Posts Tagged ‘parliament’

میں میاں محمد نواز شریف ولد  میاں محمد شریف سکنہ جاتی امراء رایئونڈ، ضلع لاہور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ مجھے آج پہلی دفعہ پتہ چلا کہ غالب یعنی ہم سے پہلے کوئی میر یعنی ویٹو کورلیونی بھی تھا اور اسکو گاڈ فادر کہتے تھے۔ اس نے بھی جرائم کر کر کے ایک ایمپایر بنا لی تھی۔ وہ جو بھی تھا آج میں اس کو چیلنج کرتا ہوں کہ میں جو جاتی امراء، ماڈل ٹاون اور ڈونگہ گلی سے لیکر پانامہ اور لندن تک  اس سے بھی زیادہ اپنی الحمدللہ پراپرٹی بنا چکا ہوں، آج جو میری لوہے کی فیکٹریاں سب سے زیادہ منافع کما رہی ہیں، آج جو پورے پنجاب یعنی 60 فیصد پاکستان کی بیوروکریسی میری جیب میں ہے۔ بیٹ دیٹ۔ ایک فرق یہ بھی ہے کہ وہ افسانوی کردار تھا اور میں زندہ جاوید جیتا جاگتا کردار ہوں۔ کیسے اس عدلیہ میں اتنی جرات پیدا ہو گئی کہ وہ میرے سے میرے پیسے کا حساب مانگے۔ ججز نے تو گاڈ فادر کے ناول سے اپنی ججمنٹ کا آغاز کر کے ایک غیر انسانی، غیر اخلاقی اور اگر میں یہ کہوں کہ غیر مذہبی کام بھی کیا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ باقی باتیں اپنی جگہ پر لیکن ججز کے اس فعل میں سے مذہب سے دوری کا جو شایبہ پیدا ہو رہا ہے اسکو انصار عباسی اور اوریا مقبول جان دیکھ لیں گے۔ میں اس پر کیا کہوں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کسی آیت یا حدیثؐ سے ججمنٹ کا آغاز کیا جاتا۔

یہ وہ پہلی چیز تھی جو مجھے پانامہ والے کیس کے فیصلے سے پتہ چلی۔ باقی بیٹی نے موبایئل فون فل چارج کیا ہوا تھا اور اپنے چاچو کو بھی گھر پر دعوت دے رکھی تھی۔ جیسے ہی فیصلہ جیو ٹی وی پر نشر ہوا اس نے فوراَ ملازم کے ہاتھ میں فون دیا، مجھے بھائی سے گلے ملنے کا کہا اور ایک تصویر اور بنائی اور اسی وقت ٹویٹر پر اپلوڈ کر دیا۔ آجکل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، کیا کریں بھائی، ضروری ہوتا ہے۔ میں نے اسی وقت بھائی کو بتایا کہ اتنی ایفیشنسی سے کوئی مستقبل کا وزیراعظم ہی کام کر سکتا ہے۔ بھائی نے میری بات سن کر مجھے برخوردار حمزہ کا سلام پہنچایا۔ ویسے تو جس دن سے میں نے اقتدار سنھالا ہے اس دن سے آج تک کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب میری اور میرے بھائی کی شکل اخباروں میں عوام کے پیسے سے نہ چھپوائی گئی ہو! لوگوں کو پتہ چلنا چاہئے کہ ہم کام کر رہے ہیں چاہے زمین پر کام نہ ہوا ہو۔ لوگ اشتہار دیکھ کر ہی تو ووٹ دیتے ہیں۔ ایک آپس کی بات آپ کو بتاوں کہ جتنی دفعہ میری شکل اخباروں مین چھپی ہے کم و بیش اتنی ہی دفعہ جنگ کراچی کے حیدر آباد کے صفحے پر اس کچرے کی تصویر بھی چھپ چکی ہے جو بلدیہ اٹھا کہ نہیں دے رہی۔ عوام نے پھر بھی پیپلز پارٹی کو ہی جتوانا ہے۔

