Archive for the ‘Politics’ Category

میں میاں محمد نواز شریف ولد  میاں محمد شریف سکنہ جاتی امراء رایئونڈ، ضلع لاہور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ مجھے آج پہلی دفعہ پتہ چلا کہ غالب یعنی ہم سے پہلے کوئی میر یعنی ویٹو کورلیونی بھی تھا اور اسکو گاڈ فادر کہتے تھے۔ اس نے بھی جرائم کر کر کے ایک ایمپایر بنا لی تھی۔ وہ جو بھی تھا آج میں اس کو چیلنج کرتا ہوں کہ میں جو جاتی امراء، ماڈل ٹاون اور ڈونگہ گلی سے لیکر پانامہ اور لندن تک  اس سے بھی زیادہ اپنی الحمدللہ پراپرٹی بنا چکا ہوں، آج جو میری لوہے کی فیکٹریاں سب سے زیادہ منافع کما رہی ہیں، آج جو پورے پنجاب یعنی 60 فیصد پاکستان کی بیوروکریسی میری جیب میں ہے۔ بیٹ دیٹ۔ ایک فرق یہ بھی ہے کہ وہ افسانوی کردار تھا اور میں زندہ جاوید جیتا جاگتا کردار ہوں۔ کیسے اس عدلیہ میں اتنی جرات پیدا ہو گئی کہ وہ میرے سے میرے پیسے کا حساب مانگے۔ ججز نے تو گاڈ فادر کے ناول سے اپنی ججمنٹ کا آغاز کر کے ایک غیر انسانی، غیر اخلاقی اور اگر میں یہ کہوں کہ غیر مذہبی کام بھی کیا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ باقی باتیں اپنی جگہ پر لیکن ججز کے اس فعل میں سے مذہب سے دوری کا جو شایبہ پیدا ہو رہا ہے اسکو انصار عباسی اور اوریا مقبول جان دیکھ لیں گے۔ میں اس پر کیا کہوں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کسی آیت یا حدیثؐ سے ججمنٹ کا آغاز کیا جاتا۔

یہ وہ پہلی چیز تھی جو مجھے پانامہ والے کیس کے فیصلے سے پتہ چلی۔ باقی بیٹی نے موبایئل فون فل چارج کیا ہوا تھا اور اپنے چاچو کو بھی گھر پر دعوت دے رکھی تھی۔ جیسے ہی فیصلہ جیو ٹی وی پر نشر ہوا اس نے فوراَ ملازم کے ہاتھ میں فون دیا، مجھے بھائی سے گلے ملنے کا کہا اور ایک تصویر اور بنائی اور اسی وقت ٹویٹر پر اپلوڈ کر دیا۔ آجکل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، کیا کریں بھائی، ضروری ہوتا ہے۔ میں نے اسی وقت بھائی کو بتایا کہ اتنی ایفیشنسی سے کوئی مستقبل کا وزیراعظم ہی کام کر سکتا ہے۔ بھائی نے میری بات سن کر مجھے برخوردار حمزہ کا سلام پہنچایا۔ ویسے تو جس دن سے میں نے اقتدار سنھالا ہے اس دن سے آج تک کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب میری اور میرے بھائی کی شکل اخباروں میں عوام کے پیسے سے نہ چھپوائی گئی ہو! لوگوں کو پتہ چلنا چاہئے کہ ہم کام کر رہے ہیں چاہے زمین پر کام نہ ہوا ہو۔ لوگ اشتہار دیکھ کر ہی تو ووٹ دیتے ہیں۔ ایک آپس کی بات آپ کو بتاوں کہ جتنی دفعہ میری شکل اخباروں مین چھپی ہے کم و بیش اتنی ہی دفعہ جنگ کراچی کے حیدر آباد کے صفحے پر اس کچرے کی تصویر بھی چھپ چکی ہے جو بلدیہ اٹھا کہ نہیں دے رہی۔ عوام نے پھر بھی پیپلز پارٹی کو ہی جتوانا ہے۔

