation of Pakistan where Pakistan has been made to stand in the court to answer about anything and everything. Imran Khan also seems totally indifferent to the Kashmir cause, Indian atrocities and he has no idea that because of him Pakistan has been lagging behind lobbying at an international forum. He has just one point agenda to get rid of Nawaz Sharif on the roads because he is corrupt. He also knows, since Nawaz Sharif has strong hold in whole Punjab it is near to impossible to defeat him in elections.
  10. Last but not least, this time Imran Khan has made a big mistake by announcing locking down the capital which is never accepted by any state and establishment. Courtesy his antagonistic approaches, his journey from a real political leader to a demagogue has been cut short. Still one can hope that he succeeds in this fight against corruption.

One can write infinite reason as to why Imran Khan’s whole agitation against drone attacks till election rigging and till corruption of Nawaz Sharif is a failure but the main reason still holds good that Pakistani nation (mostly Punjab) don’t do agitation against oppressors. This is their history. Zulfiqar Ali Bhutto once said that if any harm is done to him Himalayas will cry. Rest is history.

 

Now a days, people from all school of thoughts are discussing the issue of Afghan Immigrants being asked to leave Pakistan by 31st December 2016. Some people argue that it shall be benign to keep Afghans here in the country and others see Afghans as a security threat. But by doing so, they tend to see the picture in either black or white.

The group who favors keeping them in Pakistan, totally forget the issues associated with keeping them here in the country which involve security mainly and then social issues like narcotics, smuggling, robberies and kidnapping for ransom etc. While advocating for keeping them here in the country they usually rely on expounding lower level benefits they bring about. For example an afghan working in fields of a small scale farmer. Other than that they give examples for history as to how ancient tribal people used to open the doors for immigrants.

On the other hand, the group who opposes the extended residency of Afghans here in the country don’t usually seems concerned about finding a way to harness the expertise of skilled, unskilled and (or) semi-skilled labor for boosting country’s economy and generating new opportunities in order to exploit the opportunity of availability of cheap labor.

We are living in the twenty first century which is governed by free trade agreements. All developing countries are doing is to create such a business friendly environment as governed by universal labor laws in order to attract multinational companies to set up their business there so that more jobs are created and manpower is utilized for the betterment. In a broader canvas, the developed countries like Australia, Canada and USA, import skilled or semi-skilled manpower from other countries which in return serve their economy. One country’s brain drain becomes brain of other country.

Taking about Pakistan, there is no official policy to curb brain drain or increase brain gain. One can just go through the official website of Directorate General of Immigration and Passports to know that Pakistan is still living in past century where one is Pakistani either by birth or by migration of by descent. The language used on this website page is also vague and doesn’t provide any information about migrants (like Afghan Migrants) and those kids who are born to a migrant in Pakistan as to how can they apply for Pakistani citizenship. However, under Citizen By Birth clause the official website doesn’t forget to specify that children of enemy born in Pakistan are not considered citizens without paying heed to defining as to who is enemy. Do we consider Afghan as an enemy state or friendly state? The word enemy is specific to only one country? If officially we talk about enemies it begs the same question about friendly state(s) and what is the fate of children of friendly aliens born in Pakistan? All of the verbose in those website is so confusing.

In all of the developed or developing world there are some rules and regulations set regarding immigration. Countries like Canada and Australia rely on the efficacy of points based system in which a person has to prove him/herself fit for job, security clearance and qualification etc and after residing in such countries for up to five years one can get the citizenship. These countries also give opportunity to provinces to carry out provincial nominees and other such programs so that if a province feels that there is shortage of manpower, it can seek from outer world. In Pakistan we can see that a child of Afghan descent born in Pakistan cannot apply for Pakistani citizenship.

If a migrant is having business here in Pakistan or doing a job, he/she must be entertained with respect and given full opportunity to prove themselves and after a prescribed time frame given Pakistan citizenship with due process which includes security clearance, education background and (or) worth of business etc. In this way they will come in the mainstream and Pakistan will commence brain gain.

It is high time that we open our doors and follow the norms as in place in other countries which must include but not limited to:

  1. Right to apply for citizenship of Afghans or other migrants, subject to such security clearance or skills or qualification as deemed necessary by the state.
  2. Right given to provinces to nominate immigrant applications.
  3. A change in federal immigration policy with a view of brain gain and lucrative opportunities for foreign resident Pakistanis
  4. Repealing of rule to not grant immigration to a person married to Pakistani woman

Just giving deadlines to leave the country to those who were born here and have been living in the country for almost three decades now is not only inhumane but also doesn’t conform to the international laws and regulations governing migrants. State always has the right to deport or cancel the passports of those who are considered security threat.

