Posts Tagged ‘sarfaraz’

 

پاکستان اور بھارت کے درمیان چیمینز ٹرافی کا فایئنل دیکھتے ہوئے، ساتھ میں دوستوں کے ساتھ ٹویٹر اور واٹس ایپ پر رواں تبصرے کرتے ہوئے یہ کس کافر کو یاد رہنا تھا کہ وہ سارا دن آفس میں روزے میں کام کے ساتھ ساتھ وہاں موجود کولیگز کے بھیس میں موجود بڑے بڑے جغا دری سیاستدانوں، جن کے آگے زرداری بھی پانی بھرے، کو برداشت کر کے آیا ہے۔ لاری اڈوں کے غسل خانوں میں لکھے اس فقرے کے مصداق کہ “دنیا چن تے پوہنچ گئی، توں اتھے بیٹھا ایں”، جی یہ کاوچ اور یہ ٹی وی اور  یہ میچ اور بس۔ سکور بورڈ پر پاکستان کے بڑھتے رنز کے بعد انڈیا کی ہر گرتی وکٹ کے ساتھ “کچھ برا ہونے والا ہے” والی او سی ڈی اور اینزایٹی کے ساتھ جنگ کے دوران میچ جیتنے کا حد سے زیادہ یقین اور وہی بات کے “لوٹ جاتی ادھر بھی نظر کیا کیجے”۔ میچ جیت بھی جایئں تو کیا پاکستان کی عزت دنیا میں بڑھ جائے گی؟ کیا پاکستان چایئنہ کی کالونی بننے سے بچ جائے گا؟ کیا پاکستان کی یونیورسٹیوں کی رینکنگ اوپر چلی جائے گی؟ کیا اس سے پاکستان کو سلامتی کونسل میں مستقل نشست مل جائے گی؟ کیا اس جیت سے سپارکو نئی دنیاوں کی تلاش میں اپنی ہی سر زمین سے سیٹیلایئٹ لانچ کرنا شروع کر دے گا؟ کیا اس سے نوز شریف جے آئی ٹی میں رسیدیں پیش کر پائے گا؟ کیا پاکستان میں غربت کا خاتمہ ہو جائے گا؟ کیا اس سے شرح خواندگی 100٪ ہو جائے گی؟ کیا بھاشا ڈیم بن جائے گا؟ کیا یہ جیت ان لوگوں کو جنہوں جنت کی طرح گوادر اور ڈی ایچ اے اسلام آباد اوورسیز بلاک میں میں دیکھے بنا پلاٹ بک کراوئے ہیں، اپنی زندگی میں وہاں پر ایک شہر بے مثال بنتا ہوا دیکھ سکیں گے اور وہاں رہ سکیں گے؟ کیا اس سے وہ دن آ جائے گا جس کے بارے میں قدرت اللہ شہاب یہ کہ گئے کہ ایک دن دنیا کے فیصلے پاکستان کی مرضی سے ہوں گے جب کہ حالت یہ ہو کہ ہمارا وزیر اعظم تقریر تو تیار کرتا رہے لیکن عالمی فورم پر اس کو تقریر کرنے نہ دی جائے۔