دو ججوں نے مجھے جھوٹا اور خائن قرار دیا تو تین نے میرے صادق اور امین ہونے پر صرف شک کا اظہار کیا۔ کیا اس سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ پورا پاکستان میرے پر اعتماد کرتا ہے۔ میں ایسی عدالتوں کو ویسے نہیں مانتا لیکن بین الاقوامی  اور اقوام متحدہ کے قوانین کی وجہ سے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں! نہیں تو دل تو میرا بھی کرتا ہے کہ چین اور ترکی جیسا ماڈل پاکستان میں لے آوں اور ایک ہی پارٹی یعنی مسلم لیگ نواز اس ملک میں راج کرے یا ایک ریفرینڈم سا کروا کے صدر بن جاوں اور سارے اختیارات اپنے اور اپنے خاندان میں بانٹ دوں۔ سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے! میں سنجھ رہا ہوں کہ آپم کیا کہنا چاہتے ہیں کہ ڈی فیکٹو تو میرا خاندان ہی یہاں پر راج کر رہا ہے یعنی عابد شیر علی جیسے نامعقول شخص سے لیکر اسحاق ڈار اور میری بیٹی جس کے باس کوئی عہدہ نہیں ہے، لیکن یہ قانون کی تلوار میرے سر پر لٹکتی رہتی ہے کہ ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی اس پر سول اٹھا دیتا ہے۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری! میں ایک سرمایہ دار ہوں اور سرمایہ دار کا بنادی مقصد اقتدار میں آنا ہوتا ہے چاہے وہ پردے کے پیچھے سے ہو جیسا کہ ملک ریاض یا سامنے آکر جیسے شاہد خاقان عباسی اور میر شکیل الرحمان! آپ یہ دیکھیں کہ جیسے ہی فیصلہ آیا سٹاک مارکیٹ میں بلش ٹرینڈ تھا اور لوگوں نے دس منٹ کے اندر اربوں روپوں کا منافع کما لیا۔ جیو ٹی وی اس پر بریکنگ نیوز دے رہا تھا اور میرے کارکنان اس کی سوشل میڈیا پر لایئو سٹریمنگ کر رہے تھے۔ عوام کو کیا پتہ کہ مارکیٹ مینیپولیشن کس چڑیا کا نام ہے۔ مجھے اس قوم نے ووٹ دیا ہے جو مہنگائی میں پس رہی ہے لیکن وہ  پھر بھی صرف  پانامہ کا فیصلہ سننے کے لیئے میٹرو پر جا جا کر ایل سی ڈیز خرید لیتی ہے چاہے بچوں کی سکولوں کی فیس رہ جائے۔ میرا سلام ہے گوالمنڈی کے اس کارکن کو جس نے بڑی سکرین پر یہ فیصلہ سننے کا اہتمام کیا تھا اور فیصلے کے بعد بھنگڑے ڈلوائے تھے۔ محفل ہوئی تھی۔ ٹی وی والوں نے یہ سب لایئو دکھایا تھا۔سیدھی سی بات ہے کہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔

پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ اس سارے پانامہ کیس میں وکلا کا خرچہ، انکی رہایش اور بورڈنگ لاجنگ سب قومی خزانے سے ادا کی گئی ہے۔ اخباروں اور ٹی وی پر اپنی فتح کے اشتہار بھی اسی عوام کے ٹیکسوں سے دیے گئے ہیں۔ وہ میرا لونڈا سعد رفیق جو میرے لیئے اپنا لہو حاضر کرنے کے بینر سڑکوں پر لگاتا پھر رہا تھا وہ بھی عوام کے خرچے سے تھا۔ آپ کو تو شائد پتہ بھی نہ ہو کہ یہ جو پی آئی ڈی ہے جہاں پر سپریم کورٹ میں ہر پیشی کے بعد دانیال، جسے عمران خان موٹو گینگ کا نمایندہ بتاتا ہے، پریس کانفرنس کرتا تھا اس کا بل بھی عوام کے ٹیکسوں سے ادا کیا جاتا تھا۔ یہ عمران خان یہ سراج الحق یہ شیخ رشید جیسے تھالی کے بینگن کیا جانیں کہ حکومتیں کیسے چلتی ہیں ۔ جہاں تک بات ہے زرداری صاحب کی تو وہ اور میں تو ایک ہی ہیں۔ انکا مقصد اپنی زرعی سرمایہ داری کا تحفظ ہے اور میرا اپنی صنعتی سرمایہ داری کا تحفظ۔- یہ جو ہم نے میثاق جمہوریت کا ڈھونگ رچایا تھا آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ جمہوریت کے لیئے تھا؟ جی نہیں! کیونکہ ہم جمہوری ملک ہیں ہی نہیں۔ جی نہیں میں عمران خان جیسے کوتاہ اندیش کے کسی گھٹیا بیان کا حوالہ نہیں دے رہا ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے اس سے پہلے برطانیہ کے اکنامسٹ انٹیلجنس یونٹ کا نام بھی نہیں سنا ہو گا جو پاکستان کو ہایبرئڈ ریجیم میں بریکیٹ کرتا ہے۔ کہان کی جمہوریت اور کہاں کے جمہوری ادارے۔ کیسی عدالتیں اور کیسی جے آئی ٹیز۔  کیا یہ محض اتفاق ہے کہ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ججز میرے خلاف فیصلہ دیں اور باقی تین پنجابی جج مجھے اور موقع دے دیں۔ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے۔ اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے۔

