Posts Tagged ‘Politics’

پچھلے دنوں حامد میر صاحب کا کالم بھٹو اور بلاول کی سمجھداری سے متعلق پڑھا جس میں قابل احترام کالم نگار نے اپنا مقدمہ  کہ “بلاول زیادہ سمجھدار ہیں یا بھٹو”، بلاول کی اس حالیہ تقریر پر رکھا جس میں انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ ‘پاکستان کا صدر صرف ایک مسلمان شخص ہی کیوں ہو سکتا ہے’ اور اس کے رد میں یہ دلیل دی کہ چونکہ انیس سو تہتر کے آئین میں صدر کے لئیے مسلمان ہونے کی شرط رکھی گئی ہے اس لئیے اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

دوسرا انہوں نے کچھ ممالک کی مثال دی جس میں صدر اور وزیراعظم کے کے لئے کیسے خاص مذہب سے وابستگی ضروری رکھی گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ معلومات  پیو ریسرچ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔   اس طرح کی امثال کے بعد انہوں اپنا رخ اپنے خاص اسلوب کی طرف کر لیا اور جس طرح کے ان کے مستقل قاری جانتے ہیں کہ وہ اپنے ہر دوسرے کالم میں کسی نامعلوم سفارتکار یا سیاستدان سے اپنا مکالمہ بیان کرتے ہیں (انکو شائد معلوم ہے کہ کوئی اس مکالمے کا ثبوت نہیں مانگے گا) اور اس مکالمے کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نامعلوم سیاستدان یا سفارتکار حامد میر کے خیالات سے یا تو متفق ہوتا ہے یا وہ میر صاحب کے خیالات سے اتفاق رکھتا ہوتا ہے یا  آخر میں حامد صاحب اسکو قائل کر لیتے ہیں۔

اس مکالمے میں میں  بھی پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی اور سینٹر صاحب بلاول پر پھبتی کستے رہے اور کف افسوس ملتے رہے کہ وہ اپنے والد کے بنائے ہوئے آئین سے غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں اور یہ کہ پیپلز پارٹی کا ووٹر جو آج بھی بھٹو کے نام پر ووٹ دیتا ہے ان سے یہ پوچھ رہا ہے کہ بھٹو زیادہ سمجھدار یا بلاول اور مسلسل حامد میر کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔

یہاں  پر کچھ سوالات جنم لیتے ہیں۔

ایک تو یہ کہ کیا حامد میر صاحب نے یہ فرض کر لیا ہے کہ 1973 میں آیئن منظور ہو جانے کے موقع پر پاکستان کے عوم کا اجتماعی شعور اپنے اوج کمال پر تھا اور اس کے بعد اس آیئن میں کسی قسم کا بدل نہیں ہو سکتا؟ جب جدید دور کی ہر ریاست اپنا ایک آیئن بناتی ہے جس میں ملک کے شہریوں کے حقوق اور ریاست کے جملہ فراٰیض متعین کر دیے جاتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کے بعد مقننہ کو تالا نہیں لگا دیا جاتا بلکہ ریاست اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مقننہ کے اجلاس لازمی ہوں’ جمہوری عمل کے لیئے چناؤ بھی ضرور ہو تو ایسے میں ریاست اس بات کا اعادہ کر رہی ہوتی ہے کہ آج منظور شدہ آیئن میں بہتری کی گنجایش موجود ہے اور اس میں حالات کے مطابق تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی آیئن کی کسی شق میں تبدیلی کی بات کرے تو اس کو نا سمجھ ہونے کا طعنہ دینا دانش مندی نہیں ہے۔ میر صاحب کی نظر میں سمجھداری کی تعریف کیا ہے؟ اگر انکی نظر میں سمجھداری کسی ایک نظریے پر جامد ہو جانے کا نام ہے تو میں نہایت ادب کے ساتھ اس سے اختلاف کروں گا۔ نظریہ کسی قوم کے اجتماعی شعور کے تابع ہوتا نہ کہ اجتماعی شعور کسی نظریے کے۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ اقوام کا اجتماعی شعور کبھی بھی جامد نہیں ہوتا اور نہ اس کو ہونا چاہیے ورنہ ایسی اقوام کا وہی حال ہوتا ہے جو آج پاکستان کا ہو رہا ہے۔ یہی جامد نظریہ آج ہمارا آدھا ملک کھا چکا ہے اور باقی کا ملک ایک طرح سے نظریاتی کونسلوں اور ان کے دفاع کے لیئے موجود ڈندہ بردار ہجوم کے ہاتھ میں آ چکا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ آج ستر سال ہونے کو آئے ہیں پاکستان کو بنے ہوئے، ہم نے قرارداد مقاصد منظور کر لی؛ ہم نے آیئن میں ملک کا نام مذہنی کر دیا، ریاست نے ایک گروہ کو غیر مسلم قرار دے دیا، آیئن میں اسلامی شقیں ڈال دیں، پھر بھی ہمیں کوئی ایسا خوف دامن گیر جو ہمیں ہر وقت ستاتا ریتا ہے اور راتوں کی نیندیں حرام کیئے رکھتا ہے۔ یہ خوف کبھی ہم سے نظام مصطفیٰ کی تحریک چلواتا ہے تو کبھی افغان جہاد میں ہم سے ایک سیکولر اور سرمایہ دار ملک امریکہ کے پیسوں سے جہاد کرواتا ہے؟ ہمارا یہ خوف کبھی ہم سے عیسایئوں کی بستیاں جلواتا ہے اور کبھی ڈی چوک پر دھرنا دلواتا ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا حامد صاحب اس بات کو اچھا سمجھتے ہیں کہ وہ ووٹر جو آج تیس چالیس سال بعد بھی پیپلز پارٹی کو بھٹو کے نام پر ووٹ دیتا ہے، کیا  اس کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کی دانشمندی یا سمجھ بوجھ پر سوال اٹھایے؟ کیا اس ووٹر کی سوچ آج کے جدید صنعتی معاشرے کی عکاسی کرتی ہے؟ کیا ایسا شخص جو آج بھی 1970 میں رہ رہا ہے، اس سے یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ آج کے دور کے جدید تقاضوں کو سمجھتا ہے؟ ایسا ووٹر جو آج صرف شخصیت پرستی کی وجہ سے کسی پارٹی کو ووٹ دیتا ہے کیا وہ کسی قسم کی نظریاتی کفتگو یا کسی نظریے پر اپنی رائے دینے کا حق رکھتا ہے ؟ جب کہ بلاول کا اٹھایا گیا نکتہ خالصتاَ نظریاتی نکتہ ہے جس کا جواب بھی دلیل کے ساتھ اور نظریاتی بنیادیوں پر دینا چایئے بجائے اس کے کہ اس نظریے کو صرف اس بنیاد پر رد کر دیا جائے کہ وہ ووٹر جو بھٹو کے نام پر پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتا ہے وہ ناراض ہو جائے گا۔ حامد میر صاحب آپ اس سے بہت بہتر ہیں، دلیل کہاں ہے؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ میر صاحب ان اراکین اسمبلی کو سمجھاتے کہ وہ لوگ لیڈران ہیں اور انکو عوام کو آگے بڑھ کر کمان کرنے کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ انکا کام یہ نہیں ہے کہ وہ ہر پانچ سال بعد شخصیت پرستی کے نام پر ووٹ بٹور کر مقننہ میں آ جایئں۔ ان کو چاہیے کہ اپنے کام اور نظریاتی بنیادوں پر ووٹ لے کر آیئں- وہ کب تک عوام کے مذہنی اور سیاسی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہیں گے۔ بہرحال میر صاحب نے یہ کہنا تھا اور نہ کہا بلکہ ان معزز اراکین اسمبلی اور سینٹر صاحب کے اس ‘گلے’ کو ایک پراپیگنڈہ اور دلیل کی طرح استعمال کر کے آگے بڑھ گیئے۔

جہاں تک حامد صاحب کی اس دلیل کا تعلق ہے کہ کچھ دوسرے ممالک میں بھی سربراہ مملکت  کے لیئے کسی خاص مذہب سے تعلق ضروری اور پاکستان اس میں اکیلا نہیں ہے تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ہر ملک کا ایک اپنا نظام اور اپنے معروضی حالات اور اپنی تاریخ ہوتی ہے جس کی بنیاد پر اقوام اپنے فیصلے کرتی ہیں۔ آج کسی غیر جمہوری معاشرے کے قوانین کو پاکستان کے اس معاشرے پر، جہاں جمہوریت کی ایک تاریخ ہے، مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان خالصتاَ ایک سیکولر جمہوری عمل کی پیداوار تھا، تو حامد میر صاحب غیر جمہوری معاشرے اور ایسے معاشرے جہاں پر جمہوریت ابھی نئی نئی آئی ہے، کی مثالیں دے کر کیا باور کروانا چاہ رہے ہیں جب کہ ایسے ممالک بھی اب سیکولر روایات کو اپناتے نظر آرہے ہیں؟ کیا حامد میر صاحب اس بات سے انکار کریں گے کہ پاکستان کے جملہ ادروں نے، سپریم کورٹ سے لیکر ہر ادارے میں غیر مسلم سربراہان دیکھے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے کچھ شہریوں کو درجہ دوم میں ڈال دینے سے اور پاکستان کو کی ریاست کو زیادہ سے زیادہ مذہبی بنانے سے عام آدمی کی صحت پر کیا اثر پڑا ہےاور کیا پاکستان کی عالمی سظح پر اہمیت بڑھ گیئی ہے؟ حالت یہ ہے کہ آج پاکستان اقوام متحدہ کا ایک الیکشن بھی ہار چکا ہے۔ کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ اگر آیئن میں غیر مسلم صدر کی گنجائش ہوتی تو کونسا پاکستان کے عوام کا معیار زندگی بلند ہو جانا تھا یا پاکستان نے اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کی کمیٹی کے سربراہ کے لیئے ہونے والا الیکشن جیت جانا تھا؟ سوال پھر بھی وہیں پر ہے جب اس سےعام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو پھر آیئن میں ایسی شقوں کا کیا فائدہ ہے؟

