Posts Tagged ‘Nawaz Sahrif’

میں میاں محمد نواز شریف ولد  میاں محمد شریف سکنہ جاتی امراء رایئونڈ، ضلع لاہور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ مجھے آج پہلی دفعہ پتہ چلا کہ غالب یعنی ہم سے پہلے کوئی میر یعنی ویٹو کورلیونی بھی تھا اور اسکو گاڈ فادر کہتے تھے۔ اس نے بھی جرائم کر کر کے ایک ایمپایر بنا لی تھی۔ وہ جو بھی تھا آج میں اس کو چیلنج کرتا ہوں کہ میں جو جاتی امراء، ماڈل ٹاون اور ڈونگہ گلی سے لیکر پانامہ اور لندن تک  اس سے بھی زیادہ اپنی الحمدللہ پراپرٹی بنا چکا ہوں، آج جو میری لوہے کی فیکٹریاں سب سے زیادہ منافع کما رہی ہیں، آج جو پورے پنجاب یعنی 60 فیصد پاکستان کی بیوروکریسی میری جیب میں ہے۔ بیٹ دیٹ۔ ایک فرق یہ بھی ہے کہ وہ افسانوی کردار تھا اور میں زندہ جاوید جیتا جاگتا کردار ہوں۔ کیسے اس عدلیہ میں اتنی جرات پیدا ہو گئی کہ وہ میرے سے میرے پیسے کا حساب مانگے۔ ججز نے تو گاڈ فادر کے ناول سے اپنی ججمنٹ کا آغاز کر کے ایک غیر انسانی، غیر اخلاقی اور اگر میں یہ کہوں کہ غیر مذہبی کام بھی کیا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ باقی باتیں اپنی جگہ پر لیکن ججز کے اس فعل میں سے مذہب سے دوری کا جو شایبہ پیدا ہو رہا ہے اسکو انصار عباسی اور اوریا مقبول جان دیکھ لیں گے۔ میں اس پر کیا کہوں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کسی آیت یا حدیثؐ سے ججمنٹ کا آغاز کیا جاتا۔

یہ وہ پہلی چیز تھی جو مجھے پانامہ والے کیس کے فیصلے سے پتہ چلی۔ باقی بیٹی نے موبایئل فون فل چارج کیا ہوا تھا اور اپنے چاچو کو بھی گھر پر دعوت دے رکھی تھی۔ جیسے ہی فیصلہ جیو ٹی وی پر نشر ہوا اس نے فوراَ ملازم کے ہاتھ میں فون دیا، مجھے بھائی سے گلے ملنے کا کہا اور ایک تصویر اور بنائی اور اسی وقت ٹویٹر پر اپلوڈ کر دیا۔ آجکل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، کیا کریں بھائی، ضروری ہوتا ہے۔ میں نے اسی وقت بھائی کو بتایا کہ اتنی ایفیشنسی سے کوئی مستقبل کا وزیراعظم ہی کام کر سکتا ہے۔ بھائی نے میری بات سن کر مجھے برخوردار حمزہ کا سلام پہنچایا۔ ویسے تو جس دن سے میں نے اقتدار سنھالا ہے اس دن سے آج تک کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب میری اور میرے بھائی کی شکل اخباروں میں عوام کے پیسے سے نہ چھپوائی گئی ہو! لوگوں کو پتہ چلنا چاہئے کہ ہم کام کر رہے ہیں چاہے زمین پر کام نہ ہوا ہو۔ لوگ اشتہار دیکھ کر ہی تو ووٹ دیتے ہیں۔ ایک آپس کی بات آپ کو بتاوں کہ جتنی دفعہ میری شکل اخباروں مین چھپی ہے کم و بیش اتنی ہی دفعہ جنگ کراچی کے حیدر آباد کے صفحے پر اس کچرے کی تصویر بھی چھپ چکی ہے جو بلدیہ اٹھا کہ نہیں دے رہی۔ عوام نے پھر بھی پیپلز پارٹی کو ہی جتوانا ہے۔

