Posts Tagged ‘visit’

مجھے اس شام واپسی پر معلوم ہوا کہ ایمسٹرڈیم کے “منطقہ لال روشنی” میں اس کثیر منزلہ عمارت کی دہلیز پر بیٹھی ہوئی برگنڈی رنگ کے بالوں والی لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کے کندھے پر سر رکھنا چاہ رہی تھی مگر کیوں نہیں رکھ پا رہی تھی اور اسکا بوائے فرینڈ نہر کے پار، چرچ کے بلند ایستادہ مینار سے اوپر دور خلا میں کیا گھورے جا رہا تھا۔
میں آتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ یہاں ترک بچہ جو فرینچ فرائز کی دکان کھولے بیٹھا ہے کیسے اپنے پیسے پورے کرتا ہوگا اور کون اس کی دکان سے شراب و شباب اور بھنگ کے درمیان، اس سے تلے ہوئے آلو خریدتا ہو گا لیکن اب واپسی پر میں اس کی عقل اور کاروباری دماغ کی داد دے رہا تھا کہ آلو کے نمکین قتلے بیچنے کی اس سے بہتر جگہ تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی تھی!
مجھے اب یہ احساس ہو رہا تھا کہ ڈی والن کے بیچوں بیچ گزرنے والی نہر میں بجروں پر بیٹھے ہوئے وہ بظاہر سست ا لوجود سیاح،  پانی کے شور،  غروب ہوتے سورج کی مدھم کرنوں، بطخوں کی قطاروں اور خنک ہوا کا لطف اٹھا رہے تھے، جن کا وہاں فارغ بیٹھنا مجھے پہلے مجھے وقت کا ضیاع لگ رہا تھا۔ وہ ابھی نیم اندھیر کافی شاپس میں لاوڈ میوزک میں سارا دن گزار کر نکلے تھے اور اب یہ دیکھ رہے تھے کہ سورج کس تیزی سے اس چرچ کے بڑے سے مینار کی اوٹ میں غروب ہو رہا تھا جس میں سے ہر گھنٹے بعد گھنٹیاں بجنے لگتی تھیں۔ کوئی کنفیشن کرے یا نہ کرے، کوئی عبادت کرنے آئے یا نا آئے، صلائے عام ضرور تھی۔ پرندے قطاروں میں واپس جا رہے تھے، سیاحوں کا رش کم ہو رہا تھا-  سارا دن سیاحوں کو دعوت گناہ اور جسموں کی فروخت کے بعد جدید دور کی غلام مخلوق لال روشنی والے کمروں کے شیشوں کے آگے پردے گرا کر کل دوبارہ آنے کے لیئے جا چکی تھی اور سایکلوں کی گھنٹیاں، کاروں کے ہارن، ٹرام کی آواز، پیدل سڑک پار کرنے والوں کے لیئے بزر، بطخوں کا شور اور دور کسی شراب خانے کے ٹی وی سے آتی ہوئی چیمینز لیگ کی کمنٹری کی ہلکی آواز ایک اس قسم کا شور ثابت ہو رہی تھی کہ جس میں انسان اپنی سوچوں اور خیالات کو پڑھنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔
ایمسٹرڈیم کی وہ سڑکیں اور گلیاں تھیں جو دو گھنٹے پہلے تک انجان سی لگ رہی تھیں اب گوالمنڈی جیسی لگ رہی تھیں۔ مجھے وہ سینٹرل اسٹیشن جو پہلی نظر میں کوئی بہت ہی پر شکوہ عمارت لگ رہی تھی اب راولپنڈی اور لاہور کے ریلوے سٹیشن کی دوسرے درجے کی کاپی لگ رہی تھی۔ وہاں پر برہنہ مجسمے اور لاہور کے ریلوے سٹیشن پر پاک کلمات! ادھر مرسیڈیز ٹیکسیاں اور یہاں کالی پیلی مہران، آس پاس گزرتے لوگوں میں جاکھم والز بشیر اور ایلیسے شبانہ۔ بشیر چوہدری صاحب کا قرض دار اور جاکھم کریڈٹ کارڈ کا۔ ایلیسے کی خفیہ طورپر ڈی والن کے کسی دلال سے ڈیل اور پاکپتن کی شبانہ بھی جوہر ٹاون لاہور کے گیسٹ ہاوس میں کسی ایسے ہی مقصد کے لیئے رہے! وہاں کے میوزیم آف سیکس، میوزیم آف پراسٹیٹوشن، میوزیم آف ٹارچر اور مادام تساو میوزیم میں اگر غلاموں، جنگ و جدل اور جاہلیت کے دور کی انسانیت کی تذلیل کی ایک تاریک تاریخ قید تو یہاں پر شیش محل، شاہی قلعے، اور بارہ دریوں میں بھی انسانیت کی چیخیں مقید جہاں پر غلاموں اور لونڈیوں کی حالت زار کے ساتھ ساتھ بیٹوں کے ہاتھوں باپ کو زندان میں ڈالنے کی کہانیاں قید۔ یہاں پر “ایکپیٹس” بہتر مستقبل کی تلاش میں غم جاناں سے بیزار، غم روزگار کا روگ لیئے پھریں اور میرے “ٹرانسپورٹر فلم کے ہم شکل و ہم لباس  ڈرائیور جیسے ولندیزی جوان باہر جانے کے   تگو دو میں۔