میر صاحب نے کھینچ تان کے برطانیہ کی ملکہ کے لیئے عیسائی ہونا ثابت کیا ہے۔ میر صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ برطانیہ میں ملکہ یا بادشاہ کا عہدہ صرف نمایشی ہے اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایک غیر عیسائی منتخب وزیر اعظم جب ملکہ کے پاس اپنے وزارت کے کاغذات کے ساتھ حاضر ہو گا تو ملکہ اسکو اس بنیاد پر مسترد کر دے گی کہ وہ عیسانی نہیں ہے؟ کیا ملکہ کے پاس یہ اختیار ہے؟ ہمارے آیئن میں تو ایسا لکھ دیا گیا ہے اور اکثریت کے مذہب سے تعلق نہ رکھنے والوں کو دوسرے درجے کا شہری تسلیم کیا گیا ہے۔  کیا آپ یہ ثابت کر سکتے ہیں؟ آج لندن کی میر شپ کے لیئے ایک اہم امیدوار مسلمان ہے تو کیا برطانیہ کا صدیوں پر محیط عیسایئت پر مبنی نظریہ خطرے میں ہے یا ملکہ نے صادق صاحب کے الیکشن لڑنے پر پاندی لگا دی ہے؟

بات ہو جمہوریت اور سیکولر اقدار کی اور بھارت کی مثال دیے بغیر بن جائے، یہ کیسے ہوسکتا ہے، جبکہ قلم پاکستانی کالم نگاروں کے ہاتھ میں ہو۔ میر صاحب نے بھی ہندوستان کی مثال دی ہے  اور یہ باور کروانے کو کوشش کی ہے کہ چونکہ پاکستان میں اقلیتوں کے لیئے مخصوص نششتیں ہیں، آیئن میں انکے حقوق کی ضمانت دی گیئ ہے اور انکو بھارت کی طرح عام انتخابات میں الیکشن نہیں لڑنا پڑتے اس لیئے پاکستان بھارت سے بہتر ہے۔ اور ساتھ میں یہ بھی فرما دیا کہ پاکستان میں اقلیتیں ہندوستان کے مقابلے میں کم ہیں۔ معافی کے ساتھ میں یہ کہنے جسارت کروں گا کہ یہ دونوں دلائل انتہائی بودے ہیں۔ میر صاحب! حقوق کوئی خیرات نہیں ہوتے کہ انکو بانٹا جایے۔ ایک ریاست میں رہنے والے سب لوگوں کے حقوق برابر ہوتے ہیں۔ اصل جھگڑا ہی یہی ہے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ آیئن میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے  تو ہم ایک گروہ کو برتر اور دوسرے کو کم تر سمجھ رہے ہوتے ہیں اور یہ کہ برتر گروہ اپنے سے کمتر گروہ کو حقوق دان کر رہا ہے۔ جب ایک ریاست وجوود میں آگئی تو اس ریاست کے سب شیریوں کے حقوق برابر ہو گیئے۔ اس میں آیئن کو کسی خاص مذہب، رنگ یا نسل سے تعلق رکھنے والوں کو حقوق کی ضمانت دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اب بھارت میں اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں تو پاکستان کا بھی انسانی حقوق کے حوالے سے ٹریک ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے پھر بھی کیا وجہ ہے کہ بھارتی مسلمان سیکولرازم کے دفاع کے لیئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے پر آمادہ نظر آتے ہیں؟ یاد رہے کہ جئے ہند کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنا سیکولرازم نہیں مودی ازم کا شاخسانہ ہے۔ ویسے بھی “تجھے پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو”!!! پاکستان کی غیر مسلموں کو وزارتیں دینے کی روایت اگر پرانی ہے تو ایسے وزراء کی پاکستان چھوڑ کر جانے کی روائت بھی اتنی ہی پرانی ہے۔

1973 کے آیئن میں اگر کوئی ایسی بات لکھ دی گئی ہے جو جدید نظریات سے میل نہیں کھاتی تو خاطر جمع رکھیے کہ عوام کا اجتماعی ذہنی شعور اسکو بدل دے گا، کہ قانون سازی کے لیئے ہر پانچ سال بعد چناؤ کروانے کا یہی مطلب ہے کہ “ثبات ہے بس ایک تغیر کو زمانے میں”! جب ہم جمہوریت جو کہ اور سیکولر سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے کو قبول کر چکے ہیں تو اسی نظام کے اندر رہتے ہویے قانون سازی ہورہی ہے۔ آپ کہاں تک اور کب تک ایک سیکولر نطام میں رہتے ہوئے اس نظام کی روح سے رو گردانی کر سکتے ہیں؟ بلاول کی تقریر، اکیسویں ترمیم، غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون سازی، حقوق نسواں کا قانون وغیرہ اسی کا شاخسانہ ہے۔

 

 

 