دو ججوں نے مجھے جھوٹا اور خائن قرار دیا تو تین نے میرے صادق اور امین ہونے پر صرف شک کا اظہار کیا۔ کیا اس سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ پورا پاکستان میرے پر اعتماد کرتا ہے۔ میں ایسی عدالتوں کو ویسے نہیں مانتا لیکن بین الاقوامی  اور اقوام متحدہ کے قوانین کی وجہ سے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں! نہیں تو دل تو میرا بھی کرتا ہے کہ چین اور ترکی جیسا ماڈل پاکستان میں لے آوں اور ایک ہی پارٹی یعنی مسلم لیگ نواز اس ملک میں راج کرے یا ایک ریفرینڈم سا کروا کے صدر بن جاوں اور سارے اختیارات اپنے اور اپنے خاندان میں بانٹ دوں۔ سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے! میں سنجھ رہا ہوں کہ آپم کیا کہنا چاہتے ہیں کہ ڈی فیکٹو تو میرا خاندان ہی یہاں پر راج کر رہا ہے یعنی عابد شیر علی جیسے نامعقول شخص سے لیکر اسحاق ڈار اور میری بیٹی جس کے باس کوئی عہدہ نہیں ہے، لیکن یہ قانون کی تلوار میرے سر پر لٹکتی رہتی ہے کہ ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی اس پر سول اٹھا دیتا ہے۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری! میں ایک سرمایہ دار ہوں اور سرمایہ دار کا بنادی مقصد اقتدار میں آنا ہوتا ہے چاہے وہ پردے کے پیچھے سے ہو جیسا کہ ملک ریاض یا سامنے آکر جیسے شاہد خاقان عباسی اور میر شکیل الرحمان! آپ یہ دیکھیں کہ جیسے ہی فیصلہ آیا سٹاک مارکیٹ میں بلش ٹرینڈ تھا اور لوگوں نے دس منٹ کے اندر اربوں روپوں کا منافع کما لیا۔ جیو ٹی وی اس پر بریکنگ نیوز دے رہا تھا اور میرے کارکنان اس کی سوشل میڈیا پر لایئو سٹریمنگ کر رہے تھے۔ عوام کو کیا پتہ کہ مارکیٹ مینیپولیشن کس چڑیا کا نام ہے۔ مجھے اس قوم نے ووٹ دیا ہے جو مہنگائی میں پس رہی ہے لیکن وہ  پھر بھی صرف  پانامہ کا فیصلہ سننے کے لیئے میٹرو پر جا جا کر ایل سی ڈیز خرید لیتی ہے چاہے بچوں کی سکولوں کی فیس رہ جائے۔ میرا سلام ہے گوالمنڈی کے اس کارکن کو جس نے بڑی سکرین پر یہ فیصلہ سننے کا اہتمام کیا تھا اور فیصلے کے بعد بھنگڑے ڈلوائے تھے۔ محفل ہوئی تھی۔ ٹی وی والوں نے یہ سب لایئو دکھایا تھا۔سیدھی سی بات ہے کہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔

پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ اس سارے پانامہ کیس میں وکلا کا خرچہ، انکی رہایش اور بورڈنگ لاجنگ سب قومی خزانے سے ادا کی گئی ہے۔ اخباروں اور ٹی وی پر اپنی فتح کے اشتہار بھی اسی عوام کے ٹیکسوں سے دیے گئے ہیں۔ وہ میرا لونڈا سعد رفیق جو میرے لیئے اپنا لہو حاضر کرنے کے بینر سڑکوں پر لگاتا پھر رہا تھا وہ بھی عوام کے خرچے سے تھا۔ آپ کو تو شائد پتہ بھی نہ ہو کہ یہ جو پی آئی ڈی ہے جہاں پر سپریم کورٹ میں ہر پیشی کے بعد دانیال، جسے عمران خان موٹو گینگ کا نمایندہ بتاتا ہے، پریس کانفرنس کرتا تھا اس کا بل بھی عوام کے ٹیکسوں سے ادا کیا جاتا تھا۔ یہ عمران خان یہ سراج الحق یہ شیخ رشید جیسے تھالی کے بینگن کیا جانیں کہ حکومتیں کیسے چلتی ہیں ۔ جہاں تک بات ہے زرداری صاحب کی تو وہ اور میں تو ایک ہی ہیں۔ انکا مقصد اپنی زرعی سرمایہ داری کا تحفظ ہے اور میرا اپنی صنعتی سرمایہ داری کا تحفظ۔- یہ جو ہم نے میثاق جمہوریت کا ڈھونگ رچایا تھا آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ جمہوریت کے لیئے تھا؟ جی نہیں! کیونکہ ہم جمہوری ملک ہیں ہی نہیں۔ جی نہیں میں عمران خان جیسے کوتاہ اندیش کے کسی گھٹیا بیان کا حوالہ نہیں دے رہا ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نے اس سے پہلے برطانیہ کے اکنامسٹ انٹیلجنس یونٹ کا نام بھی نہیں سنا ہو گا جو پاکستان کو ہایبرئڈ ریجیم میں بریکیٹ کرتا ہے۔ کہان کی جمہوریت اور کہاں کے جمہوری ادارے۔ کیسی عدالتیں اور کیسی جے آئی ٹیز۔  کیا یہ محض اتفاق ہے کہ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ججز میرے خلاف فیصلہ دیں اور باقی تین پنجابی جج مجھے اور موقع دے دیں۔ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے۔ اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے۔

