Posts Tagged ‘world’

ڈسلڈورف سے ایمسٹرڈیم آئیس ریل پر 260 کلومیٹر فی گھنٹا کے سفر کے دوران کوئی بلانڈ توبہ شکن بیر کے گھونٹ بھرنے کے بعد اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ بوس و کنار میں مصروف نظر آتی ہے اور کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ بالکل اسی طرح جیسے ماہرہ خان لکس کے اشتہار میں جب فواد خان کی بانہوں میں، ایک ادا کے ساتھ  آنکھ دبا کر بولتی ہے “بس ذرا سا لکس” تو سارے گھر کے افراد اس کو ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں اور سنی ان سنی اور دیکھا ان دیکھا کر دیتے ہیں کہ ماہرہ خان بنیادی طور پر کیا پیغام دے رہی ہے؟ تاحد نگاہ پھیلے ہوئے گندم اور مکئی کے کھیتوں پر حرام خنزیر کا گوشت کھانے والے اور انکی فارمنگ کرنے والے جرمن کسان ہوائی جہاز سے کھاد اور کیڑے ماز ادویات کا چھڑکاو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جو  اب فصل کو کھاد لگانے  کے  بعد اپنے چھوٹے سے قصبے کے پب میں بیٹھ کرشراب کی چسکیاں لے کر اپنی سارے دن کی تھکاوٹ اتاریں گے،  اور ویک اینڈ پر اپنی موٹر بوٹ لے کر کسی جھیل میں مچھلیوں کا شکار کریں گے اور مچھلی پکڑنے کے بعد اس کو دوبارہ پانی میں پھینک کر واپس آجایئں گے – ڈسلڈورف سے 7771 کلومیٹر دور جھنگ کا کسان سارا دن دھوپ میں فصلوں پر قرض پر لی گئی کیڑے مار دوا کا سپرے کرنے کے آئے گا اور اپنے نفع نقصان کا حساب کتاب کرنے کے بعد جب یہ اندازہ لگائے گا کہ اس دفعہ بھی چوہدری شوگر مل نے پیسے وقت پر ادا نہیں کرنے تو  اس کی بلا جانے کہ بانو قدسیہ کی راجہ گدھ میں حرام اور حلال کا کیا فلسفہ بیان کیا گیا ہے، یہ گدھ کیا ہوتا ہے اور بانو آپا نے اسے اتنی نفرت انگیز چیز کیوں بنا کے رکھ دیا ہے۔۔ ایسا کیوں ہے کہ جیسے جیسے گدھ کی تعداد میں کمی آ رہی ہے چوہے اور کتے اتنی ہی رفتار سے بڑھ رہے ہیں اور یہ حرام کھانے اور پینے والا ڈاکٹر لنڈسے اوکس کون ہے جو ڈکلوفیناک نامی دوا پر پابندی کا مطالبہ کر رہا ہپے کہ وہ گدھ جو 1980 تک صرف ہندوپاک میں 30 ملین تھے اور اب ہزاروں میں رہ گیے ہیں انکی افزایش کی جاسکے  اور 7771 کلومیٹر دور وہ شراب پینے والا کسان خوشحال کیوں ہے اور وہ جس نے آج تک حرام کا ایک لقمہ نہیں چکھا اس معاشی حالت بہتر کیوں نہیں؟ لیکن اسکو یہ پتہ ہے کہ گدھ حرام پر پلتا ہے اور وہ انسان بھی جو غلط کام کرتا ہے وہ گدھ بلکہ راجہ گدھ ہے اور وہ راجہ گدھ اپنے ساتھ ساتھ اپنی نسلیں بھی ڈبو کر رکھ دیتا ہے اور اسکی نسلیں معذور اور اخلاق باحتہ پیدا ہوتی ہیں! گدھ مردہ باد! خیر، جب ریل کسی اسٹیشن پہ رکتی ہے تو دو باوردی ملازمین ایک برقی پلیٹ فارم لا کر ڈبے کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور باقی مسافرین فطار بنا کر اس کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ابھی آپ ورطہء حیرت میں مبتلا ہوتے ہیں کیا ماجرا ہے تو ایک وہیل چیئر پر بیٹھا شخص نمودار ہوتا ہے، جس کو وہ برقی پلیٹ فارپ سلیقے اٹھا کر بوگی کے اندر پہنچا دیتا ہے اور وہ دروازے کے قریب خصوصی افراد کے لیئے مختص سیٹ پر آرام سے براجمان ہوجاتا ہے۔ لوگ اپنی اپنی نشتوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور ریل چل پڑتی ہے۔ ایک معذور شخص کو اتنی عزت ملتے دیکھ کر آپ حیرت میں گم ہوتے ہیں کہ یہاں پر آئے روز خصوصی افراد کو اپنے حقوق کے لیئے مال روڈ کیوں بلاک کرنا پڑتی ہے؟ گدھ مردہ باد! ریل کب جرمنی سے ہالینڈ میں داخل ہوتی ہے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ نا تو کو ئی امیگریشن کی لائن اور نا ہی کوئی خاردار تاریں یہاں اپنی ٹانگیں اٹھا اٹھا کر زمین پر مارنے اور غیر ملکی فوجیوں کو آنکھیں دکھانے کا ڈرامہ اور امیگریشن کی لمبی لمبی لایئنیں! گدھ مردہ باد! ہوائی چکیاں دکھائی دیتی ہیں جن سے اندازہ ہوتا کہ آپ ہالینڈ میں آگیے ہیں! وہی ہالینڈ جہاں  چرس تقریبا اسی طرح لیگل ہے جیسے شاہ جمال پر۔ لیکن شاہ جمال پر ڈھول کی تھاپ پر چرس صوفی نشہ بن جاتا ہے۔ گدھ مردہ باد! ایمسٹرڈیم میں اسی طرح کی ایک نہر ہے جیسے لاہور میں۔۔ ایمسٹرڈیم میں اسی طرح کا ریڈ لایٹ ایریا ہے جیسے لاہور کی ہیرا منڈی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ادھر کی نہیر میں ہر وقت پانی بہتا ہے اور ٹورسٹ اس میں کشتی رانی کرتے ہیں، بیئر پیتے ہیں اور لاہور کی نہر میں کتے، گدھے، انسان اور بھینسیں ایک ساتھ نہاتے اور رفع حاجت کرتے ہیں اور بچے بڑے سڑک کے کنارے موجود بیلنے والے سے خرید کر گدلے گلاسوں میں گنے کا جوس پیتے ہیں۔ گدھ مردہ باد!  وہاں کے ریڈ لایئٹ ایریا میں کام کرنے والی طوایفوں کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے اور یہاں کی طوایفوں کو غیر قانونی۔ گدھ مردہ باد! وہاں بھی جمہوریت ہے اور یہاں بھی۔ وہاں کی جمہوریت بھی سرمایہ دار کی مرہون منت ہے یہاں بھی – وہاں کی جمہوریت پل بڑھ کے اور جوان ہو کے اب اپنی ٹانگیں قبر میں لٹکائے بیٹھی ہے اور یہاں کی جمہوریت ابھی پالنے سے باہر آنے کا نام نہیں لے رہی۔ گدھ مردہ باد! ۔ بریگزٹ، گریٹ ولڈرز، میرین لی پین، ٹرمپ، اردگان، مودی اسی “سرمائے سے خوف” کی علامت بن گیے جس نے پہلے سرحدوں کو ختم کیا اور اب قومی ریاستوں کے وجود کے درپے ہے اور تاریخ کی دوسری طرف بھاگنے کی کوشش میں ہیں۔  وہاں پر ایپل، گوگل، اوبر، سٹاربکس تارکین وطن کی حمایت میں ساراپا احتجاج کہ ان کے بغیر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا وجود خطرے میں۔ وہی کمپنیاں جن کی وجہ سے جمہوریت کو دوم ملا! اسی سرمایہ دارانہ نظام نے اس قابل کیا کہ آج ووویجر۔1 6 بلین کلومیٹر دور سے مدہم نیلے نقطے کی تصویر بھیج چکا ہے اب اگر وہی گدھ  جمہوریت اپنی وجہ پیدایش یعنی  گدھ سودی نظام اور سودی سرمائے کے مقابلے میں “ٹرمپ” وغیرہ کی شکل میں آئے گی تو جیت کس گدھ کی ہونی ہے  یہ جاننے کے لیئے گدھ میڈیا دیکھنا اور پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ یہاں تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کس گدھ کا ساتھ دیا جائے؟ کس کے لیے یہ نعرہ لاگایا جائے کہ گدھ مردہ باد۔ کل کو گدھ سرمایہ داری اور گدھ جمہوریت کو بچانے کے لیئے گدھ سوشلزم مردہ باد کا نعرہ لگایا تھا آج کیا کریں؟ یہاں پر سرحدیں محفوظ کرنے کے لیئے جوہری میزایئل اور باڑیں اور یہ نعرہ کہ دشمن گدھ مردہ باد ۔ وہاں اگر مہاجرین کو دیس نکالا دیں ہم بھی تین تین دہایوں سے مقیم افغانوں پر زمین تنگ کریں، کہ اپنے حوف اور فکر معاش میں گھر بار چھوڑ کر آنے والے گدھ مردہ باد!! اور جب تک ادھر یہ سمجھ آنی ہے کہ جمہوریت گدھ ہے یا کوئی اور نظام! وہ نظام جس کو بچاتے بچاتے پاک سر زمین پچھلی تین دہایئوں سے لہو لہو ہے یا وہ نظام جس نے جمہوریت کو جنم دیا تب تک قومی ریاستیں اورسرحدیں قصہ پارینہ بن چکی ہوں گی، سرحدوں پردشمن فوجیوں کو آنکھیں دکھانے والے فوجی واپس بیرک میں آ گئے ہوں گے اور رانی توپوں میں زنگ لگنے کے بعد شائد کیڑے بھی پڑ چکے ہوں اور ماہرہ خان والے اشتہار کا “بس ذرا سا لکس” اپنی حکومت بنا چکا ہوگا، جمہوریت مارشل لاء کی طرح گالی بن گئی ہوگی-نجانے کونسا گدھ مردہ باد۔  جب تک ‘لکس’ کی حکومت نہیں آتی ڈسلدورف سے ایمسٹرڈیم کا سفر کرتے ہوئے بلانڈ توبہ شکن اسی طرح بیئر پیتی رہے گی اورکوئی مسافر اس کو دیکھنے کے بعد دیکھا ان دیکھا کر دے کا اور زیر لب بڑبڑائے گا  گدھ مردہ باد!