ججز نے جس ناول کا حوالہ دے کر اپنی ججمنٹ شروع کی ہے، مجھے ابھی ابھی برادرم عرفان صدیقی نے ایک پرچی پر اسکا ایک اور ڈایلاگ بھی لکھ کر بھیجا ہے جس کا ترجمہ ہے کہ میں اسکو ایسی پیشکش کروں گا جسکو لینے سے وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ خواجہ سعد رفیق سے بات ہوئی تو کہنے لگا کہ پانچ میں سے صرف دو ججز نے مجھے نا اہل کرنے کی سفارش کی ہے باقی کہتے ہیں کہ تھوڑی اور تحقیق کر لیں۔ اور وہ تحقیق ہمارے ادراوں سے کروایئں گے۔ پھر وہ بتانے لگا کہ ایف آئی اے، نیب، سٹیٹ بینک، سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمایندے اس تحقیق نیں شامل ہوں گے جن میں سے زیادہ تر ہمارے ہی بھرتی کیئے ہوئے ہیں تو پریشانی کی کوئی بات نہین۔ مجھے تسلی دیتے ہوئے کہ ریا تھا کہ جس طرح جوا خانے میں جواری ہارتے ہین جوا خانہ نہیں، اسی طرح حکومت بھی کبھی نہیں ہار سکتی اور آپ کے لیئے ہمارا لہو حاضر ہے۔ !!! آپ لوگ جانتے ہیں کہ ان سارے اداروں میں وہ تمام لوگ جو آگ سیکریٹری کے عہدے پر پہنچ چکے ہیں وہ ضیاالحق شہید کے دور سے لیکر اب تک میں نے خود بھرتی کروائے ہیں۔بے بی فنگر بے بی فنگر ویر آر یو!! ہیر آئی ایم ہیر آئی ایم ہاو ڈو یو ڈو۔

مجھے معلوم ہے کہ آج آپ لوگ میرے پاس اس پیسے کا حساب مانگنے آئے ہیں جسکا جواب میں 126 دن کی سپریم کورٹ میں سماعتوں کے دوران بھی نہیں دے سکا۔ اب آپ لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ اس دو مہینے کی جے آئی ٹی میں آپ کو یہ سب معلومات مل جایئں گی؟ ابھی تو ججز بیمار پڑیں گے۔ ابھی تو بینچ ٹوٹیں گے اور نئے بینچ بنیں گے۔ابھی تو جج چھٹی ہر جایئں گے۔ ابھی تو آئی آیس آئی اور ایف آئی آے کے نمایندوں پر عدم اعتماد ہو گا، ابھی تو جی آئی ٹی پر میرے بچوں کو ہراساں کرنے کے الزامات لگیں گے، ابھی تو سٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے نمائندوں پر اپوزیشن اقربا پروری کا الزام لگائے گی۔ ابھی تو جلسے ہوں گے، لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بنے گی، فوج کے سربراہ کے بیان ایئں گے، اخباروں میں اشتہار چھپیں گے، اینکرز لوگوں کو بلا بلا کر لڑوایئں گے اور اپنے مالکوں کو پیسہ بنا کر دیں گے۔ مرے سے استعفی منگا جائے گا تو میرے کارکن جلسوں میں بازو دکھا دکھا کر اور ایڑیاں اٹھا اٹھا کر، منہ سے کف گرا کر یہ چیلنج دیں گے کہ جاہئے استعفی، لے لو گے استعفی؟  صالح ظافر اور طاہر خلیل میرے حق مین خبریں اور عطا اللحق قاسمی کالم لکھیں گے۔ یہ دیکھیں یہ سری پائے اور کڑاہی میں نے ابھی گوالمنڈی سے منگوائی ہے۔ آیئے مل کر کھاتے ہیں کہ میں میاں محمد نواز شریف ولد محمد شریف سکنہ جاتی امراء رایئونڈ، ضلع لاہور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میرے پاس اگر منی ٹریل ہوتی تو پہلے ہی عدالت میں جمع کرا چکا ہوتا!!!