ججز نے جس ناول کا حوالہ دے کر اپنی ججمنٹ شروع کی ہے، مجھے ابھی ابھی برادرم عرفان صدیقی نے ایک پرچی پر اسکا ایک اور ڈایلاگ بھی لکھ کر بھیجا ہے جس کا ترجمہ ہے کہ میں اسکو ایسی پیشکش کروں گا جسکو لینے سے وہ انکار نہیں کر سکے گا۔ خواجہ سعد رفیق سے بات ہوئی تو کہنے لگا کہ پانچ میں سے صرف دو ججز نے مجھے نا اہل کرنے کی سفارش کی ہے باقی کہتے ہیں کہ تھوڑی اور تحقیق کر لیں۔ اور وہ تحقیق ہمارے ادراوں سے کروایئں گے۔ پھر وہ بتانے لگا کہ ایف آئی اے، نیب، سٹیٹ بینک، سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمایندے اس تحقیق نیں شامل ہوں گے جن میں سے زیادہ تر ہمارے ہی بھرتی کیئے ہوئے ہیں تو پریشانی کی کوئی بات نہین۔ مجھے تسلی دیتے ہوئے کہ ریا تھا کہ جس طرح جوا خانے میں جواری ہارتے ہین جوا خانہ نہیں، اسی طرح حکومت بھی کبھی نہیں ہار سکتی اور آپ کے لیئے ہمارا لہو حاضر ہے۔ !!! آپ لوگ جانتے ہیں کہ ان سارے اداروں میں وہ تمام لوگ جو آگ سیکریٹری کے عہدے پر پہنچ چکے ہیں وہ ضیاالحق شہید کے دور سے لیکر اب تک میں نے خود بھرتی کروائے ہیں۔بے بی فنگر بے بی فنگر ویر آر یو!! ہیر آئی ایم ہیر آئی ایم ہاو ڈو یو ڈو۔

مجھے معلوم ہے کہ آج آپ لوگ میرے پاس اس پیسے کا حساب مانگنے آئے ہیں جسکا جواب میں 126 دن کی سپریم کورٹ میں سماعتوں کے دوران بھی نہیں دے سکا۔ اب آپ لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ اس دو مہینے کی جے آئی ٹی میں آپ کو یہ سب معلومات مل جایئں گی؟ ابھی تو ججز بیمار پڑیں گے۔ ابھی تو بینچ ٹوٹیں گے اور نئے بینچ بنیں گے۔ابھی تو جج چھٹی ہر جایئں گے۔ ابھی تو آئی آیس آئی اور ایف آئی آے کے نمایندوں پر عدم اعتماد ہو گا، ابھی تو جی آئی ٹی پر میرے بچوں کو ہراساں کرنے کے الزامات لگیں گے، ابھی تو سٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے نمائندوں پر اپوزیشن اقربا پروری کا الزام لگائے گی۔ ابھی تو جلسے ہوں گے، لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بنے گی، فوج کے سربراہ کے بیان ایئں گے، اخباروں میں اشتہار چھپیں گے، اینکرز لوگوں کو بلا بلا کر لڑوایئں گے اور اپنے مالکوں کو پیسہ بنا کر دیں گے۔ مرے سے استعفی منگا جائے گا تو میرے کارکن جلسوں میں بازو دکھا دکھا کر اور ایڑیاں اٹھا اٹھا کر، منہ سے کف گرا کر یہ چیلنج دیں گے کہ جاہئے استعفی، لے لو گے استعفی؟  صالح ظافر اور طاہر خلیل میرے حق مین خبریں اور عطا اللحق قاسمی کالم لکھیں گے۔ یہ دیکھیں یہ سری پائے اور کڑاہی میں نے ابھی گوالمنڈی سے منگوائی ہے۔ آیئے مل کر کھاتے ہیں کہ میں میاں محمد نواز شریف ولد محمد شریف سکنہ جاتی امراء رایئونڈ، ضلع لاہور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میرے پاس اگر منی ٹریل ہوتی تو پہلے ہی عدالت میں جمع کرا چکا ہوتا!!!