 

پچھلے دنوں حامد میر صاحب کا کالم بھٹو اور بلاول کی سمجھداری سے متعلق پڑھا جس میں قابل احترام کالم نگار نے اپنا مقدمہ  کہ “بلاول زیادہ سمجھدار ہیں یا بھٹو”، بلاول کی اس حالیہ تقریر پر رکھا جس میں انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ ‘پاکستان کا صدر صرف ایک مسلمان شخص ہی کیوں ہو سکتا ہے’ اور اس کے رد میں یہ دلیل دی کہ چونکہ انیس سو تہتر کے آئین میں صدر کے لئیے مسلمان ہونے کی شرط رکھی گئی ہے اس لئیے اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

دوسرا انہوں نے کچھ ممالک کی مثال دی جس میں صدر اور وزیراعظم کے کے لئے کیسے خاص مذہب سے وابستگی ضروری رکھی گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ معلومات  پیو ریسرچ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔   اس طرح کی امثال کے بعد انہوں اپنا رخ اپنے خاص اسلوب کی طرف کر لیا اور جس طرح کے ان کے مستقل قاری جانتے ہیں کہ وہ اپنے ہر دوسرے کالم میں کسی نامعلوم سفارتکار یا سیاستدان سے اپنا مکالمہ بیان کرتے ہیں (انکو شائد معلوم ہے کہ کوئی اس مکالمے کا ثبوت نہیں مانگے گا) اور اس مکالمے کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نامعلوم سیاستدان یا سفارتکار حامد میر کے خیالات سے یا تو متفق ہوتا ہے یا وہ میر صاحب کے خیالات سے اتفاق رکھتا ہوتا ہے یا  آخر میں حامد صاحب اسکو قائل کر لیتے ہیں۔

اس مکالمے میں میں  بھی پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی اور سینٹر صاحب بلاول پر پھبتی کستے رہے اور کف افسوس ملتے رہے کہ وہ اپنے والد کے بنائے ہوئے آئین سے غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں اور یہ کہ پیپلز پارٹی کا ووٹر جو آج بھی بھٹو کے نام پر ووٹ دیتا ہے ان سے یہ پوچھ رہا ہے کہ بھٹو زیادہ سمجھدار یا بلاول اور مسلسل حامد میر کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔

یہاں  پر کچھ سوالات جنم لیتے ہیں۔

ایک تو یہ کہ کیا حامد میر صاحب نے یہ فرض کر لیا ہے کہ 1973 میں آیئن منظور ہو جانے کے موقع پر پاکستان کے عوم کا اجتماعی شعور اپنے اوج کمال پر تھا اور اس کے بعد اس آیئن میں کسی قسم کا بدل نہیں ہو سکتا؟ جب جدید دور کی ہر ریاست اپنا ایک آیئن بناتی ہے جس میں ملک کے شہریوں کے حقوق اور ریاست کے جملہ فراٰیض متعین کر دیے جاتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کے بعد مقننہ کو تالا نہیں لگا دیا جاتا بلکہ ریاست اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مقننہ کے اجلاس لازمی ہوں’ جمہوری عمل کے لیئے چناؤ بھی ضرور ہو تو ایسے میں ریاست اس بات کا اعادہ کر رہی ہوتی ہے کہ آج منظور شدہ آیئن میں بہتری کی گنجایش موجود ہے اور اس میں حالات کے مطابق تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی آیئن کی کسی شق میں تبدیلی کی بات کرے تو اس کو نا سمجھ ہونے کا طعنہ دینا دانش مندی نہیں ہے۔ میر صاحب کی نظر میں سمجھداری کی تعریف کیا ہے؟ اگر انکی نظر میں سمجھداری کسی ایک نظریے پر جامد ہو جانے کا نام ہے تو میں نہایت ادب کے ساتھ اس سے اختلاف کروں گا۔ نظریہ کسی قوم کے اجتماعی شعور کے تابع ہوتا نہ کہ اجتماعی شعور کسی نظریے کے۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ اقوام کا اجتماعی شعور کبھی بھی جامد نہیں ہوتا اور نہ اس کو ہونا چاہیے ورنہ ایسی اقوام کا وہی حال ہوتا ہے جو آج پاکستان کا ہو رہا ہے۔ یہی جامد نظریہ آج ہمارا آدھا ملک کھا چکا ہے اور باقی کا ملک ایک طرح سے نظریاتی کونسلوں اور ان کے دفاع کے لیئے موجود ڈندہ بردار ہجوم کے ہاتھ میں آ چکا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ آج ستر سال ہونے کو آئے ہیں پاکستان کو بنے ہوئے، ہم نے قرارداد مقاصد منظور کر لی؛ ہم نے آیئن میں ملک کا نام مذہنی کر دیا، ریاست نے ایک گروہ کو غیر مسلم قرار دے دیا، آیئن میں اسلامی شقیں ڈال دیں، پھر بھی ہمیں کوئی ایسا خوف دامن گیر جو ہمیں ہر وقت ستاتا ریتا ہے اور راتوں کی نیندیں حرام کیئے رکھتا ہے۔ یہ خوف کبھی ہم سے نظام مصطفیٰ کی تحریک چلواتا ہے تو کبھی افغان جہاد میں ہم سے ایک سیکولر اور سرمایہ دار ملک امریکہ کے پیسوں سے جہاد کرواتا ہے؟ ہمارا یہ خوف کبھی ہم سے عیسایئوں کی بستیاں جلواتا ہے اور کبھی ڈی چوک پر دھرنا دلواتا ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا حامد صاحب اس بات کو اچھا سمجھتے ہیں کہ وہ ووٹر جو آج تیس چالیس سال بعد بھی پیپلز پارٹی کو بھٹو کے نام پر ووٹ دیتا ہے، کیا  اس کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کی دانشمندی یا سمجھ بوجھ پر سوال اٹھایے؟ کیا اس ووٹر کی سوچ آج کے جدید صنعتی معاشرے کی عکاسی کرتی ہے؟ کیا ایسا شخص جو آج بھی 1970 میں رہ رہا ہے، اس سے یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ آج کے دور کے جدید تقاضوں کو سمجھتا ہے؟ ایسا ووٹر جو آج صرف شخصیت پرستی کی وجہ سے کسی پارٹی کو ووٹ دیتا ہے کیا وہ کسی قسم کی نظریاتی کفتگو یا کسی نظریے پر اپنی رائے دینے کا حق رکھتا ہے ؟ جب کہ بلاول کا اٹھایا گیا نکتہ خالصتاَ نظریاتی نکتہ ہے جس کا جواب بھی دلیل کے ساتھ اور نظریاتی بنیادیوں پر دینا چایئے بجائے اس کے کہ اس نظریے کو صرف اس بنیاد پر رد کر دیا جائے کہ وہ ووٹر جو بھٹو کے نام پر پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتا ہے وہ ناراض ہو جائے گا۔ حامد میر صاحب آپ اس سے بہت بہتر ہیں، دلیل کہاں ہے؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ میر صاحب ان اراکین اسمبلی کو سمجھاتے کہ وہ لوگ لیڈران ہیں اور انکو عوام کو آگے بڑھ کر کمان کرنے کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ انکا کام یہ نہیں ہے کہ وہ ہر پانچ سال بعد شخصیت پرستی کے نام پر ووٹ بٹور کر مقننہ میں آ جایئں۔ ان کو چاہیے کہ اپنے کام اور نظریاتی بنیادوں پر ووٹ لے کر آیئں- وہ کب تک عوام کے مذہنی اور سیاسی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہیں گے۔ بہرحال میر صاحب نے یہ کہنا تھا اور نہ کہا بلکہ ان معزز اراکین اسمبلی اور سینٹر صاحب کے اس ‘گلے’ کو ایک پراپیگنڈہ اور دلیل کی طرح استعمال کر کے آگے بڑھ گیئے۔