دو ججوں نے مجھے جھوٹا اور خائن قرار دیا تو تین نے میرے صادق اور امین ہونے پر صرف شک کا اظہار کیا۔ کیا اس سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ پورا پاکستان میرے پر اعتماد کرتا ہے۔ میں ایسی عدالتوں کو ویسے نہیں مانتا لیکن بین الاقوامی  اور اقوام متحدہ کے قوانین کی وجہ سے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں! نہیں تو دل تو میرا بھی کرتا ہے کہ چین اور ترکی جیسا ماڈل پاکستان میں لے آوں اور ایک ہی پارٹی یعنی مسلم لیگ نواز اس ملک میں راج کرے یا ایک ریفرینڈم سا کروا کے صدر بن جاوں اور سارے اختیارات اپنے اور اپنے خاندان میں بانٹ دوں۔ سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے! میں سنجھ رہا ہوں کہ آپم کیا کہنا چاہتے ہیں کہ ڈی فیکٹو تو میرا خاندان ہی یہاں پر راج کر رہا ہے یعنی عابد شیر علی جیسے نامعقول شخص سے لیکر اسحاق ڈار اور میری بیٹی جس کے باس کوئی عہدہ نہیں ہے، لیکن یہ قانون کی تلوار میرے سر پر لٹکتی رہتی ہے کہ ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی اس پر سول اٹھا دیتا ہے۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری! میں ایک سرمایہ دار ہوں اور سرمایہ دار کا بنادی مقصد اقتدار میں آنا ہوتا ہے چاہے وہ پردے کے پیچھے سے ہو جیسا کہ ملک ریاض یا سامنے آکر جیسے شاہد خاقان عباسی اور میر شکیل الرحمان! آپ یہ دیکھیں کہ جیسے ہی فیصلہ آیا سٹاک مارکیٹ میں بلش ٹرینڈ تھا اور لوگوں نے دس منٹ کے اندر اربوں روپوں کا منافع کما لیا۔ جیو ٹی وی اس پر بریکنگ نیوز دے رہا تھا اور میرے کارکنان اس کی سوشل میڈیا پر لایئو سٹریمنگ کر رہے تھے۔ عوام کو کیا پتہ کہ مارکیٹ مینیپولیشن کس چڑیا کا نام ہے۔ مجھے اس قوم نے ووٹ دیا ہے جو مہنگائی میں پس رہی ہے لیکن وہ  پھر بھی صرف  پانامہ کا فیصلہ سننے کے لیئے میٹرو پر جا جا کر ایل سی ڈیز خرید لیتی ہے چاہے بچوں کی سکولوں کی فیس رہ جائے۔ میرا سلام ہے گوالمنڈی کے اس کارکن کو جس نے بڑی سکرین پر یہ فیصلہ سننے کا اہتمام کیا تھا اور فیصلے کے بعد بھنگڑے ڈلوائے تھے۔ محفل ہوئی تھی۔ ٹی وی والوں نے یہ سب لایئو دکھایا تھا۔سیدھی سی بات ہے کہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔

پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ اس سارے پانامہ کیس میں وکلا کا خرچہ، انکی رہایش اور بورڈنگ لاجنگ سب قومی خزانے سے ادا کی گئی ہے۔ اخباروں اور ٹی وی پر اپنی فتح کے اشتہار بھی اسی عوام کے ٹیکسوں سے دیے گئے ہیں۔ وہ میرا لونڈا سعد رفیق جو میرے لیئے اپنا لہو حاضر کرنے کے بینر سڑکوں پر لگاتا پھر رہا تھا وہ بھی عوام کے خرچے سے تھا۔ آپ کو تو شائد پتہ بھی نہ ہو کہ یہ جو پی آئی ڈی ہے جہاں پر سپریم کورٹ میں ہر پیشی کے بعد دانیال، جسے عمران خان موٹو گینگ کا نمایندہ بتاتا ہے، پریس کانفرنس کرتا تھا اس کا بل بھی عوام کے ٹیکسوں سے ادا کیا جاتا تھا۔ یہ عمران خان یہ سراج الحق یہ شیخ رشید جیسے تھالی کے بینگن کیا جانیں کہ حکومتیں کیسے چلتی ہیں ۔ جہاں تک بات ہے زرداری صاحب کی تو وہ اور میں تو ایک ہی ہیں۔ انکا مقصد اپنی زرعی سرمایہ داری کا تحفظ ہے اور میرا اپنی صنعتی سرمایہ داری کا تحفظ۔- یہ جو ہم نے میثاق جمہوریت کا ڈھونگ رچایا تھا آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ جمہوریت کے لیئے تھا؟ جی نہیں! کیونکہ ہم جمہوری ملک ہیں ہی نہیں۔ جی نہیں میں عمران خان جیسے کوتاہ اندیش کے کسی گھٹیا بیان کا حوالہ نہیں دے رہا ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے اس سے پہلے برطانیہ کے اکنامسٹ انٹیلجنس یونٹ کا نام بھی نہیں سنا ہو گا جو پاکستان کو ہایبرئڈ ریجیم میں بریکیٹ کرتا ہے۔ کہان کی جمہوریت اور کہاں کے جمہوری ادارے۔ کیسی عدالتیں اور کیسی جے آئی ٹیز۔  کیا یہ محض اتفاق ہے کہ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ججز میرے خلاف فیصلہ دیں اور باقی تین پنجابی جج مجھے اور موقع دے دیں۔ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے۔ اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے۔