At this moment Imran Khan stands at the verge of losing all his gains which he got in the past half a decade (since 30 October 2011). Why do I think that he is going to lose this battle with PMLN, will elaborate in the coming passage.

Currently Imran Khan has called for a Lock-down of Islamabad till Nawaz Sharif doesn’t present himself for accountability or resigns amidst the uproar and upheaval of Panama Paper Leaks. But did it all start only after Panama Papers were leaked? The answer is NO. Imran Khan has been on the roads since 2013 elections. In 2014 when Imran Khan was staging a sit-in in Islamabad he gave the slogan of Go-Nawaz-Go to the nation, implying that he won’t return till he has resignation of the Prime Minister in his hands. Then the sky witnessed that none of the skies fell on PMLN leadership.

Coming to the point, what is/ are the reason of Imran Khan’s failure? We will try to learn point-by-point.

  1. PMLN’s vicious media campaign against Imran Khan and using channels and newspapers constantly rant against him. Media is used, as always, to instill one thing in the minds of a common man that there is no hero or a leader. The other person is just like a common man. He is also corrupt just like other politicians and that is what PMLN has exploited insofar as Imran Khan’s so called charisma was concerned. Such aspersions as his drug taking habits etc. has done the damage.
  2. PMLN’s continuous advertisements in the Urdu and English papers about so called economic revolution despite the fact that Pakistan’s economy has been in perils since PMLN has taken over. But a common man whose biggest worry is to make both ends meet has no time to ponder on it. He sees ads, some concrete and mortar on the roads and takes such ads as truth and moves on.
  3. Extensive Social media bashing and abusing by PMLN’s social media cell which starts and ends at vituperation while maintaining constant stance that PTI people do abuses. In fact this is the culture of Punjab and other parts of the country that no one can comment on the political situation without using an abusive word. Again, the way PMLN social media cell has taken the culture of abuses to the next level while they compare N League’s thirty five years rule on sixty percent of Pakistan with PTI’s Three Years government in KPK is something really substantial. A common man using Twitter and Facebook considers blatant lies and rants of PMLN’s social media cell as a source of enjoyment and even those decisions taken by PTI in good faith are made a joke on such forums.
  4. Corruption is a culture in Pakistan and when PTI talks about ending corruption and starting a campaign against such evils, there starts a comparison by renowned journalists (while they pose to maintain their neutrality) with PTI’s government and it is proved that PTI is as much as corrupt as any other party.
  5. PTI has been emanated as the biggest right wing party in Pakistan. It is such decisions as sending the Women Protection Bill to Council of Islamic Ideology, giving aid to those denominational institutions which are considered as nurseries of Taliban had a backlash from progressive communities of the country. Imran Khan still maintains that Taliban fighting against Afghan Government are freedom fighters and suicide attacks are a reaction to the drone attacks etc. This kind of attitude has made the people of liberal approach keep a safe distance from PTI. Although PMLN is also a right wing party but the PTI is more at receiving end of insinuation since it was considered a party with liberal approach. Furthermore, when people like Orya Maqbool Jan are seen toeing the PTI’s line and inciting the people towards defiance and violence against police, people usually distant themselves from such activities.
  6. Imran Khan is short of vocabulary and thoughts. People are fed-up of his same speech (read: rhetoric).
  7. As claimed before elections, PTI has remained unable to do wonders in terms of development although the foundation stones of police reforms and law making has been setup will have long lasting effect but, I repeat, people want to see some red color busses, concrete and roads.
  8. There is a strong perception built among a common man that behind PTI there is establishment, which is taken as matter of abhorrence by intelligentsia.
  9. It seems that Imran khan has been unable to read through the geopolitical situation of Pakistan where Pakistan has been made to stand in the court to answer about anything and everything. Imran Khan also seems totally indifferent to the Kashmir cause, Indian atrocities and he has no idea that because of him Pakistan has been lagging behind lobbying at an international forum. He has just one point agenda to get rid of Nawaz Sharif on the roads because he is corrupt. He also knows, since Nawaz Sharif has strong hold in whole Punjab it is near to impossible to defeat him in elections.
  10. Last but not least, this time Imran Khan has made a big mistake by announcing locking down the capital which is never accepted by any state and establishment. Courtesy his antagonistic approaches, his journey from a real political leader to a demagogue has been cut short. Still one can hope that he succeeds in this fight against corruption.