جہاں تک حامد صاحب کی اس دلیل کا تعلق ہے کہ کچھ دوسرے ممالک میں بھی سربراہ مملکت  کے لیئے کسی خاص مذہب سے تعلق ضروری اور پاکستان اس میں اکیلا نہیں ہے تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ہر ملک کا ایک اپنا نظام اور اپنے معروضی حالات اور اپنی تاریخ ہوتی ہے جس کی بنیاد پر اقوام اپنے فیصلے کرتی ہیں۔ آج کسی غیر جمہوری معاشرے کے قوانین کو پاکستان کے اس معاشرے پر، جہاں جمہوریت کی ایک تاریخ ہے، مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان خالصتاَ ایک سیکولر جمہوری عمل کی پیداوار تھا، تو حامد میر صاحب غیر جمہوری معاشرے اور ایسے معاشرے جہاں پر جمہوریت ابھی نئی نئی آئی ہے، کی مثالیں دے کر کیا باور کروانا چاہ رہے ہیں جب کہ ایسے ممالک بھی اب سیکولر روایات کو اپناتے نظر آرہے ہیں؟ کیا حامد میر صاحب اس بات سے انکار کریں گے کہ پاکستان کے جملہ ادروں نے، سپریم کورٹ سے لیکر ہر ادارے میں غیر مسلم سربراہان دیکھے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے کچھ شہریوں کو درجہ دوم میں ڈال دینے سے اور پاکستان کو کی ریاست کو زیادہ سے زیادہ مذہبی بنانے سے عام آدمی کی صحت پر کیا اثر پڑا ہےاور کیا پاکستان کی عالمی سظح پر اہمیت بڑھ گیئی ہے؟ حالت یہ ہے کہ آج پاکستان اقوام متحدہ کا ایک الیکشن بھی ہار چکا ہے۔ کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ اگر آیئن میں غیر مسلم صدر کی گنجائش ہوتی تو کونسا پاکستان کے عوام کا معیار زندگی بلند ہو جانا تھا یا پاکستان نے اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کی کمیٹی کے سربراہ کے لیئے ہونے والا الیکشن جیت جانا تھا؟ سوال پھر بھی وہیں پر ہے جب اس سےعام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو پھر آیئن میں ایسی شقوں کا کیا فائدہ ہے؟

میر صاحب نے کھینچ تان کے برطانیہ کی ملکہ کے لیئے عیسائی ہونا ثابت کیا ہے۔ میر صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ برطانیہ میں ملکہ یا بادشاہ کا عہدہ صرف نمایشی ہے اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایک غیر عیسائی منتخب وزیر اعظم جب ملکہ کے پاس اپنے وزارت کے کاغذات کے ساتھ حاضر ہو گا تو ملکہ اسکو اس بنیاد پر مسترد کر دے گی کہ وہ عیسانی نہیں ہے؟ کیا ملکہ کے پاس یہ اختیار ہے؟ ہمارے آیئن میں تو ایسا لکھ دیا گیا ہے اور اکثریت کے مذہب سے تعلق نہ رکھنے والوں کو دوسرے درجے کا شہری تسلیم کیا گیا ہے۔  کیا آپ یہ ثابت کر سکتے ہیں؟ آج لندن کی میر شپ کے لیئے ایک اہم امیدوار مسلمان ہے تو کیا برطانیہ کا صدیوں پر محیط عیسایئت پر مبنی نظریہ خطرے میں ہے یا ملکہ نے صادق صاحب کے الیکشن لڑنے پر پاندی لگا دی ہے؟

بات ہو جمہوریت اور سیکولر اقدار کی اور بھارت کی مثال دیے بغیر بن جائے، یہ کیسے ہوسکتا ہے، جبکہ قلم پاکستانی کالم نگاروں کے ہاتھ میں ہو۔ میر صاحب نے بھی ہندوستان کی مثال دی ہے  اور یہ باور کروانے کو کوشش کی ہے کہ چونکہ پاکستان میں اقلیتوں کے لیئے مخصوص نششتیں ہیں، آیئن میں انکے حقوق کی ضمانت دی گیئ ہے اور انکو بھارت کی طرح عام انتخابات میں الیکشن نہیں لڑنا پڑتے اس لیئے پاکستان بھارت سے بہتر ہے۔ اور ساتھ میں یہ بھی فرما دیا کہ پاکستان میں اقلیتیں ہندوستان کے مقابلے میں کم ہیں۔ معافی کے ساتھ میں یہ کہنے جسارت کروں گا کہ یہ دونوں دلائل انتہائی بودے ہیں۔ میر صاحب! حقوق کوئی خیرات نہیں ہوتے کہ انکو بانٹا جایے۔ ایک ریاست میں رہنے والے سب لوگوں کے حقوق برابر ہوتے ہیں۔ اصل جھگڑا ہی یہی ہے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آیئن میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے  تو ہم ایک گروہ کو برتر اور دوسرے کو کم تر سمجھ رہے ہوتے ہیں اور یہ کہ برتر گروہ اپنے سے کمتر گروہ کو حقوق دان کر رہا ہے۔ جب ایک ریاست وجوود میں آگئی تو اس ریاست کے سب شیریوں کے حقوق برابر ہو گیئے۔ اس میں آیئن کو کسی خاص مذہب، رنگ یا نسل سے تعلق رکھنے والوں کو حقوق کی ضمانت دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اب بھارت میں اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں تو پاکستان کا بھی انسانی حقوق کے حوالے سے ٹریک ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے پھر بھی کیا وجہ ہے کہ بھارتی مسلمان سیکولرازم کے دفاع کے لیئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے پر آمادہ نظر آتے ہیں؟ یاد رہے کہ جئے ہند کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنا سیکولرازم نہیں مودی ازم کا شاخسانہ ہے۔ ویسے بھی “تجھے پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو”!!! پاکستان کی غیر مسلموں کو وزارتیں دینے کی روایت اگر پرانی ہے تو ایسے وزراء کی پاکستان چھوڑ کر جانے کی روائت بھی اتنی ہی پرانی ہے۔