پچھلے دنوں حامد میر صاحب کا کالم بھٹو اور بلاول کی سمجھداری سے متعلق پڑھا جس میں قابل احترام کالم نگار نے اپنا مقدمہ  کہ “بلاول زیادہ سمجھدار ہیں یا بھٹو”، بلاول کی اس حالیہ تقریر پر رکھا جس میں انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ ‘پاکستان کا صدر صرف ایک مسلمان شخص ہی کیوں ہو سکتا ہے’ اور اس کے رد میں یہ دلیل دی کہ چونکہ انیس سو تہتر کے آئین میں صدر کے لئیے مسلمان ہونے کی شرط رکھی گئی ہے اس لئیے اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

دوسرا انہوں نے کچھ ممالک کی مثال دی جس میں صدر اور وزیراعظم کے کے لئے کیسے خاص مذہب سے وابستگی ضروری رکھی گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ معلومات  پیو ریسرچ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔   اس طرح کی امثال کے بعد انہوں اپنا رخ اپنے خاص اسلوب کی طرف کر لیا اور جس طرح کے ان کے مستقل قاری جانتے ہیں کہ وہ اپنے ہر دوسرے کالم میں کسی نامعلوم سفارتکار یا سیاستدان سے اپنا مکالمہ بیان کرتے ہیں (انکو شائد معلوم ہے کہ کوئی اس مکالمے کا ثبوت نہیں مانگے گا) اور اس مکالمے کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نامعلوم سیاستدان یا سفارتکار حامد میر کے خیالات سے یا تو متفق ہوتا ہے یا وہ میر صاحب کے خیالات سے اتفاق رکھتا ہوتا ہے یا  آخر میں حامد صاحب اسکو قائل کر لیتے ہیں۔

اس مکالمے میں میں  بھی پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی اور سینٹر صاحب بلاول پر پھبتی کستے رہے اور کف افسوس ملتے رہے کہ وہ اپنے والد کے بنائے ہوئے آئین سے غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں اور یہ کہ پیپلز پارٹی کا ووٹر جو آج بھی بھٹو کے نام پر ووٹ دیتا ہے ان سے یہ پوچھ رہا ہے کہ بھٹو زیادہ سمجھدار یا بلاول اور مسلسل حامد میر کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔

یہاں  پر کچھ سوالات جنم لیتے ہیں۔

ایک تو یہ کہ کیا حامد میر صاحب نے یہ فرض کر لیا ہے کہ 1973 میں آیئن منظور ہو جانے کے موقع پر پاکستان کے عوم کا اجتماعی شعور اپنے اوج کمال پر تھا اور اس کے بعد اس آیئن میں کسی قسم کا بدل نہیں ہو سکتا؟ جب جدید دور کی ہر ریاست اپنا ایک آیئن بناتی ہے جس میں ملک کے شہریوں کے حقوق اور ریاست کے جملہ فراٰیض متعین کر دیے جاتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کے بعد مقننہ کو تالا نہیں لگا دیا جاتا بلکہ ریاست اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مقننہ کے اجلاس لازمی ہوں’ جمہوری عمل کے لیئے چناؤ بھی ضرور ہو تو ایسے میں ریاست اس بات کا اعادہ کر رہی ہوتی ہے کہ آج منظور شدہ آیئن میں بہتری کی گنجایش موجود ہے اور اس میں حالات کے مطابق تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی آیئن کی کسی شق میں تبدیلی کی بات کرے تو اس کو نا سمجھ ہونے کا طعنہ دینا دانش مندی نہیں ہے۔ میر صاحب کی نظر میں سمجھداری کی تعریف کیا ہے؟ اگر انکی نظر میں سمجھداری کسی ایک نظریے پر جامد ہو جانے کا نام ہے تو میں نہایت ادب کے ساتھ اس سے اختلاف کروں گا۔ نظریہ کسی قوم کے اجتماعی شعور کے تابع ہوتا نہ کہ اجتماعی شعور کسی نظریے کے۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ اقوام کا اجتماعی شعور کبھی بھی جامد نہیں ہوتا اور نہ اس کو ہونا چاہیے ورنہ ایسی اقوام کا وہی حال ہوتا ہے جو آج پاکستان کا ہو رہا ہے۔ یہی جامد نظریہ آج ہمارا آدھا ملک کھا چکا ہے اور باقی کا ملک ایک طرح سے نظریاتی کونسلوں اور ان کے دفاع کے لیئے موجود ڈندہ بردار ہجوم کے ہاتھ میں آ چکا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ آج ستر سال ہونے کو آئے ہیں پاکستان کو بنے ہوئے، ہم نے قرارداد مقاصد منظور کر لی؛ ہم نے آیئن میں ملک کا نام مذہنی کر دیا، ریاست نے ایک گروہ کو غیر مسلم قرار دے دیا، آیئن میں اسلامی شقیں ڈال دیں، پھر بھی ہمیں کوئی ایسا خوف دامن گیر جو ہمیں ہر وقت ستاتا ریتا ہے اور راتوں کی نیندیں حرام کیئے رکھتا ہے۔ یہ خوف کبھی ہم سے نظام مصطفیٰ کی تحریک چلواتا ہے تو کبھی افغان جہاد میں ہم سے ایک سیکولر اور سرمایہ دار ملک امریکہ کے پیسوں سے جہاد کرواتا ہے؟ ہمارا یہ خوف کبھی ہم سے عیسایئوں کی بستیاں جلواتا ہے اور کبھی ڈی چوک پر دھرنا دلواتا ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا حامد صاحب اس بات کو اچھا سمجھتے ہیں کہ وہ ووٹر جو آج تیس چالیس سال بعد بھی پیپلز پارٹی کو بھٹو کے نام پر ووٹ دیتا ہے، کیا  اس کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کی دانشمندی یا سمجھ بوجھ پر سوال اٹھایے؟ کیا اس ووٹر کی سوچ آج کے جدید صنعتی معاشرے کی عکاسی کرتی ہے؟ کیا ایسا شخص جو آج بھی 1970 میں رہ رہا ہے، اس سے یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ آج کے دور کے جدید تقاضوں کو سمجھتا ہے؟ ایسا ووٹر جو آج صرف شخصیت پرستی کی وجہ سے کسی پارٹی کو ووٹ دیتا ہے کیا وہ کسی قسم کی نظریاتی کفتگو یا کسی نظریے پر اپنی رائے دینے کا حق رکھتا ہے ؟ جب کہ بلاول کا اٹھایا گیا نکتہ خالصتاَ نظریاتی نکتہ ہے جس کا جواب بھی دلیل کے ساتھ اور نظریاتی بنیادیوں پر دینا چایئے بجائے اس کے کہ اس نظریے کو صرف اس بنیاد پر رد کر دیا جائے کہ وہ ووٹر جو بھٹو کے نام پر پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتا ہے وہ ناراض ہو جائے گا۔ حامد میر صاحب آپ اس سے بہت بہتر ہیں، دلیل کہاں ہے؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ میر صاحب ان اراکین اسمبلی کو سمجھاتے کہ وہ لوگ لیڈران ہیں اور انکو عوام کو آگے بڑھ کر کمان کرنے کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ انکا کام یہ نہیں ہے کہ وہ ہر پانچ سال بعد شخصیت پرستی کے نام پر ووٹ بٹور کر مقننہ میں آ جایئں۔ ان کو چاہیے کہ اپنے کام اور نظریاتی بنیادوں پر ووٹ لے کر آیئں- وہ کب تک عوام کے مذہنی اور سیاسی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہیں گے۔ بہرحال میر صاحب نے یہ کہنا تھا اور نہ کہا بلکہ ان معزز اراکین اسمبلی اور سینٹر صاحب کے اس ‘گلے’ کو ایک پراپیگنڈہ اور دلیل کی طرح استعمال کر کے آگے بڑھ گیئے۔