ہالینڈ میں الیکشن کا دن تھا اور سیاسی پنڈتوں کو یہ امید تھی کہ گریٹ ویلڈرز جیت جائے گا۔ میرے ٹرانسپورٹر فلم کے ہم شکل و ہم لباس  ڈرائیور کا بھی یہی خیال تھا جو ابھی ووٹ ڈال کر آیا تھا اور  اب کام پر تھا۔ اس چناو کے دن بھی وہاں پر کوئی چھٹی نہیں،کوئی بینر نہیں، کوئی ریلی نہیں کوئی پلے کارڈ نہیں کوئی حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ نہیں کوئی غداری کی مہر نہیں کوئی پولنگ سٹیشن پہ لائین نہیں، کوئی موبائیل سروس بند اور نہ ہی کوئی سکول! ٹرام ویسے ہی چل رہی تھی سیاح اسی طرح بیئر اور  بھنگ میریجوانا والے سگریٹ پی رہے تھے۔ یہ بھی بھلا کوئی الیکشن ہوا؟ میرا ٹرانسپورٹر فلم کے ہم شکل و ہم لباس  ڈرائیور کا یہ رونا کے ہماری جابز ایکسپیٹس لے گئے اور ہم بے روزگار بالکل اسی گرایجویٹ “ٹویٹراتی” کی طرح تھا جو پاکستان کے ہر مسئلے کی جڑ میں افغانی تلاش کریں۔

مماثلتیں اپنی جگہ تو اندیشہ ہائے دور دراز کہ ائے پاکستانیو! تم 11 اگست کی تقریر میں پاکستان کے آیئن کے خدوخال  کو تو سیکولر بناتے ہو، پھر بھارتی قرارداد مقاصد کو لے کے اس میں مزہب کا تڑکا لگاتے ہو۔ کبھی بناتے ہو جناح کو لبرل تو کبھی اسکے نام کے ساتھ “رح” سجا دیتے ہو۔ ایک احمدی سے اس قرارداد کا دفاع کرواتے ہو، بعد میں اس کی پوری قوم کا بھی مقاطعہ کرا دیتے ہو۔ شری چندرا چڈوپادے اور جوگندر ناتھ منڈل کو دیس نکالا دیتے ہو، پھر آپریشن سرچ لائٹ بھی اٹھا دیتے ہو! مزہب کے نام ملک بنایا تھا اس کو پھر قومیت کے نام پر دولخت کرا دیتے ہو! ایک سیکولر اور جمہوری طرز حکومت کا آیئن بناتے ہو پھر اس میں مزہبی شقوں کا تڑکا بھی لگا دیتے ہو۔ اقلیتوں پر کبھی زمین تنگ کرتے ہو تو انکو وزارتوں سے بھی ہمیشہ نواز دیتے ہو۔ لگا بیٹھتے ہو جو امریکہ سے جوت۔ افغانستان کی سنگلاخ چٹانوں میں اپنے خون سے اس کا سرمایہ دارانہ نظام بچا لیتے ہو۔ کسی کی لگائی گئی آگ کو بجھاتے بجھاتے اپنے اپ کو ہی جلا لیتے ہو۔ سٹاک ہوم سنڈروم میں ایسے مبتلا ہوتے ہو کہ یہاں آگ لگانے والوں کو بار بار اپنا بھائی بنا لیتے ہو۔ کشمیر کے نام پر چار جنگیں بھی لڑتے ہو، بھارت کے ساتھ ساتھ باقی ہمسایوں کو بھی دشمن بنا لیتے ہو۔ پھر ایمبیسی کے سکولوں میں اشوک لی لینڈ اور ٹاٹا بسوں پر آنے والے بچوں کو انہی دشمن ملکوں کی فہرست بھی پڑھاتے ہو۔ حرام مشروبوں پہ پابندی لگا دیتے ہو لیکن مری بروری کا منافع بھی ہر سال بڑھاتے ہو! اپنے ملک میں تفرقہ بازی عروج پر لیکن اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کروا دیتے ہو۔ جو کہتے تھے کہ پاکستان پانچ سال نہین نکال سکتا ان کے سامنے گرتے پڑتے کھڑے رہتے ہو! پاکستان، تم ایک گورکھ دھندہ ہو!  پہلے امریکہ اور اب چین، پہلے جہاد اور اب ضرب عضب، پہلے مارشل لاء اب ڈان لیکس، پہلے جعلی کلیم اور اب پانامے، پہلے سعادت حسن منٹو، اب عطالحق قاسمی، پہلے فوجی ڈکٹیٹر اب جمہوری آمریت، پہلے امریکہ کے لیئے جنگیں، اب چین کے لیئے سڑکیں، پہلے دوسرے ملکوں کی ایرلاینز کو بنانے کے لیئے حدمات اب دوسرے ملکوں سے بسیں تک خریدنے کے لیئے قرضے، پہلے سپارکو، اب پانی سے چلنے والی گاڑی، پہلے چین کو دنیا میں متعارف کروایا، اب وہی چین سلامتی کاونسل میں ہمیں دہشت گرد ریاست قرار دلوانے سے بچائے! پہلے بھی کچھ ٹوٹی پھوٹی خود مختاری اب خودمختاری کی تہمت!

انہی منضاد مماثلتوں میں نیند آگئی اور صبح اٹھ کر یہ احساس شدت سے ہو رہا تھا کہ شائد بل ڈاگ کافی شاپ کے اس ہندوستانی نژاد اٹینڈینٹ نے مجھے بھنگ پلا دی تھی!

Advertisements