Advertisements
آج پاکستان کے سب سے بڑے مسائل میں سیکیورٹی کی صورتحال، دفاعی بجٹ میں اضافہ اور بیرون ملک قرضے ہیں۔ تاریخ پر ایک نظر ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان ان مسائل میں ابھی سے نہیں گھرا۔ یہ چند مسائل پاکستان بننے کے ساتھ ہی وجود میں آگئے تھے۔جب پاکستان بنا تو روز مرہ کے کام چلانے کے لیئے قائد اعظم نے بزات خود حیدر آباد کی ریاست سے دس لاکھ روپے کا قرضہ لیا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے لیئے امریکہ سے گاڑی اور ایک ذاتی جہاز کا ارڈر بھی دیا۔پاکستان کے پہلے بجٹ میں دفاع کے لیئے ایک خطیر رقم جو کہ 8۔27 ملین پاونڈ کے قریب تھی، مختص کی گئی جب کہ ٹوٹل بجٹ تقریبا 4۔39 ملین پاونڈ کے قریب تھا۔ جہاں تک سیکیورٹی کا تعلق ہے تو یہ مسائل تو شروع سے ہی پاکستان کے ساتھ تھے۔قائد اعظم کی ذاتی فوج قرار دیے جانے والی لیگ نیشنل آرمی کی بات ہونا، قرارداد پاکستان کے موقع پر مسلم لیگ کے عسکری ونگ کے اہلکاروں کا ننگی تلواروں کے ساتھ سٹیج پر موجود ہونا یا کراچی میں قائد اعظم اور ماونٹ بیٹن کو عوام کے درمیان جاتے ہوئے جان کا خطرہ محسوس ہونا، خاکسار تحریک اور لیگی کارکنوں کے درمیان خونی لڑایئاں یعنی مسلمان کا مسلمان کے خلاف بندوق اٹھانا، اور قائداؑعظم پر قاتلانہ حملے یہی بتاتے ہیں کہ سیکیورٹی کے مسائل پاکستان کے ساتھ ہی پیدا ہو گئے تھے۔ شائد یہ باقی ملکوں کے ساتھ بھی ہو مگر مسئلہ یہ ہے کہ باقی ممالک کے لیڈران نے ان پر قابو پالیا۔۔ ہم ابھی تک انہی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک اور پات یہ کہ یہ بات بڑے تواتر کے ساتھ کی جاتی ہے کہ باقی ملکوں میں چائے بیچنے والے تک وزیر اعظم بن گئے اور پاکستان میں یہ نہ ہو سکا۔۔۔ تاریخ بہت ظالم ہے۔۔ یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان بنانے والے سبہ لوگ سرمایہ دار اور لینڈ لارڈ ٹائپ لوگ تھے۔۔ 1937 میں ہی کانگریس نے جاگیر داری نظام لپیٹنے کا آغاز کر دیا تھا جب کہ آج سات دہایئاں گذرنے کے نعد بھی پاکستان جاگیر داری نظام سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکا۔۔ آج اگر بھارت میں ایک چائے بیچنے والے کا بیٹا وزیراؑعظم بنا ہے تو یہ راتوں رات نہیں ہوا ۔۔۔ پاکستان ابھی اس مرحلے سے کم از کم سو سال دور لگتا ہے۔۔ ہمارا ایک یہ بھی مسئلہ ہے کہ سارے ملک کی پولیس سیاسی ہو چکی ہے۔ ہم ماڈل ٹاوں کے سانحے کو روتے ہیں تو میں سن سنتالیس میں خضر حیات ٹوانہ صاحب کے پولیس کو حکم کہ ‘لیگی کارکنوں پر چڑھ دوڑو’ کو کس دیوار پر ماروں۔۔ یہ تو صرف ایک ایسی مثال ہے۔۔ ہم اس بات کا ذکر کرتے بھی نہیں تھکتے کہ ہمارے سیاسی قائدین ناپختہ ہیں اور ہڑتالوں اور ملک اور شہر بند کرنے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں تو میں مسلم لیگ کے ‘راست اقدام’ جس میں ہزاروں لوگوں کی جان گئی کو کس قالین کے نیچے دبا دوں۔۔ آج ہم روتے ہیں کہ فوج سیاسی قیادت کی بات نہیں سنتی۔۔ جب قائداعظم نے 1948 میں پہلے جنرل کو کشمیر کا دفاع کرنے کا حکم دیا تو اس نے انکار کر دیا۔۔ اس بات کا بھی ہمیں بڑا دکھ ہے کہ قبائل نے ہتھیار اپنے ہاتھ میں لے لیئے ہیں اور ریاست کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں تو یہ کام تو قائد اعظم کے زمانے میں ہی شروع ہو گیا تھا جب فوج کی گاڑیوں میں قبائل کو بھر بھر کے کشمیر کی جنگ میں جھونکا گیا۔۔ کہاں تک سنو گے خہاں تک سنایئں کے مصداق آج پاکستان کے ہر مسئلے کا سرا سو سال پہلے والے حالات سے اتنی ہی مماثلت رکھتا ہے جیسا کہ یہ اسی دور میں وقوع پزیر ہو رہے ہوں اور یہ ہمارے سماجی رویوں سے لیکر سیاسی پختگی تک ویسے کے ویسے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے آج ہم جن مسائل میں گھرے ہوئے ہیں وہ پاکستان کی گھٹی میں پڑے ہوئےہیں۔ ہم اور ہماری سیاسی سوچ آج بھی وہیں پر ہے جہاں پر آج سے سو سال پہلے تھی بلکہ اس سے بھی بدتر۔۔ وہی کرپشن کی داستانیں، وہی لوٹ مار، وہی فوج کے ساتھ تعلقات، اسی طرح کے بلکہ اس سے بد تر سیکیورٹی کے مسائل۔۔۔ الا ہٰذالقیاس۔۔