جہاں تک حامد صاحب کی اس دلیل کا تعلق ہے کہ کچھ دوسرے ممالک میں بھی سربراہ مملکت  کے لیئے کسی خاص مذہب سے تعلق ضروری اور پاکستان اس میں اکیلا نہیں ہے تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ہر ملک کا ایک اپنا نظام اور اپنے معروضی حالات اور اپنی تاریخ ہوتی ہے جس کی بنیاد پر اقوام اپنے فیصلے کرتی ہیں۔ آج کسی غیر جمہوری معاشرے کے قوانین کو پاکستان کے اس معاشرے پر، جہاں جمہوریت کی ایک تاریخ ہے، مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان خالصتاَ ایک سیکولر جمہوری عمل کی پیداوار تھا، تو حامد میر صاحب غیر جمہوری معاشرے اور ایسے معاشرے جہاں پر جمہوریت ابھی نئی نئی آئی ہے، کی مثالیں دے کر کیا باور کروانا چاہ رہے ہیں جب کہ ایسے ممالک بھی اب سیکولر روایات کو اپناتے نظر آرہے ہیں؟ کیا حامد میر صاحب اس بات سے انکار کریں گے کہ پاکستان کے جملہ ادروں نے، سپریم کورٹ سے لیکر ہر ادارے میں غیر مسلم سربراہان دیکھے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے کچھ شہریوں کو درجہ دوم میں ڈال دینے سے اور پاکستان کو کی ریاست کو زیادہ سے زیادہ مذہبی بنانے سے عام آدمی کی صحت پر کیا اثر پڑا ہےاور کیا پاکستان کی عالمی سظح پر اہمیت بڑھ گیئی ہے؟ حالت یہ ہے کہ آج پاکستان اقوام متحدہ کا ایک الیکشن بھی ہار چکا ہے۔ کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ اگر آیئن میں غیر مسلم صدر کی گنجائش ہوتی تو کونسا پاکستان کے عوام کا معیار زندگی بلند ہو جانا تھا یا پاکستان نے اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کی کمیٹی کے سربراہ کے لیئے ہونے والا الیکشن جیت جانا تھا؟ سوال پھر بھی وہیں پر ہے جب اس سےعام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو پھر آیئن میں ایسی شقوں کا کیا فائدہ ہے؟

میر صاحب نے کھینچ تان کے برطانیہ کی ملکہ کے لیئے عیسائی ہونا ثابت کیا ہے۔ میر صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ برطانیہ میں ملکہ یا بادشاہ کا عہدہ صرف نمایشی ہے اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایک غیر عیسائی منتخب وزیر اعظم جب ملکہ کے پاس اپنے وزارت کے کاغذات کے ساتھ حاضر ہو گا تو ملکہ اسکو اس بنیاد پر مسترد کر دے گی کہ وہ عیسانی نہیں ہے؟ کیا ملکہ کے پاس یہ اختیار ہے؟ ہمارے آیئن میں تو ایسا لکھ دیا گیا ہے اور اکثریت کے مذہب سے تعلق نہ رکھنے والوں کو دوسرے درجے کا شہری تسلیم کیا گیا ہے۔  کیا آپ یہ ثابت کر سکتے ہیں؟ آج لندن کی میر شپ کے لیئے ایک اہم امیدوار مسلمان ہے تو کیا برطانیہ کا صدیوں پر محیط عیسایئت پر مبنی نظریہ خطرے میں ہے یا ملکہ نے صادق صاحب کے الیکشن لڑنے پر پاندی لگا دی ہے؟

بات ہو جمہوریت اور سیکولر اقدار کی اور بھارت کی مثال دیے بغیر بن جائے، یہ کیسے ہوسکتا ہے، جبکہ قلم پاکستانی کالم نگاروں کے ہاتھ میں ہو۔ میر صاحب نے بھی ہندوستان کی مثال دی ہے  اور یہ باور کروانے کو کوشش کی ہے کہ چونکہ پاکستان میں اقلیتوں کے لیئے مخصوص نششتیں ہیں، آیئن میں انکے حقوق کی ضمانت دی گیئ ہے اور انکو بھارت کی طرح عام انتخابات میں الیکشن نہیں لڑنا پڑتے اس لیئے پاکستان بھارت سے بہتر ہے۔ اور ساتھ میں یہ بھی فرما دیا کہ پاکستان میں اقلیتیں ہندوستان کے مقابلے میں کم ہیں۔ معافی کے ساتھ میں یہ کہنے جسارت کروں گا کہ یہ دونوں دلائل انتہائی بودے ہیں۔ میر صاحب! حقوق کوئی خیرات نہیں ہوتے کہ انکو بانٹا جایے۔ ایک ریاست میں رہنے والے سب لوگوں کے حقوق برابر ہوتے ہیں۔ اصل جھگڑا ہی یہی ہے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آیئن میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے  تو ہم ایک گروہ کو برتر اور دوسرے کو کم تر سمجھ رہے ہوتے ہیں اور یہ کہ برتر گروہ اپنے سے کمتر گروہ کو حقوق دان کر رہا ہے۔ جب ایک ریاست وجوود میں آگئی تو اس ریاست کے سب شیریوں کے حقوق برابر ہو گیئے۔ اس میں آیئن کو کسی خاص مذہب، رنگ یا نسل سے تعلق رکھنے والوں کو حقوق کی ضمانت دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اب بھارت میں اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں تو پاکستان کا بھی انسانی حقوق کے حوالے سے ٹریک ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے پھر بھی کیا وجہ ہے کہ بھارتی مسلمان سیکولرازم کے دفاع کے لیئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے پر آمادہ نظر آتے ہیں؟ یاد رہے کہ جئے ہند کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنا سیکولرازم نہیں مودی ازم کا شاخسانہ ہے۔ ویسے بھی “تجھے پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو”!!! پاکستان کی غیر مسلموں کو وزارتیں دینے کی روایت اگر پرانی ہے تو ایسے وزراء کی پاکستان چھوڑ کر جانے کی روائت بھی اتنی ہی پرانی ہے۔