One can write infinite reason as to why Imran Khan’s whole agitation against drone attacks till election rigging and till corruption of Nawaz Sharif is a failure but the main reason still holds good that Pakistani nation (mostly Punjab) don’t do agitation against oppressors. This is their history. Zulfiqar Ali Bhutto once said that if any harm is done to him Himalayas will cry. Rest is history.

 

Now a days, people from all school of thoughts are discussing the issue of Afghan Immigrants being asked to leave Pakistan by 31st December 2016. Some people argue that it shall be benign to keep Afghans here in the country and others see Afghans as a security threat. But by doing so, they tend to see the picture in either black or white.

The group who favors keeping them in Pakistan, totally forget the issues associated with keeping them here in the country which involve security mainly and then social issues like narcotics, smuggling, robberies and kidnapping for ransom etc. While advocating for keeping them here in the country they usually rely on expounding lower level benefits they bring about. For example an afghan working in fields of a small scale farmer. Other than that they give examples for history as to how ancient tribal people used to open the doors for immigrants.

On the other hand, the group who opposes the extended residency of Afghans here in the country don’t usually seems concerned about finding a way to harness the expertise of skilled, unskilled and (or) semi-skilled labor for boosting country’s economy and generating new opportunities in order to exploit the opportunity of availability of cheap labor.

We are living in the twenty first century which is governed by free trade agreements. All developing countries are doing is to create such a business friendly environment as governed by universal labor laws in order to attract multinational companies to set up their business there so that more jobs are created and manpower is utilized for the betterment. In a broader canvas, the developed countries like Australia, Canada and USA, import skilled or semi-skilled manpower from other countries which in return serve their economy. One country’s brain drain becomes brain of other country.

Taking about Pakistan, there is no official policy to curb brain drain or increase brain gain. One can just go through the official website of Directorate General of Immigration and Passports to know that Pakistan is still living in past century where one is Pakistani either by birth or by migration of by descent. The language used on this website page is also vague and doesn’t provide any information about migrants (like Afghan Migrants) and those kids who are born to a migrant in Pakistan as to how can they apply for Pakistani citizenship. However, under Citizen By Birth clause the official website doesn’t forget to specify that children of enemy born in Pakistan are not considered citizens without paying heed to defining as to who is enemy. Do we consider Afghan as an enemy state or friendly state? The word enemy is specific to only one country? If officially we talk about enemies it begs the same question about friendly state(s) and what is the fate of children of friendly aliens born in Pakistan? All of the verbose in those website is so confusing.

In all of the developed or developing world there are some rules and regulations set regarding immigration. Countries like Canada and Australia rely on the efficacy of points based system in which a person has to prove him/herself fit for job, security clearance and qualification etc and after residing in such countries for up to five years one can get the citizenship. These countries also give opportunity to provinces to carry out provincial nominees and other such programs so that if a province feels that there is shortage of manpower, it can seek from outer world. In Pakistan we can see that a child of Afghan descent born in Pakistan cannot apply for Pakistani citizenship.

If a migrant is having business here in Pakistan or doing a job, he/she must be entertained with respect and given full opportunity to prove themselves and after a prescribed time frame given Pakistan citizenship with due process which includes security clearance, education background and (or) worth of business etc. In this way they will come in the mainstream and Pakistan will commence brain gain.