The sort coins of Quaid-e-Azam

A few days ago I happened to come across a column by Dr. Safdar Mehmood in which he had tried to impress upon the common people of Pakistan about the excellence of Quaid-e-Azam’s companions during the Pakistan movement. In this very column he tried his very best to reject the statement which is often referred to  as saying of Quaid-e-Azam that he had some counterfeit coins in his pocket and all he did in third fourth of his column was some frothy eloquence and verbose. Only in the last paragraph he referred to some book and gave his opinion while I was expecting him to state some statement of Quad-e-Azam in favor of his companions (mainly, Liaquat Ali Khan) but he didn’t.

I have no argument about this statement of coins was uttered by Jinnah or not. But there are some statements recorded by the historians which expound the deteriorating nature of relationship between Liaquat Ali Khan and Quaid-e-Azam, especially in the last days.

This was the time when Bengal was suffering from severe famine and there was a tension between Congress and Muslim league regarding formation of Government in the center.  Jinnah and Gandhi both were aging, younger leaders of Muslim League and Congress, Liaquat Ali Khan and Bhulabhai Desai respectively, met and allegedly agreed on a ‘formula’ for “Interim Government at center”. According to this formula Muslim League and Congress were supposed to gain 40% share each in the cabinet, whereby 20% was the share of Sikhs and Untouchables while keeping Viceroy and his Commander-in-Chief as British. Stanely Wolpert writes, “but it remained unclear whether or not Liaquat ever actually discussed this matter with Jinnah”. In January 1945, Jinnah in an interview with Associated Press notified, “There is absolutely no foundation for connecting name with talks which may have taken place between Nawabzada Liaquat Ali Khan and Bhulabhai Desai”.

Here one is coerced into pondering as to why Jinnah would refute, Liaquat Ali Khan’s claim or as to why Nawabzada would indulge himself into talks with a Congress leader without taking Jinnah into confidence.

After the birth of Pakistan, Jinnah wanted to see his infant nation progressing but was not happy with his Prime Minister’s Performance that during lunch with CM Sindh MA Khurhu, he pronouced Liaquat Ali Khan as “mediocre”.   Upon hearing that Mr. Jinnah had been criticizing Liaquat Ali Khan, through her wife, Liaquat Ali Khan tried to tender resignation in February 1948.

Also when Liaquat Ali Khan visited Quad-e-Azam Muhammad Ali Jinnah in Ziarat, he asked Fatima Jinnah if she knew as to why Liaquat Ali Khan visited him? “he wants to know how serious my illness is and how long will I last”.

Jinnah had similar trust issues and expressed his disgust for witliaquath his other companion, Nawab of Madot, the then CM of Punjab. Jinnah asked Mian Mumtaz Daultana to take control of Punjab Ministry but Daultana refused. Jinnah was very angry on this.

(Reference: Jinnah of Pakistan by Stanley Wolpert)

All over the world, the governments make sure that its citizens are given proper respect and their integrity, freedom and self respect is honored in the country and specially in abroad. Recent history has witnessed quite a lot of such events as countries went to any length in order to protect the honor of their citizens.

In case of Pakistan the Ganges flows in reverse direction. Pakistanis in their own country are mortified, humiliated and insulted by its own government sometimes in the name of  blocking of the roads and keeping the commuters waiting in long queues on roads so that the men in power (who have no other qualification to be in power, other than they have plundered money) and all the times, keeping them stranded on roads leading to cantonment, ordering them to turn the headlights off, coercing them to put the vehicle in first gear and drive at almost zero speed so that a cop has no difficulty looking at citizens of ‘free’ Pakistan with a suspicious eye, entering the land of despotism of military.

I won’t discuss how foreigners in Pakistan roam free, carry illegal weapons and even kill citizens of ‘free’ Pakistan and then leave the country without any charges and that government and military who control each and every movement of the its own citizens seems helpless when it comes to prosecution of foreigners. A foreigner may open a restaurant and bar Pakistanis to enter it. It happens only in Pakistan.

In rest of the ‘free’ world, the citizens are allowed to go to any embassy of any country to apply for visas etc but in Pakistan the common citizens of ‘free’ Pakistan have to follow the below steps to earn insolence from foreigners which starts the moment when a person leaves his home for diplomatic enclave in Islamabad.