تو بات گھوم پھر کے وہی کہ ایسا کچھ بھی نہ ہونا تھا اور نہ ہو گا لیکن اس جیت کا حسن اتنا دلکش ہے کہ نظر لاکھ “ادھر” لوٹ جائے جہاں پر خس و خاشاک میں لتھڑی اور  خاک و خون میں نہلائی ہوئی انسانیت کراہ رہی ہو یہ جیت کی خوشی کو کم نہیں کر سکتی ۔  کہ یہ جیت ایسی ہی ہے جیسے کوئی کھوئی ہوئی یاد آئے اور صحراوں میں ہولے سے باد نسیم چلا دے، کسی بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے اور کسی ویرانے میں چپکے سے بہار لے آئے۔ یہ جیت وہ مارفین ہے کہ جس کے نشے میں پچھلے دو دن سے کراچی سے کشمیر اور میلبورن سے ٹورانٹو اور لندن سے جوہانسبرگ تک پاکستانی اپنے مسئلے مسائل بھول کر، جشن منا رہے ہیں۔ یہ جیت ایمسٹرڈیم کے ضلع ڈی والن سے ملنے والا کنابس سے بھرا ہوا سگریٹ ہے کہ جس کو پی کر انسان کچھ لمحات کے دنیا و مافیہا سے بے خبر اور احساس تفاخر سے بھر جاتا ہے۔ یہ جیت فارمولہ روزا پہ 240 کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار پر اوپر جانے اور پھر بلندی سے نیچے آتے ہوئے پیٹ میں ہونے والا  وہ عجیب سا احساس ہے کہ جس کا کوئی نام نہیں۔ یہ  جیت شطرنج کے کھیل میں اپنے مخالف کو شہ دینے سے پہلے ہونے والا ایڈرینالین رش، شہ اور شہ مات کے درمیان ولا ڈوپامین رش اور شہ مات کے بعد والا اینڈورفینز رش ہے۔ یہ جیت داستان امیر حمزہ میں اس اندھیرا چھٹنے  والے پیرا گراف کی لایئن پڑھتے ہوئے ہونے والا احساس ہے جس میں ایک دیو کی عالم بدارواح سے آواز آئے کہ “میں ایک بہت ظالم کالا دیو تھا او مجھے عمرو عیار نے خالی ہاتھوں مارا” اور قاری اپنے آپ کو طلسم ہوشربا میں کوہ قاف کی پریوں کے درمیان محسوس کرے۔ یہ جیت وہ لطیف احساس ہے جو گاوں میں کسی اماوس کی رات چارپائی پر لیٹے ہوئے ملکی وے کہکشاں اور ستاروں کو ٹوٹتے بکھرتے ہوئے دیکھنے میں ہے جو انسان کو یہ احساس دلائے تم اپنا پر شکوہ ماضی دیکھ رہے ہو اور تم حال میں نہیں بلکہ مستقبل میں ہو۔ یہ جیت وہ احساس ہے جو اس آٹھ بچوں  کے والد، غریب کسان کو ہوتا ہے جب چھے مہینے بعد اسکی گندم، کماد، کپاس یا تربوز کی فصل برداشت کے قابل ہو جاتی ہے اور وہ ایک لمحے کے لیئے یہ بھول جاتا ہے کہ اسکا بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے۔  یہ جیت عمران سیریز کے ناولوں والی مظہر کلیم ایم اے کی کی گئی جولیانا فٹر واٹر کی تصویر کشی اور پاکیشیا کا کافرستان اور ایکریمیا کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔ اگر کوئی معجزات پر یقین نہیں رکھتا تو یہ جیت اس کے لیئے عین الیقین ہے کہ تھسارا پریرا سرفراز کا ہاتھوں میں آیا ہوا کیچ چھوڑ دے اور بمراہ نو بال پہ وکٹ لے یا اس کی گیند وکٹ کو ہٹ کرے اور بیلز نہ گریں، یا جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں بارش ہو جائے؟ رین رین گو اوے، کم اگین این ادر ڈے۔ لٹل پروٹیاز وانٹس ٹو پلے۔ رین رین گو اوے- یہ جیت اس بچے کے زہن میں ابھرنے والے اس سوال کا جواب ہے جو “کچھوا اور خرگوش” والی کہانی پڑھ کر پیدا ہوا کہ خرگوش اتنے اہم مقابلے میں سو کیسے گیا؟

سارا دن اس میچ کی ہائی لایٹس دیکھنے، محمد عامر کا سپیل رپیٹ پر دیکھنے، کوہلی اور روہت شرما کا بنا ہوا منہ، انکی می میز ٹویٹر پر پوسٹ کرنے اور واٹس ایپ پر براڈکاسٹ کرنے، اپنے ہندوستانی کولیگز سے میچ کے بارے میں پوچھنے، پھر کرک انفو پر اس میچ کے بارے میں سارے ارٹیکل پڑھنے اور فیس بک پر ہر اس پوسٹ جو میچ کے بارے میں ہو، کو لایئک کرنے کے بعد اب رات کے تین بجے جب میں ٹی وی کے سامنے صرف اس لیئے بیٹھا ہوں کہ سرفراز کا استقبال دیکھ سکوں۔ اس جیت کا نشہ ایک یا دو ہفتوں میں اترنے والا نہیں ہے۔ یہ اب تب تک رہے گا جب تک پاکستان ہندوستان کو دوبارہ شکست نہیں دہتا۔ مجھے ابھی اس سے کوئی غرض نہیں کہ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک تو پاکستان چیمپینز ٹرافی تک کھیلنے کی پوزیشن میں نہیں تھا اور اس تورنامنٹ سے پہلے تک تو ورلڈ کپ میں براہ راست رسائی نظر نہیں آ رہی تھی۔

فی الحال تو جیت کا جشن ہے اور ہم ہیں دوستو! عامر کا سپیل ہے اور ہم ہیں دوستو! اڑ رہی کوہلی کے نام پہ دھول، سرحد پار ٹی وی رہے ہیں ٹوٹ اور سری نگر میں آتش بازی ہے اور۔۔۔ ہم ہیں دوستو!

ان حالات میں اس حب الوطنی زدہ شخص سے اسکا، تعصب، نسل پرستی اور حب الوطنی کے نشے سے دور،  پانچ سال کا بچہ، یہ پوچھے کہ یہ انڈیا کیا ہوتا ہے تو کیا جواب دیا جائے؟ خود ہی معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان پڑھے کا تو سمجھ آ جائے گی۔ خواب تو میرا  بھی ورلڈ ریپبلک کا ہے لیکن اس میں ایسے میچوں کی جیت سے حاصل ہونے والی خوشی ہم کہاں سے کشید کریں گے؟