It is high time that we open our doors and follow the norms as in place in other countries which must include but not limited to:

  1. Right to apply for citizenship of Afghans or other migrants, subject to such security clearance or skills or qualification as deemed necessary by the state.
  2. Right given to provinces to nominate immigrant applications.
  3. A change in federal immigration policy with a view of brain gain and lucrative opportunities for foreign resident Pakistanis
  4. Repealing of rule to not grant immigration to a person married to Pakistani woman

Just giving deadlines to leave the country to those who were born here and have been living in the country for almost three decades now is not only inhumane but also doesn’t conform to the international laws and regulations governing migrants. State always has the right to deport or cancel the passports of those who are considered security threat.

 

It was 29th of February, when I woke up with the news of hanging of Malik Mumtaz Hussain Qadri. Though; I believe that there must be moratorium on capital punishment in Pakistan, where the justice system is not comparatively transparent as compared with other nations and that he must  have been interned for life, at maximum but let bygones be bygones. Now the point is, what is next?

International media has already started praising PMLN government for the paradigm shift from conservative right wing party to a liberal democratic party. But is this praise enough when in Pakistan itself there are hundreds of thousands of people come on roads of Rawalpindi to bid farewell to Mumtaz Qadri and all religious parties’ leaders attend the same. Doesn’t this mean that multitude is against hanging of Mumtaz Qadri? Since, they are planning for bigger demonstrations on Qadri’s chehlum and such practices seem to be continued for days to come. Recently when Nawaz Sharif was in Saudi Arabia, people chanted slogans in favour of Qadri in the presence of Chief of Army Staff. We witnessed the same thing happening at Karachi Airport with Pervaiz Rasheed. Let us not talk about the formidable situation when there will be Qadri’s mausoleum built etc for the moment since he is being considered now as a protagonist of the holy cause.

What we see now is a mere statement from Minister for Broadcasting Mr. Pervaiz Rasheed and rest there is death silence in the chambers of state as to why this hanging was necessary. It is the high time that state must tell the nation as to what crimes did Mumtaz Qadri commit. Right now there is an upheaval, though somehow silent, being built in the common man that state has murdered Mr. Qadri unlawfully, which must not be ignored. Almost every day we see the page long advertisements of PMLN’s so called achievements on securing loans till laying foundation stones of some projects or even approving some project but after the hanging of Mr. Qadri we didn’t see any advertisement or write up and any of the vernaculars, educating nation about the nature of crime(s) Qadri committed. State must take such measures as to build an opinion of the common man, educating the nation that nobody is above law and it is not under jurisdiction of  common citizens to be prosecutor, judge, jury, appellate court and executioner by themselves. It is only state’s responsibility to do so. Otherwise the chaos is imminent. State must take such measure to curb the situation right now and this would be the next step towards a plural democratic state after 21st amendment.

Secondly, it is the time when the role of Council of Islamic Ideology (CII) is limited by state. If it is necessary to keep CII (since, parliament is enough for lawmaking), the role must (only) be to advise as to how the laws can be made Shariah compliant with today’s scientific world and that also upon request of elected representatives only. There must be reserved seats for scientists and civil activists so that head of the constitutional body doesn’t show ignorance towards scientific research.

If state won’t act by itself, it is bound to act on behest of those powers who shape the world and ultimately lead the world. Pakistan was not formed to be a parasite and rely on others’ policies. It has to lead show to the world its own culture, own laws which have oozed from this very land as a result of five thousand years of rich history and civilization. It has to evolve towards pluralistic democracy so that we must have something to offer to the world. Which we currently lack.

 

Everywhere on the Pakistani TV channels (read: News Channels since the only channels snatching ratings are news channels only and there no proper entertainment, science, kids specific channels operate here) and going frenzy over the defeat of PTI. PTI lost in punjab, PTI lost in Karachi and PTI lost here abd PTI lost there. It seems that there is a competition going on between Waseem Badamis and Tallat Hussains and Saleem Safis of our ‘news’ channels as to who can prove ‘better’ that PTI is just another political party of status quo. The new addition is Dr. (?) Amir Liaquat Hussain who is on the channels to crack corny jokes on the defeat of PTI in Karachi.