1973 کے آیئن میں اگر کوئی ایسی بات لکھ دی گئی ہے جو جدید نظریات سے میل نہیں کھاتی تو خاطر جمع رکھیے کہ عوام کا اجتماعی ذہنی شعور اسکو بدل دے گا، کہ قانون سازی کے لیئے ہر پانچ سال بعد چناؤ کروانے کا یہی مطلب ہے کہ “ثبات ہے بس ایک تغیر کو زمانے میں”! جب ہم جمہوریت جو کہ اور سیکولر سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے کو قبول کر چکے ہیں تو اسی نظام کے اندر رہتے ہویے قانون سازی ہورہی ہے۔ آپ کہاں تک اور کب تک ایک سیکولر نطام میں رہتے ہوئے اس نظام کی روح سے رو گردانی کر سکتے ہیں؟ بلاول کی تقریر، اکیسویں ترمیم، غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون سازی، حقوق نسواں کا قانون وغیرہ اسی کا شاخسانہ ہے۔

 

 

 

What does 21st Amendment Mean

Maulana Fazl-ur-Rehman is right in his apprehensions that the 21st Amendment to the constitution of Pakistan is basically passed by nascent secular Pakistan. The basic reason he is reproaching this amendment is because the world ‘religion’ is clubbed with terrorism. He also said that government wants to sabotage denominational schools or madrassahs under this amendment. He vowed that Pakistan won’t be allowed to be a secular country at any cost (but how he didn’t explain).

Since Maulana Sahab is also  graduate from madrassah, it was expected from him. He must know that time doesn’t travel backwards and will not ever. He must overcome his misoneism and accept the reality that Pakistan has been changed, as late as, post 16/12. The world aside, the state and civil society of Pakistan itself, doesn’t care if he thinks that terrorists don’t follow real religion and that terrorists have no religion etc because they themselves introduce them as holy warriors and use religion to justify their atrocities. No one also cares how execrable Maulana Sahab feel about this but the truth is that Pakistan was predicated on the secular principles only, i.e., democracy and plebiscite and that is her real fate. The hypocrisy of Maulana Sahab is evident when he is found showing his intransigence by bickering over secularism but simultaneously takes part in democratic processes of elections and reaps fruits of this outcome in the form of ministries and related perks. Till now I didn’t come across his address regarding any alternative form of government neither read his, book aside, a mere article in the papers as to what kind of system he wants. He is  always just found using religious sentiments of common man to use for his political gain. Sometimes by issuing fatwas that voting for his opponent is unlawful or his ballot symbol, the book, shouldn’t be open so that he can exploit the common man’s sentiments as the picture of closed book would be semblance of some holy one.

If Maulana Sahab was thinking that some coterie would keep on goading the religious sentiments, installing fear in the name of religion terrorize the masses, again, using religion and world would remain mute, and he would enjoy the perks of democracy and secularism while having entente cordiale with fanatics, he was doing it wrong. The fact is that in order to remain in this global village and to contribute positively therein, it is not acceptable. No matter how entrenched one’s beliefs are, in today’s world one is compelled to follow the human rights, religious freedom , security and other such secular democratic norms.  Pakistan is not an exception here. This was bound to happen that state defines categorically that in Pakistan terrorism emanates from wrong understanding of religion. Even though this development of separating state and religion is in its inchoate form, has stirred the fear out of Maulana Sahab that Pakistan is going to be secular.  Can somebody dare ask him, if he can be indifferent to the secularism spread all around him? Can he abandon democracy? Can he stop using currency notes? Can he imagine living without banks, luxury cars and all those scientific inventions which we take for granted? Can he stop requesting a secular country America to make him Prime Minister of Pakistan? If not then he should know that end of the day he will have to bite the bullet and accept the reality that Pakistan would become a secular country. His wishes, his protests and his antediluvian intransigent ideologies don’t matter in changing Pakistan.