ججز نے جس ناول کا حوالہ دے کر اپنی ججمنٹ شروع کی ہے، مجھے ابھی ابھی برادرم عرفان صدیقی نے ایک پرچی پر اسکا ایک اور ڈایلاگ بھی لکھ کر بھیجا ہے جس کا ترجمہ ہے کہ میں اسکو ایسی پیشکش کروں گا جسکو لینے سے وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ خواجہ سعد رفیق سے بات ہوئی تو کہنے لگا کہ پانچ میں سے صرف دو ججز نے مجھے نا اہل کرنے کی سفارش کی ہے باقی کہتے ہیں کہ تھوڑی اور تحقیق کر لیں۔ اور وہ تحقیق ہمارے ادراوں سے کروایئں گے۔ پھر وہ بتانے لگا کہ ایف آئی اے، نیب، سٹیٹ بینک، سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمایندے اس تحقیق نیں شامل ہوں گے جن میں سے زیادہ تر ہمارے ہی بھرتی کیئے ہوئے ہیں تو پریشانی کی کوئی بات نہین۔ مجھے تسلی دیتے ہوئے کہ ریا تھا کہ جس طرح جوا خانے میں جواری ہارتے ہین جوا خانہ نہیں، اسی طرح حکومت بھی کبھی نہیں ہار سکتی اور آپ کے لیئے ہمارا لہو حاضر ہے۔ !!! آپ لوگ جانتے ہیں کہ ان سارے اداروں میں وہ تمام لوگ جو آگ سیکریٹری کے عہدے پر پہنچ چکے ہیں وہ ضیاالحق شہید کے دور سے لیکر اب تک میں نے خود بھرتی کروائے ہیں۔بے بی فنگر بے بی فنگر ویر آر یو!! ہیر آئی ایم ہیر آئی ایم ہاو ڈو یو ڈو۔

مجھے معلوم ہے کہ آج آپ لوگ میرے پاس اس پیسے کا حساب مانگنے آئے ہیں جسکا جواب میں 126 دن کی سپریم کورٹ میں سماعتوں کے دوران بھی نہیں دے سکا۔ اب آپ لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ اس دو مہینے کی جے آئی ٹی میں آپ کو یہ سب معلومات مل جایئں گی؟ ابھی تو ججز بیمار پڑیں گے۔ ابھی تو بینچ ٹوٹیں گے اور نئے بینچ بنیں گے۔ابھی تو جج چھٹی ہر جایئں گے۔ ابھی تو آئی آیس آئی اور ایف آئی آے کے نمایندوں پر عدم اعتماد ہو گا، ابھی تو جی آئی ٹی پر میرے بچوں کو ہراساں کرنے کے الزامات لگیں گے، ابھی تو سٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے نمائندوں پر اپوزیشن اقربا پروری کا الزام لگائے گی۔ ابھی تو جلسے ہوں گے، لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بنے گی، فوج کے سربراہ کے بیان ایئں گے، اخباروں میں اشتہار چھپیں گے، اینکرز لوگوں کو بلا بلا کر لڑوایئں گے اور اپنے مالکوں کو پیسہ بنا کر دیں گے۔ مرے سے استعفی منگا جائے گا تو میرے کارکن جلسوں میں بازو دکھا دکھا کر اور ایڑیاں اٹھا اٹھا کر، منہ سے کف گرا کر یہ چیلنج دیں گے کہ جاہئے استعفی، لے لو گے استعفی؟  صالح ظافر اور طاہر خلیل میرے حق مین خبریں اور عطا اللحق قاسمی کالم لکھیں گے۔ یہ دیکھیں یہ سری پائے اور کڑاہی میں نے ابھی گوالمنڈی سے منگوائی ہے۔ آیئے مل کر کھاتے ہیں کہ میں میاں محمد نواز شریف ولد محمد شریف سکنہ جاتی امراء رایئونڈ، ضلع لاہور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میرے پاس اگر منی ٹریل ہوتی تو پہلے ہی عدالت میں جمع کرا چکا ہوتا!!!