The local body elections were supposed to be a serious business of the state insofar as democracy is concerned but to much dismay the so called anchors have made it a joke. While hosting a show at ARY News, sometimes Amir Liaquat Hussain was seen making fun of Imran Khan and sometimes PTI partisans were termed as burgers and whole lot of anchors was laughing like kids whereas PTI representative Miss Naz Baloch was like lone warrior in between a patriarchal gathering!

Enough with prologue! The point I want to make here is that none of the so called anchors and intelligentsia raised the questions like,as to why the people, again went to elect those scoundrels:

  1.  Under whose rule they had seen Karachi transforming from city of lights to a city of garbage, filth and trash on roads.
  2. Under whose governments there was and is target killing sky rocketing.
  3. Whose governments facilitated the corruption to flourish.
  4. Who became proprietors of land and water Mafia.
  5. Who made the city a free for all city.
  6. Who made the rule of law a joke. You can kill someone and get away with it easily and it remains just another day for the state.
  7. Who didn’t allow mass transit projects t be executed in the largest city of Pakistan.

Yes, this was a victory day for PPPP and MQM! People are happy and anchors are happy that PTI has lost! It isn’t not PTI who has lost, it is the fate of Karachi who has lost. These anchors and media people don’t know what crime they are committing by instilling misoneism in the hearts of common Pakistani who has been deprived of its basic human rights like food, education, transport, and health and yet again by constant propaganda against PTI they have succeeded in proving that PTI is just another party. Since it was impossible for them to prove that PTI was better than other parties they thought it easy to prove this party like any other party and in this scenario they coerced this party to commit blunders as well.

Well congratulations Pakistan and Pakistani media’s Waseem Badamis you have succeeded by defeating the hope.

We are already 100 years behind the civilised world! Let it be 100 more years! Langras and Paharis and Saulat Mirzas in Karachi and Bhuttos and Zardars in Sind and sharifs in Punjab are there to rule you for the next 100 more years where

  1. Ishaq Dar will ensure that FDI becomes all time low or infitissimal and based on loans from IMF he will announce that foreign reserves have been increased
  2. Nawaz Sharif will ensure that show case projects like some flyovers and concrete and mortar and steel is up there to fool the nation and hospitals kids will keep on dying due to lack of food
  3. Bhuttos and Zardaris will ensure that interior Sind remains as backward as Stone Age
  4. Karachi will keep on witnessing first filth and grab age along with as old and poor transport infrastructure as that of sixteenth century!

Hail the Pakistani media and Pakistani nation you succeeded in your agenda!

پاکستان کو ڈگر پر آنے کے لیئے کن کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ فہرست ملاحظہ فرمایئں:

۔ فوج کو واپس پیرکوں میں بھیجنا اور ضروری دفاعی اخراجات’ زمینوں کی الاٹمنٹ وغیرہ کا آڈٹ

پولیس کو غیر سیاسی کرنا اور اس قابل بنانا کہ وہ وفاقی وزیر داخلہ کے بھی اثر میں نا آئے۔

۔ عدلیہ کو غیر سیاسی کرنا اور اس قابل بنانا کہ وہ آزادانہ فیصلے کر سکی۔


۔ مقننہ کو صرف اور صرف قانون سازی تک محدود کرنا اور شوبازی جیسا کہ درجنوں کیمروں اور خفیہ والوں کے جھرمٹ میں وزیر اعلیٰ کے ‘بغیر
پروٹوکول’ کے رمضان بازار کے دورہ جات


۔ وفاقی و صوبائی وزیر اطلاعات کا عہدہ ختم کرنا کیونکہ ایسے عہدے صرف آمریت میں ضروری ہوتے ہیں۔ جمہوریت میں انکی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
۔ کرپشن پر سخت سے سخت سزایئں عہدے کا لحاض کیئے بغیر


۔ پاکستان کو چین اور امریکہ کی جھولی سے نکالنا۔۔


۔ زرعی اراضی کو صرف اور صرف زرعی مقاصد کے لیئے استعمال کرنا اور ایسی ہاوسنگ اسکیموں کی حوصلہ شکنی کرنا جو زرعی زمین پر بنائی
جایئں۔ ہم دنیا کی فوڈ باسکٹ کا حصہ ہیں اور ہمیں ایسا رہنا ضروری ہے جو نہ صرف دنیا بلکہ ہماری بقا کے لیئے بھی ضروری ہے۔