  1. You are welcomed with a lot of illegal and ‘legal’ barriers on roads in Islamabad. Police check points are spotted everywhere and traffic is put in a zigzag way at almost zero speed. Police looks at you with a suspicion.
  2. You learn that in ‘free’ Pakistan you are not allowed to enter the diplomatic zone on your own car or on cab unlike rest of the world.
  3. The cab or Toyota hiAce drops you at a point called Diplomatic Shuttle Service (DSS).
  4. At the main entrance of the DSS a policeman asks you about your purpose of coming there as if the ‘suspect’ would respond by saying that he came here to eat pizza. You are then asked to show your ID which you show and then you are allowed to enter that area. (start counting how many times you have to prove your identity).
  5. Now if you have documents (passports, bank statements etc) you are not allowed to take them inside in a bag. The security guard standing at the second entrance beside the scanning arc (like at airports) directs you to another counter where you have to deposit your bag, take documents out, take a receipt of bag deposit and only then you are allowed to pass through a scanner where you again tell the security guard the purpose of visit, while being hand searched.
  6. It is the time to stand in a queue to take the ticket of shuttle service. The person at the counter is not at all polite. You will be asked to prove your identity, pay Rs200/- for shuttle service fare .
  7. You are not done yet, now you are directed to another counter to deposit your mobile phones. Turn your mobile phone off, stand in long queue again and, deposit your mobile phone and take the deposit receipt.
  8. It is the time to enter the waiting lounge. Another scanning arc welcomes you. You once again prove your identity, hand searched by a security guard, tell him that you are not carrying any mobile phone with you and only then you are allowed to enter the waiting lounge.
  9. After the shuttle get ready, you have to stand in queue and get ready to ride the bus.
  10. As soon as the bus enters the diplomatic enclave, you witness the heavy guarded gates with blade wires wrapped all over the walls of the area. The bus stops near the barrier and a person with handy-cam in his hands enters the bus and makes the video of every passenger while another security guard seeks each person’s identity again.
  11. Barriers opens and the shuttle bus enters the enclave and passengers are started to be dropped at respective embassies.

What happens to the citizens of ‘free’ Pakistan inside the embassies is another story as to how they have to make queue outside the embassy or consulate and again they have to prove their identity and how the visa officers insult them.

But where the state is not able to provide the proper and due self-respect to its own citizens and it design such measures as to suspect each one of them the expectation from foreign missions to offer courtesy to them is a far cry.

This country seems to be being gradually designed for ruling class only and not for common man.

On the second annual convention of All India Muslim League at Amritsar on 30-31 Dec 1908, Syed Ali Imam demanded from the British rulers, the eradication of insolence and feeling of inferiority and mortification between the rulers and the ruled but hundred years on, and people of ‘free’ Pakistan are still searching for honor. White rulers left the country and it was substituted by black rulers who still consider this country as some colony and its citizens as subjects of the ruling class. The laws which were designed to rule the slaves are still implemented.

The counter argument to above is that, Pakistan is in a state of war and there is terrorism threat and that is why such measures are taken. Agree with that, but question arises if such derogatory measures of putting fetters and gags on its own citizens to limit their movement, which is their prerogative,  has changed anything? Just last week there was an attack on naval installations and recent bomb blasts in the Islamabad courts and fruit and vegetable market, speak volumes of the effectiveness of such colonial measures, flouting the tenor of the human rights and doing flagrant violation of the constitution. The only way out is to adopt long-term, sustainable measures using technology but this won’t make our current rulers and bureaucracy feel rulers.

 

injusticeThe more you read the history of Muslims of India and their political struggle; you realize that Muslims of subcontinent, I would talk specifically about Pakistan, are still at the same stage where Muslims of India had started their political journey for the betterment of a minority called Mohammendens in British India.

 

Here is an excerpt from the Presidential Address of Syed Ali Imam to the All India Muslim League’s second session held in Amritsar on 30-31 Dec 1908. In the section I would quote, Syed Ali Imam goes on to expound as to how Muslims League’s agenda is different from that of Congress and why lots of Mulsims had remained aloof from joining this party, but I would stop only to that section where League’s leader enumerates the major problems faced by then society as whole and especially Muslims.

 

Let’s read it and see where we stand today as those problems are still existing in Pakistan and Muslims have not gotten rid of this one tithe.

 

“The separation of judiciary from the executive, the repeal of degrading Colonial Ordinances, the extension of primary education, the adoption of measures of sanitation, the admission of Indians of all races in large numbers into the higher branches of the public service, discontinuance of official interference in matters of local self-government, reasonable reduction of military expenditure without endangering efficiency, recognition of the legitimate and patriotic desire of the warlike races of India to render military service as volunteers, the grant of commissions in army to Indians, equitable adjustment of Home Charges, limitation of revenue on land belonging to the State, establishment and development of village unions for the disposal of petty civil and criminal cases, encouragement and protection of indigenous arts and industries, the eradication of insolence, on one hand, and feeling of inferiority and mortification on the other, between the rulers and the ruled, are some of many grave questions of practical politics in India that equally effect all classes of our countrymen. …”

 

It is really disappointing that the problems we faced a hundred years back are still there even after we won an independent state of our own.

 

The tunnel vision of our current and previous leadership has utterly failed to overcome a single problem as cited above by a Muslim Leagues leader a hundred years back.