Advertisements

30 September 2015. By Staff Reporter:

5425ac0fb8390
United Nations: Nawaz Sharif during his speech in the United Nations General Assembly has vowed for a permanent seat at UNSC. Pakistan has already gained the overwhelming support from member countries already through her continuous and intense diplomatic efforts. The supporting countries included existing five permanent members.
Prime Ministers’ Speech to the assembly involved around the efforts of Pakistan to bring about the peace in the world, contribution towards achieving Human Rights goals, boosting economy, elevation of poverty and assistance paid to the neighboring countries from financial aspect. He made a solid ground regarding his plea for permanent seat. He accentuated the below major points in this regard;
“It is obvious today to the world as to why Pakistan deserves the permanent seat in UN Security Council. The world enjoys peace because of efforts of the Pakistan for bridging the gap between different civilizations, sects and religions. The once down trodden and dilapidated Afghanistan now enjoys peace is because of Pakistan who has helped Afghan people and military curb terrorism”, he proudly said.
Emphasizing on the economy and science and technology, insofar as Pakistan is concerned, he told the world, “The people of Pakistan have the largest per capita income in the world. In last five years the most research papers were published from Pakistan. In the field of space, robotics, medicine, medical sciences, agriculture sciences Pakistan has been extending the helping hand not only to its neighbors but to whole Africa and south America. Pakistan has been ranked as one of the top ranked country in export of doctors and technical staff. Pakistan has been launching the satellites for education purpose and for improving communication in the age of information not only for Pakistan but for other countries as well and has achieved numerous goals including harvesting the energy from space. There is still a lot to be done and achieve, however”.

Prime Minister also emphasized on the importance of the peace in the world. He impressed upon the world to take necessary measures as necessary to bring about peace in their countries. He said that the charity of the peace must begin at home. “Pakistan cities are amongst the top peaceful cities in the world” he mentioned providing reference to a latest survey in this regard. He also mentioned how Pakistan was striving to achieve the human rights goals. “We are striving to achieve gender equality, though Pakistan is inherently a tribal culture and patriarchal society we have achieved a lot in this regard. In Pakistan there is no minority based on ethnicity, language, race, creed or religion. In front of state all citizens are equal and Pakistani. This is what our founding father, Quaid e Azam Muhammad Ali Jinnah taught us during is 11th August 1947’s speech”.

Prime Minister Nawaz Sharif was given loud applause and the assembly went on to cheer for Pakistan for long when Prime Minister alluded to the succor provided to poor countries. “We have helped and are helping various countries set up their police systems, military, schools and colleges. Pakistan based multinational companies are doing the business from gold and copper mining and oil exploration and refining to building roads in almost all countries of the world. Some of those companies have the highest number of the employees. The Pakistan Fund for Education is renowned globally and is providing free education to the needy around the globe. The Pakistan Health Foundation is just a phone call away from anyone, since it has its presence around the globe”.

PM took this opportunity to stress on the climate change and preserving natural environment. “Today Pakistan maintains almost 25% of the forest in the country and such laws have been enacted which prevent not only cutting of the trees but also using the forest land for construction or housing purpose. Pakistan has one of the strictest environment policy”.

Nawaz Shraif iterated the fact as to how State of Pakistan resolved the Kashmir issue without indulging into any fight with India, who provoked many a times for a war, by just diplomacy and talks.

When concluding the speech he asked general assembly that it was the high time that Pakistan shall be given a permanent seat in security council in order to play a bigger role in the world politics and stabilizing the global peace.
It should be noted that Nawaz Sharif remained the focal point of the global media and his speech was broadcasted live on leading news channels with special discussion session on his speech. Nawaz Sharif’s such demand is being lauded all over the world and Pakistan is likely to become the permanent member of the UNSC in near future.

 

Note: This is a satire. I wish the above was true.