1973 کے آیئن میں اگر کوئی ایسی بات لکھ دی گئی ہے جو جدید نظریات سے میل نہیں کھاتی تو خاطر جمع رکھیے کہ عوام کا اجتماعی ذہنی شعور اسکو بدل دے گا، کہ قانون سازی کے لیئے ہر پانچ سال بعد چناؤ کروانے کا یہی مطلب ہے کہ “ثبات ہے بس ایک تغیر کو زمانے میں”! جب ہم جمہوریت جو کہ اور سیکولر سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے کو قبول کر چکے ہیں تو اسی نظام کے اندر رہتے ہویے قانون سازی ہورہی ہے۔ آپ کہاں تک اور کب تک ایک سیکولر نطام میں رہتے ہوئے اس نظام کی روح سے رو گردانی کر سکتے ہیں؟ بلاول کی تقریر، اکیسویں ترمیم، غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون سازی، حقوق نسواں کا قانون وغیرہ اسی کا شاخسانہ ہے۔

 

 

 

It was 29th of February, when I woke up with the news of hanging of Malik Mumtaz Hussain Qadri. Though; I believe that there must be moratorium on capital punishment in Pakistan, where the justice system is not comparatively transparent as compared with other nations and that he must  have been interned for life, at maximum but let bygones be bygones. Now the point is, what is next?

International media has already started praising PMLN government for the paradigm shift from conservative right wing party to a liberal democratic party. But is this praise enough when in Pakistan itself there are hundreds of thousands of people come on roads of Rawalpindi to bid farewell to Mumtaz Qadri and all religious parties’ leaders attend the same. Doesn’t this mean that multitude is against hanging of Mumtaz Qadri? Since, they are planning for bigger demonstrations on Qadri’s chehlum and such practices seem to be continued for days to come. Recently when Nawaz Sharif was in Saudi Arabia, people chanted slogans in favour of Qadri in the presence of Chief of Army Staff. We witnessed the same thing happening at Karachi Airport with Pervaiz Rasheed. Let us not talk about the formidable situation when there will be Qadri’s mausoleum built etc for the moment since he is being considered now as a protagonist of the holy cause.

What we see now is a mere statement from Minister for Broadcasting Mr. Pervaiz Rasheed and rest there is death silence in the chambers of state as to why this hanging was necessary. It is the high time that state must tell the nation as to what crimes did Mumtaz Qadri commit. Right now there is an upheaval, though somehow silent, being built in the common man that state has murdered Mr. Qadri unlawfully, which must not be ignored. Almost every day we see the page long advertisements of PMLN’s so called achievements on securing loans till laying foundation stones of some projects or even approving some project but after the hanging of Mr. Qadri we didn’t see any advertisement or write up and any of the vernaculars, educating nation about the nature of crime(s) Qadri committed. State must take such measures as to build an opinion of the common man, educating the nation that nobody is above law and it is not under jurisdiction of  common citizens to be prosecutor, judge, jury, appellate court and executioner by themselves. It is only state’s responsibility to do so. Otherwise the chaos is imminent. State must take such measure to curb the situation right now and this would be the next step towards a plural democratic state after 21st amendment.

Secondly, it is the time when the role of Council of Islamic Ideology (CII) is limited by state. If it is necessary to keep CII (since, parliament is enough for lawmaking), the role must (only) be to advise as to how the laws can be made Shariah compliant with today’s scientific world and that also upon request of elected representatives only. There must be reserved seats for scientists and civil activists so that head of the constitutional body doesn’t show ignorance towards scientific research.

If state won’t act by itself, it is bound to act on behest of those powers who shape the world and ultimately lead the world. Pakistan was not formed to be a parasite and rely on others’ policies. It has to lead show to the world its own culture, own laws which have oozed from this very land as a result of five thousand years of rich history and civilization. It has to evolve towards pluralistic democracy so that we must have something to offer to the world. Which we currently lack.