 

  1. Still judiciary is not separated from the executive and has worked and still working under the behest of civil and military dictators and rulers. The only thing our judicial has produced is red tape culture and doctrine of necessity. Dictators have been legalized and politically motivated verdicts have been given. Fingers are being raised on the legitimacy of the current judicial system of Pakistan in the wake of rigging in recent election of May 2013 and judiciary’s involvement therein.
  2. The hollow leadership has not been able to install proper self-government and they are still running away from it. For the past, almost one decade now (from 2008) Pakistan is without any proper self-government system.
  3. Primary education could not be extended in the past six decades the way it was supposed to and it has made Pakistan one of those countries with highest number of kids of school going age away from primary education.
  4. Minorities cannot even think of joining the higher posts in civil and military institutions.
  5. Military expenditure in Pakistan is sky high and still the country is most vulnerable of any terrorist attack at any bazar, market, public place and high sensitive areas.
  6. Land reforms in Pakistan seem a far cry now and issue from which India got rid just after independence.
  7. Village unions and reforms to resolve the petty criminal cases at local level is still not in place. It is a habit of Pakistan’s current and previous leadership to nominate the SHO of their own choice in the village whose duty is merely to protect the interests of the local MNAs and MPAs.
  8. Protection of indigenous arts and crafts is still a dream and remains of that are also being destroyed. Yes, for the photo session of the hollow leadership they do organize the fake festivals at the ruins of great ancient civilization of Mohenjo-Daro, sing songs, dance, eat and then vanish leaving behind the crying, moribund and hand-to-mouth poor artists. All this stage show is done by the public’s exchequer for the glory of personal who want-to-be leaders of this dilapidated society whose majority lives under huge stress to make both ends meet, living under 2 dollars a day.
  9. The public still faces insolation and mortification on daily basis just to quench the thirst of the ego and power of politicians who come to power just by rigging. This happens sometime by closing the public roads, sometimes we see this happening when people are made to stand in long queues to get rashan. Sometimes this happens when a tribal man is deprived of its basic rights under the name of FCR, even after British left the subcontinent. Sometimes when a deserving candidate cannot get the post because of nepotism.

 

List goes on but it is evident like a sun in the sunny day that our whole leadership in the past and present has been failed miserably to provide to this country, even basic needs for which a common man is crying for the last century. On the roads, it is not traffic but chaos. In the offices the corruption is breaking all time high records. Who was supposed to even teach the public how to behave, who was supposed to provide the citizens a civic sense? This was the job of political leadership but instead of making this country a better place of living, it has been made Gahanna, people are going more and more into privation and society is moribund. We, our leadership, our politicians and bureaucracy has flouted the tenor of those resolutions and charters on which the existence of Pakistan was predicated.

 

All so called elections and reforms we have seen have only made Pakistan desolated and dilapidated.

 

We are for sure living in an era of 1908 insofar as the problems faced by a common man are concerned.

 

 

 

 

Every state makes such laws in order to protect its citizens, property and sovereignty as to convict those who attempt to sabotage the peace in the country. But these laws are always made keeping in view the human rights and personal freedom. But when we look at the Protection of Pakistan Ordinance, it seems to violate those human rights, democracy and constitution. The security forces can kill anybody under the doubt of him being terrorist and fanatic alien war monger!
People of Pakistan already have enough experience of administrative directives and ordinances which have enacted the rule of Military fright instead of rule of law for over quarter of a century. People of the country especially the ones from Balochistan have already enough experience of rotting in the solitary confinements at undisclosed locations, in-camera inquiries highly classified evidences and unpublished reports.
When police or security agencies would be allowed to keep any person on the mere doubt in their custody for up to ninety days and if the security officers kill someone just because they thought one as criminal, PPO shall be there to cover this outlawry. Who can guarantee that the law shall not be (mis)used to settle personal vendetta? Why is it necessary for forces to keep a person in custody for up to ninety days without any charge? Doesn’t this show the incompetence of our law enforcement agencies that they are unable to carry out the preliminary investigation in twenty four hours’ time prior to producing the accused in front of magistrate? Instead of enhancing the capabilities of our security forces, taking preemptive security measures and deploying latest technology to curb the fanatics, our government have found an easy way out to promulgate such a tyrannical law that shall just deprive more mothers of their ‘missing’ sons and probably more mass graveyards.
It is also a matter of concern the way PMLN government has get it passed from NA without paying heed to the amendments proposed by the opposition. Such autocratic measures leave no second opinion on the fact that Pakistan is being drifted farther away from the civilian rule and more unrest because government doesn’t seem to agree to get the validity of this law tested in National Assembly both in form and in substance. Now if apex court (most probably) takes notice on the conflicting clauses of this ordinance with constitution and human rights, we will see government crying foul that such notices by court are an attempt to undermine the parliament. Why it is so hard to do the right thing at first place?
Moreover, such laws are only passed when an alien government wants to suppress the native people by implanting fear of security agencies so that their mouths are muzzled such as to curb freedom of speech and press. Fetters and gags are planted by this kind of laws on the people who are considered slaves. But Pakistan is free country and if even after freedom we need such ‘black laws’ in order to maintain integrity, peace and law & order, I fear we are heading towards another Jalianwala Bagh incident after British passed Rowlatt Act.