Maulana Sahab is very eager that under this amendment, government is planning to raid madrassahs under the name of reforms and regularization. The fact is that, it is the need of the hour and high time that such instructions are regularized. I will just give one example as to how madrassahs or denominational schools need reforms as many of such institutions violate basic human rights.  When a kid’s future is decided by his parents at the age of five and he is admitted to a denominational school with a hope that he will one become ‘alim’, this is a human right violation since that kid is not being given chance to choose his future by himself. The reform needed would be like in normal school a student has the right to choose between humanities and science after 8th grade and further after 10th grade he chooses to become either doctor or engineer etc, similarly this should be the stage when student should choose a ‘religious studies’ group and after studying ‘pre-religious studies’, he should be allowed to join any madrassha. Pakistan anyways don’t need a lot of Alims, since we already have most Alims per capita in the world and still have chaos. We need only those alims who are by choice. Less Alims but better ones who know what are the requirements of the modern world how religion should cope with it.

The juncture which Pakistan is now standing at, is decisive. If Pakistan won’t change itself then the states who ‘call the shots’ would coerce Pakistan into it. Maulana Sahab’s fears are right. Pakistan is changing. This convulsion against religious extremism in Pakistan is now a reality and can’t be stopped. Quaid-e-Azam’s 11th August speech is inextricable from the very tenor of nascent Pakistan’s constitution.  Soon those who are on the other side of this epoch making event, due to their injudicious approach of not looking at the obvious, shall be forgotten by history and only those who become part of it, shall be remembered.

Every state makes such laws in order to protect its citizens, property and sovereignty as to convict those who attempt to sabotage the peace in the country. But these laws are always made keeping in view the human rights and personal freedom. But when we look at the Protection of Pakistan Ordinance, it seems to violate those human rights, democracy and constitution. The security forces can kill anybody under the doubt of him being terrorist and fanatic alien war monger!
People of Pakistan already have enough experience of administrative directives and ordinances which have enacted the rule of Military fright instead of rule of law for over quarter of a century. People of the country especially the ones from Balochistan have already enough experience of rotting in the solitary confinements at undisclosed locations, in-camera inquiries highly classified evidences and unpublished reports.
When police or security agencies would be allowed to keep any person on the mere doubt in their custody for up to ninety days and if the security officers kill someone just because they thought one as criminal, PPO shall be there to cover this outlawry. Who can guarantee that the law shall not be (mis)used to settle personal vendetta? Why is it necessary for forces to keep a person in custody for up to ninety days without any charge? Doesn’t this show the incompetence of our law enforcement agencies that they are unable to carry out the preliminary investigation in twenty four hours’ time prior to producing the accused in front of magistrate? Instead of enhancing the capabilities of our security forces, taking preemptive security measures and deploying latest technology to curb the fanatics, our government have found an easy way out to promulgate such a tyrannical law that shall just deprive more mothers of their ‘missing’ sons and probably more mass graveyards.
It is also a matter of concern the way PMLN government has get it passed from NA without paying heed to the amendments proposed by the opposition. Such autocratic measures leave no second opinion on the fact that Pakistan is being drifted farther away from the civilian rule and more unrest because government doesn’t seem to agree to get the validity of this law tested in National Assembly both in form and in substance. Now if apex court (most probably) takes notice on the conflicting clauses of this ordinance with constitution and human rights, we will see government crying foul that such notices by court are an attempt to undermine the parliament. Why it is so hard to do the right thing at first place?
Moreover, such laws are only passed when an alien government wants to suppress the native people by implanting fear of security agencies so that their mouths are muzzled such as to curb freedom of speech and press. Fetters and gags are planted by this kind of laws on the people who are considered slaves. But Pakistan is free country and if even after freedom we need such ‘black laws’ in order to maintain integrity, peace and law & order, I fear we are heading towards another Jalianwala Bagh incident after British passed Rowlatt Act.

Mursalan Haider
12-April-2014
Beijing, Haidian China