۔ تمام تر مزہبی معاملات ریاست (یہاں مراد حکومت نہیں ہے) کے دایرہ اختیار میں ہوں۔ کوئ پرایئویٹ مسجد یا مدرسہ قائم نا کیا جاسکے۔ ایسے ادارے حکومت چلائے اور علماء ریاست کے تنخواہ دار ملازمین ہوں۔ عالم بننے کے کے لیئے کم از کم تعلیم بارہ جماعتیں یا اس کے مساوی اور اینٹری ٹیسٹ ہو جیسا کہ انجینیرنگ اور میڈیسن پڑھنے کے لیئے لازم ہوتا ہے

 اور بندہ بہت بھی خوش فہم واقعہ ہوا ہو تو بھی مندرجہ بالا اہداف کو حاصل کرنے میں پچاس سے ستر سال تو کہیں نہیں گئے

50 to 70 years minimum required accomplish this job if an honest govt starts this TODAY!.. I wonder we still be here after a century.

Some think tanks  suggests that the rise of Pakistan is just a matter of time. I agree because yes this is just a matter of time for every nation. In today’s global village there is no other option. But the point is that, since we are hundred years back from the world our time to rise is also with the same proportion.

Fact is that Pakistan as a state has utterly failed insofar as scruples are concerned to be run. It has failed to ameliorate the backward condition of its inhabitants and masses still craving for the same freedom as they were during colonial era. One is coerced into cogitating that the current functioning of state is worst than some autocracy. The state is numb. The incident of Baldia Town garments factory is a living example as to how fact we are becoming a numb nations, an inchoate failed state where the it is prerogative of some militant wings of a party to hijack whole judiciary and police a silent spectators or their mouths are muzzled and eyes blind folded with money so that culprits are saved. No when the report is promulgated and presented in the court, the so called journalists like Hamid Mir are trying to dilute the fact that MQM was involved in this incident.

This incident reveled once again that Pakistan state cannot hear the voices of people who are burnt alive in a factory because the owner of that establishment failed to pay the extortion money to MQM. This report suggests as to how Police and Judiciary i.e., state, helped the criminals to get away with the broad day light murder of the more than 250 poor and innocent workers. Albeit, the mainstream parties of Pakistan are working hard to secure some seats in senate with the help of MQM. They rejoice that PPP reached an agreement with MQM and very soon MQM will be on the treasury benches in Sind Assembly. Now a days the biggest question in my mind is if Pakistan really a failed state or inchoate failed state moving swiftly towards a big failure? Wait, what if Pakistan is not a nascent failed state but a numb one? No one key person in the government will take this failure’s responsibility but and like past small scale policemen will be held so.

The list of such internal failures is long and state seems to be hijacked by mafias., religious and ethnical mafias for the past seven decades. But have Pakistan achieved at international front? This is another tale of failures without anyone responsible.

Is it not true that Pakistan is isolated in the world at all the fronts and at international levels Pakistan’s voice is not being heard. Is it not the fact that Pakistan has lost its integrity and respect once possessed in 60s and 70s. But who is responsible for that?

All the world’s economic leaders  and UNSC veto power states are/ have been visiting India while no significant leader visited Pakistan in the past 7 ~ 8 years. Insofar as respect for any nation is concerned, the obvious yard stick to measure it is the country’s passport and Pakistan’s Passport is ranked one of the lowest in the world, bracketed with that of civil war and famine ridden Somalia. In the past decade, I can’t recall any significant success by Pakistan even in sports, let alone, diplomatic fronts. Our so called intellectuals give this lullaby to the nation that India cannot become the member of UNSC despite US support but they forget that at least India is in the queue to become a permanent member of security council but where does Pakistan stand?  Is there any, even, mere chance for Pakistan to play a bigger role in Security council? The answer today is No. This is the difference when a country has nothing to offer to the world except terror and no self reliance.

This is today’s Pakistan, where no one is responsible. You may murder, do corruption, may create Petrol Crisis, fail on International fronts, surrender in the battle field to enemy but state remain irresponsible.

Till we as a nation don’t held those responsible who ruled this country in past seven decades, world won’t even allow us to stand in the queue of potential progress with them. World will keep on isolating Pakistanis.