Mursalan Haider
12-April-2014
Beijing, Haidian China

1. A Common man is frustrated

A common Pakistani is quite frustrated. He is disturbed due to lack of justice and social inequality makes him annoyed and rebel against the government. He thinks it is right and his right to make others suffer the way he is. It is not just because he is going through a trauma; it is mainly because what he sees around himself.  Social inequality, poverty, joblessness, domestic issues and on the other-side carpeted roads, SUVs, rout protocol of VIPs. He wants to get rid of this socioeconomic culture prevailing in Pakistan just in a flash. He is peripatetic like a headless chicken, he is confused, he is leaderless, he is hopeless and he is desperate to change the system.

Same was with this man Sikandar who out of sheer frustration went on to challenge the security institutions of country. He wanted the release of his son from Dubai Jail.

2. If you are powerful (Pakistani), snatch your ‘right’

It is now becoming order of the day to use power to make your demands. It only takes couple of guns, two small kids and a feared wife to jam the whole city. The theory behind this act to use power and family as human shield is snatch your right as nobody will not offer it to you in the plate. A common man already doesn’t have trust in the social justice system. He has listened so much lies and faced betrayals from people of his trust that it makes a common a man think that he is right in his demands even if he is wrong. Also what he sees around is the same, what powerful people do. People who have power can come and abduct a prime minister’s son, dacoits can use power and make Punjab police retreat, some well powerful gang can break the jail even, a policeman gives the ticket to some powerful guy fearing his job, a poor road hostess has to face slaps if she is late in bringing water to her customer, Karachi extortionist mafia and the list goes on.

Now Sikandar’s son might be in jail because of some crime but he went on to demanding the release of his son as he might have thought that his imprisonment wasn’t justified and by use of power he can force the government to meet his demands. Sikander might have to think tens of time before taking such a step in UAE which has zero tolerance policy for such acts.

3. Religion is the best selling commodity in Pakistan

One of the demands of Sikandar was to impose Shariah Law in the country. Don’t get surprised on this. It is common in Pakistan to use religion in every walk of life, right or wrong, doesn’t matter. If your business, politics, propaganda against your rivals, law making in the parliament and using religion for political gain , sports and day-to-day chores are mixed with religion (in Pakistan especially) you have the sympathies of the public. Sikandar knew it and that why along-with his main demand of release of his son from Dubai jail he considered it worthwhile to use religion to gain sympathies of the public. Till date Taliban are using power to make Pakistan a theological state and government is still on the way make a policy to counter them.

Sikandar was no different. He thought, he had power, hostages and his demands mixed with religion. Who would dare go against him?

4. Security Agencies lack Morale

The fiasco of police to counter Mr. Sikander at the very first check post or within half an hour of his firing unveils how much morale of our forces is down. They lack courage and due to political and judicial pressures, the decision making capacity of our police is vanishing day by day. Its first example we saw in the DI Jail Break scenario when guards opened the doors by themselves for Taliban and hid in the drains. Second we saw yesterday when Islamabad police was looking towards Aabpara and political leadership for the orders and it took more than 5.5 hours to get rid of Mr. Sikandar and how the culprit was removed from the scene is itself a big question mark. What could have been done was to cordon off the area from the public and take the action immediately after camouflaging the area, e.g., building smoke screen etc and commandoes would have captured him but, there seemed nobody to take decision at that moment to take a decision. Sometimes media reported that snipers had been called and sometimes that Interior minister had ordered to capture Mr. Sikandar alive.

Police allowed a third person to enter the scene in the disguise of negotiator with an aim to capture Mr. Sikandar. It is still not clear if it was police was aware of Mr. Zamurd Khan’s plans or it was his own decision. If it was Mr. Zamurd Khan’s own decision, he must be tried for risking his and the Sikandar’s family’s lives. Mr. Zamurd wasn’t well equipped and fell down. He could have been easily shot.

5. Political leadership is incompetent

Imagine that a country’s capital is under siege. A single armed had taken whole nation (via media) and his family hostage  to force the government to meet his unprecedented demands. All the channels start showing it live. Whole country sticks to the TVs to watch the end of that saga, Conspiracy theories start brewing, police starts searching the culprit’s home in Hafizabad District, people start getting to know the family tree of Mr. Sikandar but wait; where is interior ministry? Why is no SOP made to encounter such a situation? If there was SOP in place what was hindering police to act upon? Now when this drama has come to an end, Nawaz Sharif has ordered the enquiry in to the matter which would advise as to whose fault was this that he entered Islamabad with weapons and whose responsibility was to capture him? Applause Mr. PM, applause. Where ere you yesterday when all that happened and are you telling the nation that our security agencies FIA, Police, IB, CID, ISI have not been provided with any kind of SOP to deal with such matters? Why was he able to take unlicensed automatic weapons with him and how it was possible for him to take a room in Islamabad hotel by telling his fake ID? Please don’t put the blame to the last regime. You and your party have in power in this country for the last circa thirty years. I hope this enquiry report shall not be kept in the cabinet of some section officer till another such situation is created in the capital. It is just like every year our country is flooded and every years our political leadership visit the flooded areas, rant slogans but there is no concrete policy to encounter it.

This incompetence is the reason that people lack trust in the government and its agencies (not only in security agencies but also other institutions as well) and allow people like Mr. Zamurd Khan to enter the scene and bag the ‘hero award’. What we need is real heroes from the government agencies not who enter the scene via parachute.